ماہنامہ انوار مدینہ لاہور نومبر 2007 |
¾اكستان Ù |
|
اَللَّطَائِفُ الْاَحْمَدِےَّہ فِی الْمَنَاقِبِ الْفَاطِمِےَّہ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کے مناقب ( حضرت علامہ سےّد احمد حسن سنبھلی چشتی رحمة اللہ علیہ ) (٦٦) عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ اَتَی النَّبِیُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بَیْتَ فَاطِمَةَ فَلَمْ یَدْخُلْ عَلَیْھَا وَجَائَ عَلِیّ فَذَکَرَتْ لَہ ذٰلِکَ فَذَکَرَہ لِلنَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ اِنِّیْ رَأَیْتُ عَلٰی بَابِھَا سِتْرًا مَّوْشِیًّا فَقَالَ مَالِیْ وَلِلدُّنْیَا فَاَتَاھَا عَلِیّ فَذَکَرَ ذٰلِکَ لَھَا فَقَالَتْ لِیَأْمُرْنِیْ فِیْہِ بِمَاشَائَ قَالَ تُرْسِلُ بِہ اِلٰی فُلانِ اَھْلِ بَیْتٍ بِھِمْ حَاجَة ۔ (بخاری) ابن ِ عمر سے روایت ہے کہ حضرت رسولِ مقبول ۖ حضرت فاطمہ کے گھر تشریف لائے اور حضرت فاطمہ کے پاس اندر نہ آئے اور حضرت علی تشریف لائے تو حضرت فاطمہ نے یہ قصّہ اُن سے بیان کیا ۔پس اُنہوں نے رسولِ مقبول ۖ سے عرض کیا آپ نے جواب دیا کہ میں نے فاطمہ کے مکان کے دروازے پر پردہ دھاری دار دیکھا پھر فرمایا کیا ہے میرے لیے اور دُنیا کے لیے (یعنی مجھ سے اور دُنیا کی آرائش سے کچھ علاقہ نہیں پھر میرے اہل ِ بیت یہ سامان کیوں رکھیں)۔ پس حضرت علی حضرت فاطمہ کے پاس آئے اور یہ قصّہ اُن سے ذکر فرمایا ۔سو کہا حضرت فاطمہ نے حضور ۖ جو چاہیں اِس پردہ کے بارہ میں حکم کردیں (یعنی اِس کے بارہ میں جو رائے عالی وہ فرماویں میں تعمیل کروں گی مجھے محبوبِ خدا ۖ کی ناراضی ہرگز گوارا نہیں) ۔حضور ۖ نے فرمایا کہ فلاں گھر والے جو حاجت مند ہیں اُن کو یہ پردہ بھیج دو (وہ اپنے ضروری کام میں صرف کریں گے)