ماہنامہ انوار مدینہ لاہور نومبر 2007 |
اكستان |
|
یہاں سے حضرت فاطمہ کی محبت رسولِ خدا ۖ سے اور دُنیا سے بے رغبتی کیا کچھ ظاہر ہوتی ہے کہ وہ پردہ حرام نہ تھا فقط زُہد کے خلاف تھا اُس پر کس قدر حضورِ اقدس ۖ نے اپنی پیاری بیٹی کو تنبیہ فرمائی۔ (اَب لوگوں کا یہ حال ہے کہ اہل و عیال کو حرام باتوں سے بھی نہیں روکتے، اللہ تعالیٰ ہدایت فرماویں)۔ (٦٧) یَافَاطِمَةُ اصْبِرِیْ عَلٰی مَرَارَةِ الدُّنْیَا۔ (رواہ الحاکم کذا فی کنوز الحقائق للعلامة عبد الرؤف المناوی) فرمایا رسولِ کریم ۖ نے اے فاطمہ دُنیا کی تلخی پر صبر کر (اِس کو کنوزالحقائق میں شارح جامع صغیر نے حاکم کی روایت سے نقل کیا ہے)۔ یہ عمل تھا حضرت فاطمہ کا اور یہ تعلیم تھی رسولِ مقبول ۖ کی۔ حضرت انس کی والدہ صاحبہ نے حضور ۖ سے حضرت انس کے لیے دُعاء چاہی تھی ۔آپ کی دُعاء سے اُن کے مال و اَولاد میں بڑی کثرت ہوئی اور اپنے اہل ِ بیت کو دُنیا سے اِس قدر علیحدہ رکھا کہ قدرِ حاجت میں بھی کمی رہی۔ یہ بات سو اے سچے نبی اور عاشق ِالٰہی کے اور کون کرسکتا ہے اور سوائے سچے عاشقانِ خدا کے یہ نصیحت اور کون قبول کرسکتا ہے) (٦٨) یَافَاطِمَةُ اشْتَرِیْ نَفْسَکِ وَلَوْ بِشِقِّ تَمْرَةٍ ۔ (رواہ الدیلمی فی مسند الفردوس کذا فی الکنوز) اے فاطمہ اپنی جان کو خریدلے اگرچہ ایک ٹکڑے چھوہارے کے بدلے ہو(اس کو کنوز میں دیلمی سے روایت کیا ہے)۔ مطلب یہ ہے کہ دوزخ سے آزادی کا سامان کرو اگرچہ عمل تھوڑا ہی ہو لیکن کیے جائو، تھوڑے بہت کا خیال نہ کرو یہ تعلیم تھی جس نے عمل کراکے سردار بنادیا۔ (جاری ہے)