ماہنامہ انوار مدینہ لاہور جون 2006 |
¾اكستان Ù |
|
یعنی اولاد ماں کی منسوب ہوتی ہے اپنے باپ کے نر رشتہ داروں کی طرف مگر امام حسن اور امام حسین رضی اللہ عنہما ( کہ وہ میری طرف باوجود نانا ہونے کے اور ماں کی نر قرابت جو باپ کی طرف سے ہے اُس کی طرف منسوب ہے) اِس لیے کہ وہ دونوں میرے بیٹے اور میرے نواسہ ہیں۔ یعنی حقیقةً نواسے اور حکماً بیٹے ہیں اور آپ ۖ کا برتائو اُن صاحبزادوں سے بیٹوں کا سا تھا اور اِس تخصیص کے اسباب مندرجہ ذیل ہیں : (١) چونکہ جناب رسالت مآب ۖ کی اولادِ نرینہ نہ تھی پس اولاد ِدُختری اُس کے قائم مقام ہوئی۔ یہ ظاہر وجہ ہے۔ (٢) (الف) اِن دونوں صاحبزادوں میں راز کمالی نے حضور ۖ کی طرف سے ایسا اثر کیا کہ جو میرات لڑکوں کو باپ سے ملتی ہے اُن پر وہ راز غالب آگیا۔ پس اس اعتبار سے یہ نسبت حضور ۖ کی طرف صحیح ہوئی اور میراث سے مراد کمال پیدائشی ہے جو مادہ ہے خوش اخلاقی اور معاملات ِشرعیہ کا۔ چنانچہ یہ تعلق خاص آیت تطہیر اور دوسری مذکورہ روایتوں سے بھی بخوبی ظاہر ہوچکا ہے اور آیت مباہلہ پیشتر گزرچکی ہے ۔ (ب) دونوں حضرات ِمذکورین نے یہ سرداری بتوجہ و تعلیم جناب رسول مقبول ۖ حاصل کی جو مثل فطرت ِکاملہ کے ہوگئی ،یہ معنی بھی نسبت ِمذکورہ کے لیے کافی ہیں۔ اور دوسری وجہ سبب باطنی ہے اگر سوائے حضرت فاطمہ کے اور لڑکیوں سے بالفرض جناب رسول مقبول ۖ کا نسب باقی رہتا تو یہ حکم اُن کو شامل نہیں ہوسکتا تھا کیونکہ حضرت فاطمہ کے نام کی تصریح مع سباق ِکلام اُس پر واضح دلیل ہے اگرچہ بذات ِخود تمام اولاد آپ کی معظم ہے مگر کوئی خصوصیت جس کی نسبت ثابت ہوگی وہ اُسی پر مقصور رہے گی جس کے لیے ثابت ہے عام طور پر بغیر دلیل سب اولاد کو اُس میں شرکت محال اور غیر ممکن ہے۔ اور واضح ہو کہ حضرات ِسادات کی لڑکیوں کی اولاد کی بھی بڑی فضیلت ہے جو اور قوموں کو حاصل نہیں اِس لیے کہ وہ اولاد ہیں جناب رسول اللہ ۖ کی گو خصوصیت ِمذکورہ میں شریک نہیں اور ماں کا بڑا حق ہے اور اولاد اُس کی بھی ہے باپ کی طرف منسوب ہونے سے۔ یہ خیال نہ ہو کہ ماں برائے نام ہے وجہ یہ ہے کہ معتبر حدیث سے دوچند حق ماں کا معلوم ہوتا ہے بہ نسبت باپ کے اور اِس کی علّت یہ ہے کہ ماں بہت خدمت اور شفقت کرتی ہے اور طرح طرح کی مصیبتیں گوارا کرتی ہے۔ اِس شفقت کی وجہ سے اُس کا حق بڑھ گیا جیسے کہ حضرت فاطمہ کا نسب شریف نہایت اعلیٰ اور پاکیزہ تر ہے ( باقی صفحہ ٥٤ )