ماہنامہ انوار مدینہ لاہور جون2009 |
¾اكستان Ù |
|
گچھ کرنی ہے تو ہم آپ کو موقع فراہم کرتے ہیں یہیں پوچھ گچھ کرلیں لیکن وہ طالب علم کو ساتھ لے جانے پر مصر رہے اور بلا آخر اُنہوں نے دباو ڈال کر مدرسہ انتظامیہ کو اِس بات پر قائل کرلیا کہ وہ بھی اِس طالب علم کے ساتھ جائیں اور سر سری پوچھ گچھ عمل مکمل ہونے بعد اِسے واپس لے آئیں۔ چنانچہ مدرسے کے دو نمائندے اُن کے ساتھ چلے گئے اُنہیں قریبی تھانے میں لے جاکر صاف جواب دے دیا گیا کہ آپ لوگ واپس چلے جائیں یہ طالب علم آپ کے ساتھ نہیں جا سکتا اور اَب صورت ِ حال یہ ہے کہ اُس تھانے کا ایس ایچ او بھی اِس طالب علم کے بارے میں اظہار ِ لا علمی کر رہا ہے۔ اسلام آباد کا ایک معیاری دینی اِدارہ جس مسجد سے ملحق ہے آج سے دس برس قبل اُس مسجد کی منتظمہ کمیٹی سے مالی خورد بُرد کے الزام میں بر طرف ہونے والے ایک شخص کو حال ہی میں دوبارہ مسجد کمیٹی میں عہدے کے حصول کا شوق چڑھا تو اُس نے اس مدرسہ کے خلاف جھوٹے الزمات پر مبنی درخواست دے دی اور پھر حساس اِداروں نے اُس شخص سے شواہد کا مطالبہ کیے بغیر مسجد ومدرسہ کے منتظمین کا ناک میں دم کیے رکھا۔ یہ تو صرف اسلام آباد کی چند مثالیں ہیں ملک کے دیگر حصوں کے مدارس کے حالات اِس سے کہیں زیادہ اَبتر ہیں۔ہم سمجھتے ہیں اِس طرح کے واقعات سے مدارس میں اِشتعال و اِنتشار پیدا ہوتا ہے نوجوان طلباء میں ردّ عمل کی سوچ پروان چڑھتی ہے جو اُنہیں تشد د پر آمادہ کرتی ہے۔ اور پھر ایسے طلباء کے دہشت گردے کے واقعات میں استعمال ہونے کا خدشہ بڑھ جاتا ہے ۔اِس صورت ِ حال میں مدارس کی نمائندہ تنظیموں اور منتظمین کے لیے یہ صورت ِ حال خاصی پریشان کن ہے، نوجوان طلباء ہم سے مسلسل پوچھتے ہیں کہ آخر ہمارا جرم کیا ہے جس کی پاداش میں ہم سے امتیازی سلوک کیا جاتا ہے؟ آخر ہم کب تک صبر کے گھونٹ پیتے رہیں گے؟ جب یہ سوچ مزید پختہ ہوتی ہے تو ایسے ناراض نوجوان مدارس کو خیرباد کہہ جاتے ہیں کیونکہ یہ طلباء جب تک مدارس کے نظم اور چار دیواری کے اندر ہوتے ہیں اُنہیں کسی منفی سر گرمی میں ملوث ہونے کی اجازت نہیں دی جاتی بلکہ داخلے کے موقع اُس سے یہ عہد لیا جاتا ہے کہ ''وہ دوران ِ تعلیم اپنی تمام تر توجہ اُصول ِ تعلیم پر مرکوز رکھیں گے ہر قسم کے لا یعنی مشاغل سے اجتناب کریں گے اور ملک میں کام کرنے والی تمام تنظیموں