ماہنامہ انوار مدینہ لاہور جولائی 2004 |
اكستان |
|
ریال وصول کرتے ہیں۔ اللہ کا شکر ہے کہ انہیں مذہبی فریضوں کا ادراک ہے اور ان کے معلم بھی اُن کا بڑاخیال رکھتے ہیں ۔ پہلے بھی میں نے اپنی رائے دیتے ہوئے لکھا تھا کہ حج میں چالیس روز بہت زیادہ ہوتے ہیں ۔ویسے بھی چالیس نمازیں مدینہ کے لیے فرض نہیں ہیں۔ حضرت عمر تو حج کے تیسرے دن مکہ کے بازار میں نکل جاتے تھے اورحاجیوں کو واپسی کے لیے جلدی بھی کرتے تھے تاکہ خانہ کعبہ کی حرمت اور حج کا ثواب برقرار رہے ۔ ویسے بھی ہمارے حکمراں اور وزراء جو حج پر جاتے ہیں وہ تو پانچ دن میں ہی واپس آجاتے ہیں ۔میں نے اکثر حاجیوں کو حج کے بعد جن کو دس پندرہ دن رُکنا پڑتا تھا روتے دیکھا ہے وہ حج کے بعد اپنے گھر جانے کے لیے بے تاب رہتا ہے مگر اس کے ساتھ اس کی مجبوری کہ جبری رُکنا پڑتا ہے۔ ملائشیا اور سنگاپور کے حاجیوں کے ساتھ جو ہمارے ہی ہوٹل میں ٹھہرے ہوئے تھے گفتگو کرنے کا اتفاق ہوا ،اُن کے حاجیوں سے ٹورآپریٹر نے صرف 3000 سنگا پور ڈالر لیے تھے جس میں فائیو اسٹار ہوٹل میں ٹھہرنے اورتین وقت کا کھانا اور چائے سب شامل تھا ۔سنگا پور ڈالر کے مطابق یہ 1,00,000 روپے بنتے ہیں جس میںسب شامل ہے جبکہ سنگاپور کا کراچی کا فاصلہ ٥ گھنٹے زیادہ ہے۔ خود عمر ویزہ پرائیویٹ کمپنیاں35,000 روپے میں 15 دن ٹھہرارہی ہیں اس میں ستر ڈالر معلم کی فیس بھی شامل ہے ۔اگر ہم بھی پورے طریقے سے منظم طورپر آزادانہ روٹس یعنی نجی فضائی کمپنیوں کو موقع دیں تو بھارت کی طرح ہم بھی 65,000روپے میں بآسانی حج کراسکیں گے اورپی آئی اے کے کم جہازوں کی وجہ سے چالیس دن کا حج سمٹ کر 20 سے 25 دن ہوجائیگا جو حجاج کرام کے لیے بھی بہتر ہے ۔کاش ہماری وزارتِ مذہبی امور اس طرف خلوص دل سے توجہ دے تو یہ حج آسان اور سستا ہو سکتا ہے ۔جو غلطیاں ہم ماضی میں کرتے آرہے ہیں وہ آج پھر دہرا رہے ہیں اب تو 20 فیصد زیادہ ہوگئی ہیں۔ ( روزنامہ آواز 16 جون 2004ئ) حضر ت مولانا سید محمود میاں صاحب مہتمم جامعہ مدنیہ جدیدہر انگریزی مہینے کے پہلے ہفتہ کوعصر کی نماز کے بعد بمقام 537-Aفیصل ٹائون نزد جناح ہسپتال مستورات کو حدیث شریف کا درس دیتے ہیں۔ خواتین کو شرکت کی عام دعوت ہے۔(ادارہ)