Deobandi Books

ماہنامہ انوار مدینہ لاہور مئی 2006

¾اكستان Ù

49 - 64
اگر زیادہ اوقات میں آپ  ۖ  کی مجلس ایک دینی درسگاہ اور تعلیمی ادارہ بنی رہتی تو کچھ دیر کے لیے خوش طبع مہذ ب دوستوں کی بیٹھک بھی بن جاتی جس میں ظرافت کی باتیں بھی ہوتیں، گھر بار کے روزانہ کے قصے بھی بیان ہوتے، غرض بے تکلفی سے آپ  ۖ  صحابہ رضی اللہ عنہم سے اور صحابہ آپس میں گفتگو کرتے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ آپ  ۖ  کی ظرافت کس طرح کی تھی؟ اِس کی تشریح کی یوں ضرورت ہے کہ بہت سے کاموں میں ہمارے غلط عمل سے ہمارے نظریے بدل چکے ہیں۔ تخیل کہاں سے کہاں چلاگیا ہے۔ ہر چیز میں ہم اعتدال کو کھوبیٹھے ہیں، اگر ہم سنجیدہ اور متین بنتے ہیں تو اِتنے کہ خوش طبعی وظرافت ہم سے کوسوں دُور رہتی ہے اور اگر   خوش طبع بنتے ہیں تو اِس قدر کہ تہذیب ہم سے کوسوں دُور رہتی ہے۔ اس لیے حضور اکرم  ۖ  کے عمل سے ہمیں ایک خاص معیار سامنے رکھنا ہے۔ آپ  ۖ  کی ظرافت کی تعریف آپ  ۖ  ہی کی زبان مبارک سے سن لیجیے  :  صحابہ کرام نے آپ  ۖ  سے تعجب سے پوچھا کہ آپ  ۖ  بھی مزاق کرتے ہیں؟ تو آپ  ۖ  نے ارشاد فرمایا کہ ہماں بے شک مگر میرا مزاق سراسر سچائی اور حق ہے۔ اس کے مقابلے میں ہمارا آج کل کا مزاق وہ ہے جس میں جھوٹ، غیبت، بہتان، طعن و تشنیع وبے جا مبالغوں سے پورا پورا کام لیا گیا ہو۔ اب میں آنحضرت  ۖ  کی ظرافت کے چند واقعات قلم بند کرتا ہوں کہ جن کے ماتحت ہم ظرافت کا صحیح تخیل قائم کرسکیں۔ اسی طرح اِس کے بعد آنے والے بیان (بچوں کے ساتھ محبت) میں بھی مجھے صرف وہ واقعات ہی بیان کرنے پڑیں گے جن سے ہمیں یہ اندازہ ہوسکے گا کہ آپ  ۖ  کا بچوں کے ساتھ محبت کا کیا طریقہ تھا۔
	٭  ایک شخص نے خدمت ِاقدس میں حاضر ہوکر سواری کے لیے درخواست کی۔ آپ  ۖ  نے ارشاد فرمایا کہ میں تم کو سواری کے لیے اُونٹنی کا بچہ دوں گا۔ وہ شخص حیران ہوا کیونکہ اونٹنی کا بچہ سواری کا کام کب دے سکتا ہے۔ عرض کیا کہ یارسول اللہ (ۖ) میں اُونٹنی کے بچے کا کیا کروں گا؟ آپ  ۖ  نے اِرشاد فرمایا کہ کوئی اُونٹ ایسا بھی ہوتا ہے جو اُونٹنی کا بچہ نہ ہو؟ 
	٭  ایک مرتبہ ایک بڑھیا خدمت ِاقدس میں حاضر ہوئی اور عرض کیا کہ یارسول اللہ (ۖ) میرے لیے دُعا فرمائیں کہ اللہ تعالیٰ مجھ کو جنت نصیب کرے۔ آپ  ۖ  نے ارشاد فرمایا کہ بوڑھی عورتیں جنت میں نہیں جائیں گی۔ یہ فرماکر آپ  ۖ  نماز کے لیے تشریف لے گئے اور بڑھیا نے حضور اکرم  ۖ  کے الفاظ سنتے ہی زار وقطار رونا شروع کردیا۔ آپ  ۖ  نماز سے فارغ ہوکر تشریف لائے تو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا
x
ﻧﻤﺒﺮﻣﻀﻤﻮﻥﺻﻔﺤﮧﻭاﻟﺪ
1 فہرست 1 0
2 حرف آغاز 3 1
3 درس حدیث 5 1
4 نبی علیہ السلام کے ماموں ..........تیر انداز ، نشانہ باز : 5 3
5 ماموں کو دُعا : 6 3
6 یہ پہلے اسلام لانے والوں میں تھے : 6 3
7 حضرت سعد کی مشقتیں اور شرارتی لوگوں کے طعنے : 6 3
8 نماز گورنر پڑھاتے تھے اور اُس کا فائدہ : 7 3
9 حضرت سعد کی طلبی اور حضرت عمر سے گفتگو : 7 3
10 حضرت عمر اورمعاملہ کی تحقیق، مثال سے وضاحت : 7 3
11 حضرت سعد پر اعتماد کی ایک اور مثال : 8 3
12 تفتیشی افسر کی کوفہ روانگی : 8 3
13 معترض کا اعتراض : 9 3
14 حضرت سعد کی بددُعا : 9 3
15 بد دُعا کا اثر : 9 3
16 حضرت عمر کی شہادت کے وقت اِن کے حق میں اہم وصیت 10 3
17 حضرت سعد نے حضرت علی کے ہاتھ پر بیعت کرنے میں تاخیر کی مگر محاذ آرا ئی نہیں کی 10 3
18 حضرت سعد نے حضرت معاویہ کی سیاسی خواہش پوری نہیں کی 11 3
19 بیعت ِخلافت کا مطلب : 11 3
20 یزید کے متعلق سوالات اور اُن کے جوابات 12 1
21 حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کے مناقب 22 1
22 حکمت ِشہادت حضرات ِحسنین : 26 21
23 توہین ِ رسالت اور گستاخانِ رسول ۖ کا بدترین انجام 27 1
24 گستاخانِ رسول ۖ کے واقعات : 27 23
25 (١) خسر و پرویز کا قتل اور اُس کی حکومت کا خاتمہ : 27 23
26 نامۂ مبارک کا ترجمہ : 27 23
27 خسر و پرویز کی ناراضگی : 28 23
28 (٢) کعب بن اشرف یہودی کا قتل : 29 23
29 (٣) ابورافع گستاخ رسول کا انجام ِبد : 31 23
30 (٤) یہودیہ عَصْمَاء شاعرہ کا انجام : 32 23
31 (٥) یہودی شاعر کا قتل : 33 23
32 حضرت مولانا سےّد اسعد صاحب مدنی کی شخصیت وخدمات 34 1
33 حضرت امیر الہند بحیثیت شیخ ِطریقت : 34 32
34 اندازِ تربیت اصلاحِ باطن : 34 32
35 حضرت فدائے ملت کے معمولات ِماہ ِرمضان کی تفصیل : 35 32
36 آغازِ معمولات : 35 32
37 حالت ِ اعتکاف : 39 32
38 مکتوبات ِگرامی شیخ الادب حضرت مولانا محمد اعزاز علی صاحب 40 1
39 نبوی لیل ونہار 48 1
40 آنحضرت ۖ کا مزاح : 48 39
41 بسلسلہ اصلاح ِخواتین 52 1
42 عورتوں کے عیوب اور امراض 52 41
43 حرص اور دُنیا کی محبت کا مرض : 52 41
44 دُنیا کی محبت : 52 41
45 حرص : 53 41
46 تھوڑے پر قناعت نہ کرنا : 53 41
47 بکھیڑے کا مرض : 54 41
48 ضرورت سے زائد سامان جمع کرنے کی ہوس : 54 41
49 گلدستہ ٔ احادیث 55 1
50 قیامت کے دن تین آدمی مشک کے ٹیلوں پر ہوں گے : 55 49
51 تین شخصوں کے اللہ تعالیٰ ذمہ دار ہیں : 55 49
52 تین چیزیں جن کا کرنا کسی کے لیے بھی جائز نہیں : 56 49
53 تین شخص جن کی نماز اُن کے کانوں سے تجاوز نہیں کرتی : 58 49
54 تین شخص جن پر حضور علیہ السلام نے لعنت فرمائی ہے 58 49
55 تین شخص جن کی نماز اللہ تعالیٰ قبول نہیں فرماتے : 58 49
56 تین شخص جن کی نماز اُن کے سروں سے بالشت بھر بھی بلند نہیں ہوتی : 59 49
57 دینی مسائل 61 1
58 ( جمعہ کی نماز کا بیان ) 61 57
59 نماز ِجمعہ کے چند مسائل : 61 57
60 متفرق مسائل : 61 57
61 اخبار الجامعہ 63 1
Flag Counter