ماہنامہ انوار مدینہ لاہور مارچ 2010 |
¾اكستان Ù |
|
گزر گئیں ہیں اُن کی تفسیر کو غلط اَور تاریک خیال قرار دے دیا جائے اور پروفیسر انِ علوم ملاحدہ یورپ کی ستم ظریفیوں کو مراد ِخداوندی اَورمقصودِالہٰی بتایا جائے۔ کیا کوئی عقل مند اَور کوئی قوم اِس بات کو روا رکھتی ہے کہ کسی فوجی کالج کے سند یافتہ کوانجینئرنگ کالج کے فارغ التحصیل کو اگرچہ اُن کی ڈگریاں کتنی ہی اُونچی کیوں نہ ہوں میڈ یکل ڈیپارٹمنٹ میں کام کرنے اَور بیماروں کے معالجہ کو عمل میں لانے کی اجازت دی جائے گی؟ جبکہ وہ کسی میڈیکل کالج کی طبی سند بھی نہیں رکھتا ۔ہر شخص جانتا اَور سمجھتا ہے کہ ایسا کرنا اِنسانوں کو برباد کرنے کے مترادف ہے اَور یہ بجائے نفع کے مضرت اَور بجائے تعمیر کے تخریب کا باعث ہو گا ۔ یہی حال ایسے مفسرین کی تفسیر بالرائے کا ہے کہ سلف ِصالحین کی تفسیر اور اُصولِ دینیہ کے خلاف بجائے ہدایت ضلالت اور گمراہی کا پیش خیمہ ہو گی۔ (2) وہ (جماعت) پیغمبر اِسلام حضرت خاتم النبین ۖ کو اپنے قیاسات اَور اٹکلوں پر چلانے والا بتلاتی ہوئی تاریخی واقعات کے ذریعہ سے اَحادیث ِصحیحہ اَور حسنہ کو ردی کی ٹوکری کی نذر کرتی ہے حالانکہ آیات ِقرآنیہ اَور اَحادیث ِصحیحہ پیغمبروں کی جملہ تبلیغات کو وحی ٔخداوندی قرار دیتی ہیں، دُنیاوی مشوروں اور جزئیات ِیومیہ اَور روز مرہ کی ضروریاتِ زندگی پر اَخبار ہائے نبویہ اَور احکاماتِ سماویہ تبلیغیہ کو قیاس کرنا سراسر تلبِیس اَور مخالفت ِنصوصِ قطیہ ہے ، اِبْتِدَاعِ فِی الدِّیْن کی کھلی ہوئی تجویز ہے ۔ (3) وہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم کو سقیم یا صحیح غیر حقیقی المراد روایات کی بناء پر مثل ِ روافض غیرقابل وثوق اَور ہدف ِملامت بناتی ہے حالانکہ اُن ہی کے اعتماد اَور ثقاہت پر پیچھے آنے والوں کے لیے اِسلام کا مدار ہے ، اگر معاذ اللہ یہ اوّلین اَساتذہ ٔاِسلام غیرقابل ِاعتماد ہو گئے توتمام عمارت ِدین بالکل ڈھ جائے گی ۔قرآنِ مجید اَور اَحادیث ِصحیحہ نے جگہ جگہ پر اِن کی تعدیل کی ہے ،بے شمار اَحادیث اَور کتب ِسابقہ اِن کو معتمد علیہ اَور پُرزور اِلفاظ میں اِن کی مدح سرائی کرتے ہوئے تما م اِنسانوں سے افضل اَور اعلیٰ قرار دیتی ہیں ،اِس دروازہ کے کھلنے سے تمام دینی اُصول اَور فروع ملیا میٹ ہو جاتے ہیں۔ (4) وہ صحابہ کرام کی متعدد روایتوں کو خواہ وہ کتنی ہی صحیح کیوں نہ ہوں اُن کی خوش اعتقادی پر مبنی بناتی ہوئی واقعیت سے دُور کر دیتی ہے حالانکہ اِس دروازہ کے کھلنے سے تمام معجزات اَور اعلی ترین اخلاق و اعمالِ نبویہ کی عمارت بالکل کھوکھلی ہوجاتی ہے اِور مَلا حِدہ کو اِس سے بڑا کاری ہتھیار ہاتھ آتا ہے۔(جاری ہے)