Deobandi Books

ماہنامہ انوار مدینہ لاہور جون 2006

¾اكستان Ù

30 - 64
یعنی اولاد ماں کی منسوب ہوتی ہے اپنے باپ کے نر رشتہ داروں کی طرف مگر امام حسن اور امام حسین رضی اللہ عنہما ( کہ وہ میری طرف باوجود نانا ہونے کے اور ماں کی نر قرابت جو باپ کی طرف سے ہے اُس کی طرف منسوب ہے) اِس لیے کہ وہ دونوں میرے بیٹے اور میرے نواسہ ہیں۔ یعنی حقیقةً نواسے اور حکماً بیٹے ہیں اور آپ  ۖ  کا برتائو اُن صاحبزادوں سے بیٹوں کا سا تھا اور اِس تخصیص کے اسباب مندرجہ ذیل ہیں  :
	 (١)  چونکہ جناب رسالت مآب  ۖ  کی اولادِ نرینہ نہ تھی پس اولاد ِدُختری اُس کے قائم مقام ہوئی۔ یہ ظاہر وجہ ہے۔ (٢)  (الف) اِن دونوں صاحبزادوں میں راز کمالی نے حضور  ۖ  کی طرف سے ایسا اثر کیا کہ جو میرات لڑکوں کو باپ سے ملتی ہے اُن پر وہ راز غالب آگیا۔ پس اس اعتبار سے یہ نسبت حضور  ۖ  کی طرف صحیح ہوئی اور میراث سے مراد کمال پیدائشی ہے جو مادہ ہے خوش اخلاقی اور معاملات ِشرعیہ کا۔ چنانچہ یہ تعلق خاص آیت تطہیر اور دوسری مذکورہ روایتوں سے بھی بخوبی ظاہر ہوچکا ہے اور آیت مباہلہ پیشتر گزرچکی ہے ۔   (ب) دونوں حضرات ِمذکورین نے یہ سرداری بتوجہ و تعلیم جناب رسول مقبول  ۖ  حاصل کی جو مثل فطرت ِکاملہ کے ہوگئی ،یہ معنی بھی نسبت ِمذکورہ کے لیے کافی ہیں۔ 
	اور دوسری وجہ سبب باطنی ہے اگر سوائے حضرت فاطمہ کے اور لڑکیوں سے بالفرض جناب رسول مقبول  ۖ  کا نسب باقی رہتا تو یہ حکم اُن کو شامل نہیں ہوسکتا تھا کیونکہ حضرت فاطمہ کے نام کی تصریح مع سباق ِکلام اُس پر واضح دلیل ہے اگرچہ بذات ِخود تمام اولاد آپ کی معظم ہے مگر کوئی خصوصیت جس کی نسبت ثابت ہوگی وہ اُسی پر مقصور رہے گی جس کے لیے ثابت ہے عام طور پر بغیر دلیل سب اولاد کو اُس میں شرکت محال اور غیر ممکن ہے۔ 
	اور واضح ہو کہ حضرات ِسادات کی لڑکیوں کی اولاد کی بھی بڑی فضیلت ہے جو اور قوموں کو حاصل نہیں اِس لیے کہ وہ اولاد ہیں جناب رسول اللہ  ۖ  کی گو خصوصیت ِمذکورہ میں شریک نہیں اور ماں کا بڑا حق ہے اور اولاد اُس کی بھی ہے باپ کی طرف منسوب ہونے سے۔ یہ خیال نہ ہو کہ ماں برائے نام ہے وجہ یہ ہے کہ معتبر حدیث سے دوچند حق ماں کا معلوم ہوتا ہے بہ نسبت باپ کے اور اِس کی علّت یہ ہے کہ ماں بہت خدمت اور شفقت کرتی ہے اور طرح طرح کی مصیبتیں گوارا کرتی ہے۔ اِس شفقت کی وجہ سے اُس کا حق بڑھ گیا جیسے کہ حضرت فاطمہ  کا نسب شریف نہایت اعلیٰ اور پاکیزہ تر ہے  (  باقی صفحہ  ٥٤  )
x
ﻧﻤﺒﺮﻣﻀﻤﻮﻥﺻﻔﺤﮧﻭاﻟﺪ
1 فہرست 1 0
2 حرف آغاز 2 1
3 درس حدیث 4 1
4 امام بخاری اور کوفہ : 5 3
5 امام اعظم کی اخذ کردہ قراء ت : 5 3
6 قرا ئٰ ت ِمتواترہ اور کوفہ : 5 3
7 فقہ حنفی کی بنیاد : 5 3
8 امام شافعی کے قول ِقدیم اور قول ِجدید کی وجہ : 6 3
9 حضرت سعد اور شان ِصدیقیت ........ صدیقیت کا مطلب : 6 3
10 مثال سے وضاحت : 7 3
11 شیطان کا انسانی صورت میں ظاہر ہونا اور حضرت یمان کی شہادت : 7 3
12 کوفہ اور حضرت سلمان : 8 3
13 اپنی نہیں دُوسرے کی تعریف : 9 3
14 محمد شفیع صاحب رحمة اللہ علیہ کا اِرسال کردہ جواب 10 1
15 ضمیمہ نمبر ١ ........ یزید اور شراب 12 14
16 مدینہ اور اہل ِشام : 14 14
17 ضمیمہ نمبر ٢ ........ قُتِلَ الْحُسَیْنُ بِسَیْفِ جَدِّہِ 16 14
18 ضمیمہ نمبر ٣ ......... بیعت ابن ِعمر رضی اللہ عنہما 20 14
19 لوٹ اور قتل عام : 23 14
20 حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کے مناقب 27 1
21 توہین ِ رسالت اور گستاخانِ رسول ۖ کا بدترین انجام 31 1
22 گستاخ یہودی عورت کا انجام : 31 21
23 گستاخ رسول ...... ابن ِخطل کا قتل : 31 21
24 راج پال ہندو کی توہین ِرسالت : 32 21
25 غازی عبد العزیز : 33 21
26 غازی علم الدین شہید کا راج پال پر حملہ : 33 21
27 غازی محمد صدیق شہید : 41 21
28 غازی عبد اللہ شہید : 42 21
29 غازی عبد الرشید شہید : 42 21
30 راہِ عمل : 43 21
31 وفیات 44 1
32 بسلسلہ اصلاح ِخواتین 45 1
33 عورتوں کے عیوب اور اَمراض 45 32
34 حب ِجاہ کا مرض : 45 32
35 تصنع و تکلف و ریاکاری : 46 32
36 یک اور مرض : 47 32
37 نبوی لیل ونہار 48 1
38 آنحضرت ۖ کی خصالِ حمیدہ اجا زت ِداخلہ کے بارے میں : 48 37
39 اصلاح ِ نیت اوردین کی دعوت 49 1
40 گلدستہ ٔ احادیث 52 1
41 تین قسم کے لوگ جنہیں دیکھ کر اللہ تعالیٰ ہنستے ہیں : 52 40
42 حضرت ابوہریرہ کو تین باتوں کی وصیت : 52 40
43 بقیہ : حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کے مناقب 53 20
44 غازی عامر چیمہ شہید کے والد پروفیسر نذیر چیمہ کاانوار مدینہ کے لیے خصوصی انٹرویو 54 1
45 سفرنامہ'' اسیرِ مالٹا حضرت مولانا عزیز گل کانفرنس'' 59 1
46 دینی مسائل 60 1
47 ( عیدین کی نماز کا بیان ) 60 46
48 عید کے دن مسنون چیزیں : 60 46
49 اخبار الجامعہ 62 1
50 بقیہ : سفرنامہ ''اسیرِ مالٹا حضرت مولانا عزیز گل کانفرنس '' 63 45
51 بقیہ : سفرنامہ ''اسیرِ مالٹا حضرت مولانا عزیز گل کانفرنس '' 64 45
Flag Counter