ماہنامہ انوار مدینہ لاہور جون 2006 |
¾اكستان Ù |
|
توہین ِ رسالت اور گستاخانِ رسول ۖ کا بدترین انجام ( حضرت مولانا مفتی عبد الرؤف صاحب سکھروی ) گستاخ یہودی عورت کا انجام : حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک یہودی عورت آنحضرت ۖ کی شان میں گستاخی اور بدتمیزی کرتی تھی۔ ایک شخص نے اُس کا گلا گھونٹ دیا اور وہ مرگئی۔ نبی اکرم ۖ نے اِس کا خون بھی معاف کردیا ۔(السیف البتار) گستاخ رسول ...... ابن ِخطل کا قتل : فتح مکہ کے موقع پر آنحضرت ۖ نے اِرشاد فرمایا چار آدمی جہاں ملیں اُنہیں قتل کردیا جائے اگرچہ کعبہ کے پردے کے نیچے ہوں ،اِن میں سے ایک عبد اللہ ابن خطل اور دوسرا حویرث ابن نقید تھا۔ عبد اللہ ابن خطل کے قتل کا حکم اس لیے فرمایا کہ پہلے یہ شخص مسلمان تھا۔ آپ ۖ نے اِسے زکوٰة وصول کرنے کے لیے روانہ کیا اِس کے ساتھ ایک انصاری صحابی اور اُس کا ایک مسلمان غلام بھی تھا جو ابن خطل کی خدمت کیا کرتا تھا۔ رات کو کسی جگہ ٹھہرے تو ابن ِخطل نے اپنے خادم غلام کو حکم دیا کہ وہ اُس کے لیے بکرا ذبح کرکے کھانا تیار کرے اور خود سوگیا۔ جب جاگا تو دیکھا کہ غلام نے کوئی چیز تیار کرکے نہیں رکھی تو غصہ میں اُس نے غلام کو قتل کردیا اور مرتد ہوکر مشرکین ِمکہ سے جاملا اور وہاں پہنچ کر ابن ِخطل نے دو باندیاں خریدیں جو گانا گاکر نعوذباللہ آپ کی ہجو کرتی تھیں اور یہ اِس سے لطف اندوز ہوتا تھا۔ اس لیے حضرت زبیر ابن العوام رضی اللہ عنہ نے اُسے قتل کیا جبکہ وہ خانہ کعبہ کے پردہ سے لٹکا ہوا تھا اور اُس کی ایک باندی بھی فتح مکہ کے موقع پر قتل کی گئی جبکہ دوسری باندی فرار ہوگئی جو بعد میں مسلمان ہوگئی۔