ماہنامہ انوار مدینہ لاہور مئی 2006 |
اكستان |
|
( ٤ )عزیز مکرم زیدت معالیکم السلام علیکم ! آپ کا خط عرصہ کے بعد آیا، خیریت معلوم ہوکر اطمینان ہوا، آپ کی دعائیں انشاء اللہ میرے لیے ذریعہ آخرت ہوں گی۔ یہ سن کر بہت خوشی ہوئی کہ آپ نے امسال بڑی بڑی کتابیں پڑھائیں اور تقریباً سب کو ختم کردیا۔ اللہ تعالیٰ آپ کی مساعی میں ترقی اور برکت عطا فرمائیں۔ آپ کے معتقدین کی یہ رائے صحیح ہے کہ آجکل سفر خطرے سے خالی نہیں ہے اس لیے بیشک سفر کا اِرادہ نہ کریں۔ قتل و غارت کچھ ایسا عام ہوگیا ہے کہ دن دہاڑے سب کچھ ہوتا ہے مگر بدمعاش گرفتار نہیں ہوتے۔ گرمی یہاں بھی سخت پڑ رہی ہے بارش بالکل نہیں ہے، دُعا فرمائیے کہ اللہ تعالیٰ بارانِ رحمت عطا فرمائے۔ والسلام محمد اعزاز علی غفرلہ' از دیوبند ٧ شعبان ٦٦ ھ جمعہ ( ٥ )جناب محترم زیدت معالیکم! پس ازسلام مسنون! آپ کا خط آیا تھا، میں نے اس کا جواب بھی روانہ کردیا تھا، معلوم ہوتا ہے کہ ضائع ہوگیا، آجکل خطوط کاضائع ہوناتعجبات میں سے نہیں ہے بلکہ خط کا پہنچ جانا لائق تعجب ہے۔ مدرسہ میں، دیوبند میں، سہارنپور میں، بحمد اللہ اب بالکل امن ہے۔ ضلع کی خوش قسمتی سے ایک کلکٹر صاحب بہت ہی زیادہ منصف مزاج، حق شناس آگئے ہیں جنہوں نے شب و روز کی محنت سے ضلع کو پر امن بنادیا ہے۔ لکھنؤ مسلم کانفرنس میں مولانا حبیب الرحمن صاحب تشریف لائے تھے، تقریر میں میں بھی تھا، کثرت ِ شرکاء کی وجہ سے نہ قریب جاسکا، نہ مصافحہ کرسکا۔ مولانا محمد یحییٰ صاحب اور حضرت مفتی نعیم صاحب سے سلام مسنون فرمادیں، آپ کے اسباق کی تفصیل سن کر دل بہت خوش ہوا ، اَللّٰہُمَّ زِدْ فَزِدْ۔