ماہنامہ انوار مدینہ لاہور مئی 2006 |
¾اكستان Ù |
|
اگر زیادہ اوقات میں آپ ۖ کی مجلس ایک دینی درسگاہ اور تعلیمی ادارہ بنی رہتی تو کچھ دیر کے لیے خوش طبع مہذ ب دوستوں کی بیٹھک بھی بن جاتی جس میں ظرافت کی باتیں بھی ہوتیں، گھر بار کے روزانہ کے قصے بھی بیان ہوتے، غرض بے تکلفی سے آپ ۖ صحابہ رضی اللہ عنہم سے اور صحابہ آپس میں گفتگو کرتے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ آپ ۖ کی ظرافت کس طرح کی تھی؟ اِس کی تشریح کی یوں ضرورت ہے کہ بہت سے کاموں میں ہمارے غلط عمل سے ہمارے نظریے بدل چکے ہیں۔ تخیل کہاں سے کہاں چلاگیا ہے۔ ہر چیز میں ہم اعتدال کو کھوبیٹھے ہیں، اگر ہم سنجیدہ اور متین بنتے ہیں تو اِتنے کہ خوش طبعی وظرافت ہم سے کوسوں دُور رہتی ہے اور اگر خوش طبع بنتے ہیں تو اِس قدر کہ تہذیب ہم سے کوسوں دُور رہتی ہے۔ اس لیے حضور اکرم ۖ کے عمل سے ہمیں ایک خاص معیار سامنے رکھنا ہے۔ آپ ۖ کی ظرافت کی تعریف آپ ۖ ہی کی زبان مبارک سے سن لیجیے : صحابہ کرام نے آپ ۖ سے تعجب سے پوچھا کہ آپ ۖ بھی مزاق کرتے ہیں؟ تو آپ ۖ نے ارشاد فرمایا کہ ہماں بے شک مگر میرا مزاق سراسر سچائی اور حق ہے۔ اس کے مقابلے میں ہمارا آج کل کا مزاق وہ ہے جس میں جھوٹ، غیبت، بہتان، طعن و تشنیع وبے جا مبالغوں سے پورا پورا کام لیا گیا ہو۔ اب میں آنحضرت ۖ کی ظرافت کے چند واقعات قلم بند کرتا ہوں کہ جن کے ماتحت ہم ظرافت کا صحیح تخیل قائم کرسکیں۔ اسی طرح اِس کے بعد آنے والے بیان (بچوں کے ساتھ محبت) میں بھی مجھے صرف وہ واقعات ہی بیان کرنے پڑیں گے جن سے ہمیں یہ اندازہ ہوسکے گا کہ آپ ۖ کا بچوں کے ساتھ محبت کا کیا طریقہ تھا۔ ٭ ایک شخص نے خدمت ِاقدس میں حاضر ہوکر سواری کے لیے درخواست کی۔ آپ ۖ نے ارشاد فرمایا کہ میں تم کو سواری کے لیے اُونٹنی کا بچہ دوں گا۔ وہ شخص حیران ہوا کیونکہ اونٹنی کا بچہ سواری کا کام کب دے سکتا ہے۔ عرض کیا کہ یارسول اللہ (ۖ) میں اُونٹنی کے بچے کا کیا کروں گا؟ آپ ۖ نے اِرشاد فرمایا کہ کوئی اُونٹ ایسا بھی ہوتا ہے جو اُونٹنی کا بچہ نہ ہو؟ ٭ ایک مرتبہ ایک بڑھیا خدمت ِاقدس میں حاضر ہوئی اور عرض کیا کہ یارسول اللہ (ۖ) میرے لیے دُعا فرمائیں کہ اللہ تعالیٰ مجھ کو جنت نصیب کرے۔ آپ ۖ نے ارشاد فرمایا کہ بوڑھی عورتیں جنت میں نہیں جائیں گی۔ یہ فرماکر آپ ۖ نماز کے لیے تشریف لے گئے اور بڑھیا نے حضور اکرم ۖ کے الفاظ سنتے ہی زار وقطار رونا شروع کردیا۔ آپ ۖ نماز سے فارغ ہوکر تشریف لائے تو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا