ماہنامہ انوار مدینہ لاہور مئی 2006 |
¾اكستان Ù |
|
نے عرض کیا کہ یارسول اللہ(ۖ) جب سے آپ ۖ نے فرمایا کہ بوڑھی عورتیں جنت میں نہیں جائیں گی یہ بڑھیا رورہی ہے۔ آپ ۖ نے فرمایا کہ اِس سے کہہ دو کہ بوڑھی عورتیں جنت میں جائیں گی مگر جوان ہوکر جائیں گی۔ ٭ آنحضرت ۖ کے ایک دیہاتی زاہر نامی دوست تھے جو اکثر آپ ۖ کو ہدیے بھیجا کرتے تھے۔ ایک روز بازار میں وہ اپنی کوئی چیز بیچ رہے تھے۔ اتفاق سے حضور اکرم ۖ اُدھر سے آنکلے، اُن کو دیکھا تو بطور ِخوش طبعی چپکے سے پیچھے سے جاکر اُن کو گود میں اُٹھالیا اور بطورِ ظرافت آواز لگائی کہ اِس غلام کو کون خریدتا ہے؟ زاہر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ مجھے چھوڑو کون ہے؟ مڑکر دیکھا تو سرورِ عالم ۖ تھے۔ حضرت زاہر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ یارسول اللہ (ۖ) مجھ جیسے غلام کو جو خریدے گا وہ نقصان اُٹھائے گا۔ آنحضرت ۖ کی محبت و خوش طبعی بچوں کے ساتھ : ٭ آنحضرت ۖ بچوں پر بہت شفقت فرماتے۔ اُن سے محبت کرتے، اُن کے سر پر ہاتھ پھیرتے، اُن کو پیار کرتے اور اُن کے حق میں دُعائے خیر فرماتے۔ ٭ بچے قریب آتے تو اُن کو گود میں لیتے۔ بڑی محبت سے اُن کو کھلاتے، کبھی بچہ کے سامنے اپنی زبانِ مبارک نکالتے، بچہ خوش ہوتا اور بہلتا۔ کبھی لیٹے ہوتے تو اپنے قدموں کے اندر کے تلوئوں پر بچہ کو بٹھالیتے اور کبھی سینۂ اطہر پر بچہ کو بٹھالیتے۔ ٭ بچہ کو کھلاتے وقت اکثر زبانِ مبارک پر یہ الفاظ ہوتے خَرَقَہْ خَرَقَہْ فِیْ عَیْنِ کُلِّ بَقَّہْ اگر یہ الفاظ بامعنی استعمال کیے گئے ہیں تو غالباً اِن کے معنی یہ ہیں (ہر مچھر کی آنکھ میں ٹڈی کا جبڑہ ہے) ممکن ہے کہ حضور اکرم ۖ نے بچوں کو کھلانے کے لیے بِلامعنی الفاظ استعمال فرمائے ہوں۔ ٭ اگر کئی بچے ایک جگہ جمع ہوتے تو آپ ۖ اُن کو ایک قطار میں کھڑا کردیتے اور آپ ۖ اپنے دونوں ہاتھوں کو پھیلاکر بیٹھ جاتے اور فرماتے کہ بھئی تم سب دوڑ کر ہمارے پاس آئو، جو بچہ ہم کو سب سے پہلے چھوئے گا ہم اُس کو یہ اور یہ دیں گے۔ بچے بھاگ کر آپ ۖ کے پاس آتے ،کوئی آپ ۖ کے پیٹ پر گرتا اور کوئی سینۂ اطہر پر۔ آپ ۖ اِن کو سینۂ مبارک سے لگاتے اور پیار کرتے۔ ٭ بچوں سے اکثر خوش طبعی فرماتے۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ کو یَاذَاالْاُذُنَیْنِ یعنی اے دو کانوں