ماہنامہ انوار مدینہ لاہور مارچ 2006 |
اكستان |
|
ایک نواب زادہ نے اپنے معلم سے جو محقق تھے ا س تاریخ میں عیدی مانگی ۔انہوں نے عیدی کے پیرایہ میں اِس رسم کی خوب نفی کی ہے : آخری چہار شنبہ ماہِ صفر ہست چوں چہار شنبہ ہائے دگر نہ حدیثی شدہ درآں وارد! نہ درو عید کرد پیغمبر! ''ماہ ِ صفر کا آخری چہار شنبہ دوسرے چہار شنبوں ہی کی طرح ہے۔ نہ تو اِس (کی فضیلت)کے متعلق کوئی حدیث آئی ہے نہ اِس دن بنی علیہ السلام نے عید منا ئی ہے'' ۔ (زوال السنة عن اعمال السنة صفحہ ٨) حضرت مولانا مفتی عبدالرئوف صاحب سکھروی صفر کے متعلق دورحاضر کے لوگوں کے خیالات بیان کرتے ہوئے تحریر فرماتے ہیں : ''آج کل بھی ماہِ صفر کے متعلق عام لوگوں کے ذہن میں مختلف خیالات جمے ہوئے ہیں جن میں سے چند حسب ِذیل ہیں : بعض لوگ ماہ صفر میں شادی بیاہ اور دیگرپُر مسرت تقریبات منعقد کرنے اور اہم اُمور کا افتتاح اور ابتداء کرنے سے پرہیز کرتے ہیں اور کہا کرتے ہیں کہ صَفَر میں کی ہوئی شادی صِفَر ہوگی (یعنی ناکام ہوگی) اور اس کی وجہ عموماً ذہنوں میں یہ ہوتی ہے کہ صفر کا مہینہ نامبارک اور منحوس مہینہ ہے ،چنانچہ صفر کا مہینہ گزرنے کا انتظار کرتے ہیں اور پھر ربیع الاول کے مہینہ سے اپنی تقریبات شروع کر دیتے ہیں ۔ اس وہم پرستی کا دین سے کوئی واسطہ نہیں، یہ محض باطل ہے۔ بعض لوگ اِس دن گھروں میں اگر مٹی کے برتن ہوں تو اُن کو توڑ دیتے ہیں ۔اور اسی دن بعض لوگ چاندی کے چھلے اور تعویذات بنوا کرماہ صفر کی نحوست ، مصیبتوں اور بیماریوں سے بچنے کی غرض سے پہنا کرتے ہیں ۔یہ خالص وہم پرستی ہے جس کو ترک کرنا واجب ہے ۔ چونکہ زمانہ ٔجاہلیت میں ماہ صفر کے متعلق بکثرت مصیبتیں اور بلائیں نازل ہونے کا اعتقاد تھا، اسی بنیاد پر مذہبی لوگوں نے بھی اس ماہ کو مصیبتوں اور آفتوں سے بھر پور قرار دیا ہے حتٰی کہ