Deobandi Books

ماہنامہ انوار مدینہ لاہور جون 2006

¾اكستان Ù

28 - 64
َاِنَّہ تَابِع لِاُمِّہ لِدَلِیْلٍ آخَرَ۔ اور اِس تقریر سے وجہ خصوصیت نسبت اولاد حضرت فاطمہ بجانب والدہ ماجدہ خود بخوبی ظاہر ہوگی ،غور سے ملاحظہ فرمائیے۔
	جاننا چاہیے کہ اولاد والدین کا جز ہے اور ماں باپ دونوں کو پیدائش اولاد میں دخل ظاہر ہے چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے  یٰاَیُّھَا النَّاسُ اِنَّا خَلَقْنٰکُمْ مِّنْ ذَکَرٍ وَّاُنْثٰی  یعنی اے لوگو ہم نے تم کو نر اور مادہ سے پیدا کیا ہے اور مشاہدہ بھی اِس پر دلیل قوی ہے اور بظاہر اولاد کی پیدائش میں ماں کو زیادہ دخل ہے بہ نسبت باپ کے، اِس لیے کہ مرد سے فقط چند قطرے منی کے جدا ہوتے ہیں جن کا پیدائش مذکور میں دخل ہے اور باقی جو کچھ شکم مادر سے نکلتا ہے وہ سب ماں سے نکلتا ہے پس ضروری ہوا کہ اعضائے مَنَوِیَّہ اور اعضائے دَمَوِیَّہ ماں کے خون اور اُس کی منی سے پیدا ہوتے ہیں اور عورت کی منی کا دخل پیدائش میں ہونا معتبر حدیث میں مصرح ہے لیکن فطرت بشریہ اور شریعت ِالٰہیہ دلالت کرتی ہے اِس بات پر کہ خصوصیت اولاد کی باپ کے ساتھ زیادہ ہے بہ نسبت ماں کے ۔تقریر اِس کی یہ ہے اوّلاً یہ کہ تمام لوگ ہر ولایت کے عربی ا ور عجمی اور مشرقی اور مغربی اور اہل ِاسلام اور کفار وغیرہم اولاد کو باپ کی طرف نسبت کرتے ہیں نہ کہ ماں کی جانب۔ 
	ثانیاً یہ کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے  وَجَعَلْنَاکُمْ شُعُوْبًا وَّقَبَآئِلَ لِتَعَارَفُوْا  یعنی اور ٹھیراوے تمہارے کُنبے اور قبیلے تاکہ ایک دوسرے کو پہچانو ۔اور ظاہر ہے کہ پہچان خاندان اور ضبط قوم باپ کی طرف سے ہوتا ہے نہ کہ ماں کی طرف سے۔ 
	ثالثاً یہ کہ حق تعالیٰ نے توریت میں نسب حضرت موسٰی علیہ الصلوٰة والسلام کا حضرت آدم علیہ الصلوٰة والسلام تک ذکر کیا ہے اور سوائے باپ دادوں کے ماں کی طرف نسبت نہیں کی نیز جناب رسول مقبول  ۖ  نے بھی اپنا نسب شریف حضرت عدنان رضی اللہ عنہ تک پہنچایا اور سوائے باپ دادوں کے مائوں کا ذکر نہ فرمایا۔ 
	رابعاً یہ کہ اگر نسبت اولاد کی ماں کی طرف صحیح ہوتی مثل نسبت باپ دادوں کے تو اولاد حضرت اسمعیل   کی طرف قبط کے اور اولاد حضرت امام زین العابدین کی طرف نسبت طرف ساسانیہ کے اور نسل حضرت موسٰی کاظم کی جانب حبش کے دُرست ہوتی حالانکہ ایسا نہیں ہے۔
	 خامساً یہ کہ حق تعالیٰ نے فرمایا ہے  وَعَلَی الْمَوْلُوْدِلَہ رِزْقُھُنَّ وَکِسْوَتُھُنَّ بِالْمَعْرُوْفِ  یعنی مائوں
x
ﻧﻤﺒﺮﻣﻀﻤﻮﻥﺻﻔﺤﮧﻭاﻟﺪ
1 فہرست 1 0
2 حرف آغاز 2 1
3 درس حدیث 4 1
4 امام بخاری اور کوفہ : 5 3
5 امام اعظم کی اخذ کردہ قراء ت : 5 3
6 قرا ئٰ ت ِمتواترہ اور کوفہ : 5 3
7 فقہ حنفی کی بنیاد : 5 3
8 امام شافعی کے قول ِقدیم اور قول ِجدید کی وجہ : 6 3
9 حضرت سعد اور شان ِصدیقیت ........ صدیقیت کا مطلب : 6 3
10 مثال سے وضاحت : 7 3
11 شیطان کا انسانی صورت میں ظاہر ہونا اور حضرت یمان کی شہادت : 7 3
12 کوفہ اور حضرت سلمان : 8 3
13 اپنی نہیں دُوسرے کی تعریف : 9 3
14 محمد شفیع صاحب رحمة اللہ علیہ کا اِرسال کردہ جواب 10 1
15 ضمیمہ نمبر ١ ........ یزید اور شراب 12 14
16 مدینہ اور اہل ِشام : 14 14
17 ضمیمہ نمبر ٢ ........ قُتِلَ الْحُسَیْنُ بِسَیْفِ جَدِّہِ 16 14
18 ضمیمہ نمبر ٣ ......... بیعت ابن ِعمر رضی اللہ عنہما 20 14
19 لوٹ اور قتل عام : 23 14
20 حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کے مناقب 27 1
21 توہین ِ رسالت اور گستاخانِ رسول ۖ کا بدترین انجام 31 1
22 گستاخ یہودی عورت کا انجام : 31 21
23 گستاخ رسول ...... ابن ِخطل کا قتل : 31 21
24 راج پال ہندو کی توہین ِرسالت : 32 21
25 غازی عبد العزیز : 33 21
26 غازی علم الدین شہید کا راج پال پر حملہ : 33 21
27 غازی محمد صدیق شہید : 41 21
28 غازی عبد اللہ شہید : 42 21
29 غازی عبد الرشید شہید : 42 21
30 راہِ عمل : 43 21
31 وفیات 44 1
32 بسلسلہ اصلاح ِخواتین 45 1
33 عورتوں کے عیوب اور اَمراض 45 32
34 حب ِجاہ کا مرض : 45 32
35 تصنع و تکلف و ریاکاری : 46 32
36 یک اور مرض : 47 32
37 نبوی لیل ونہار 48 1
38 آنحضرت ۖ کی خصالِ حمیدہ اجا زت ِداخلہ کے بارے میں : 48 37
39 اصلاح ِ نیت اوردین کی دعوت 49 1
40 گلدستہ ٔ احادیث 52 1
41 تین قسم کے لوگ جنہیں دیکھ کر اللہ تعالیٰ ہنستے ہیں : 52 40
42 حضرت ابوہریرہ کو تین باتوں کی وصیت : 52 40
43 بقیہ : حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کے مناقب 53 20
44 غازی عامر چیمہ شہید کے والد پروفیسر نذیر چیمہ کاانوار مدینہ کے لیے خصوصی انٹرویو 54 1
45 سفرنامہ'' اسیرِ مالٹا حضرت مولانا عزیز گل کانفرنس'' 59 1
46 دینی مسائل 60 1
47 ( عیدین کی نماز کا بیان ) 60 46
48 عید کے دن مسنون چیزیں : 60 46
49 اخبار الجامعہ 62 1
50 بقیہ : سفرنامہ ''اسیرِ مالٹا حضرت مولانا عزیز گل کانفرنس '' 63 45
51 بقیہ : سفرنامہ ''اسیرِ مالٹا حضرت مولانا عزیز گل کانفرنس '' 64 45
Flag Counter