ماہنامہ انوار مدینہ لاہور جون 2006 |
¾اكستان Ù |
|
َاِنَّہ تَابِع لِاُمِّہ لِدَلِیْلٍ آخَرَ۔ اور اِس تقریر سے وجہ خصوصیت نسبت اولاد حضرت فاطمہ بجانب والدہ ماجدہ خود بخوبی ظاہر ہوگی ،غور سے ملاحظہ فرمائیے۔ جاننا چاہیے کہ اولاد والدین کا جز ہے اور ماں باپ دونوں کو پیدائش اولاد میں دخل ظاہر ہے چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے یٰاَیُّھَا النَّاسُ اِنَّا خَلَقْنٰکُمْ مِّنْ ذَکَرٍ وَّاُنْثٰی یعنی اے لوگو ہم نے تم کو نر اور مادہ سے پیدا کیا ہے اور مشاہدہ بھی اِس پر دلیل قوی ہے اور بظاہر اولاد کی پیدائش میں ماں کو زیادہ دخل ہے بہ نسبت باپ کے، اِس لیے کہ مرد سے فقط چند قطرے منی کے جدا ہوتے ہیں جن کا پیدائش مذکور میں دخل ہے اور باقی جو کچھ شکم مادر سے نکلتا ہے وہ سب ماں سے نکلتا ہے پس ضروری ہوا کہ اعضائے مَنَوِیَّہ اور اعضائے دَمَوِیَّہ ماں کے خون اور اُس کی منی سے پیدا ہوتے ہیں اور عورت کی منی کا دخل پیدائش میں ہونا معتبر حدیث میں مصرح ہے لیکن فطرت بشریہ اور شریعت ِالٰہیہ دلالت کرتی ہے اِس بات پر کہ خصوصیت اولاد کی باپ کے ساتھ زیادہ ہے بہ نسبت ماں کے ۔تقریر اِس کی یہ ہے اوّلاً یہ کہ تمام لوگ ہر ولایت کے عربی ا ور عجمی اور مشرقی اور مغربی اور اہل ِاسلام اور کفار وغیرہم اولاد کو باپ کی طرف نسبت کرتے ہیں نہ کہ ماں کی جانب۔ ثانیاً یہ کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے وَجَعَلْنَاکُمْ شُعُوْبًا وَّقَبَآئِلَ لِتَعَارَفُوْا یعنی اور ٹھیراوے تمہارے کُنبے اور قبیلے تاکہ ایک دوسرے کو پہچانو ۔اور ظاہر ہے کہ پہچان خاندان اور ضبط قوم باپ کی طرف سے ہوتا ہے نہ کہ ماں کی طرف سے۔ ثالثاً یہ کہ حق تعالیٰ نے توریت میں نسب حضرت موسٰی علیہ الصلوٰة والسلام کا حضرت آدم علیہ الصلوٰة والسلام تک ذکر کیا ہے اور سوائے باپ دادوں کے ماں کی طرف نسبت نہیں کی نیز جناب رسول مقبول ۖ نے بھی اپنا نسب شریف حضرت عدنان رضی اللہ عنہ تک پہنچایا اور سوائے باپ دادوں کے مائوں کا ذکر نہ فرمایا۔ رابعاً یہ کہ اگر نسبت اولاد کی ماں کی طرف صحیح ہوتی مثل نسبت باپ دادوں کے تو اولاد حضرت اسمعیل کی طرف قبط کے اور اولاد حضرت امام زین العابدین کی طرف نسبت طرف ساسانیہ کے اور نسل حضرت موسٰی کاظم کی جانب حبش کے دُرست ہوتی حالانکہ ایسا نہیں ہے۔ خامساً یہ کہ حق تعالیٰ نے فرمایا ہے وَعَلَی الْمَوْلُوْدِلَہ رِزْقُھُنَّ وَکِسْوَتُھُنَّ بِالْمَعْرُوْفِ یعنی مائوں