ماہنامہ انوار مدینہ لاہور جون 2003 |
¾اكستان Ù |
|
سب بے ساختہ اور قلم برداشتہ لکھے گئے ہیں علم وفضل اور حکتِ ربانی کا گنجینہ ہیں علم شریعت وتصوف کے علاوہ تاریخ ،جغرافیہ اور بین الاقوامی سیاسیاتِ حاضرہ اور علی الخصوص مشرق ِوسطی کی سیاسیا ت پربڑی گہری او ر مبصرانہ نگاہ رکھتے تھے او ر اس پر برابر غور و فکر کرتے رہتے تھے کلکتہ میں ناگاہ قبائل کا تذکرہ آگیا تو مولانا نے ان قبائل کی تاریخ اور ان کی جغرافیائی پوزیشن پر اس قدر عالمانہ اور مبصرانہ تقریر کی کہ سننے والے حیران رہ گئے۔عربی زبان خالص عربی لب و لہجہ میں بولتے او ر گھنٹوں اس میں برجستہ تقریر کر سکتے تھے ۔ترکی زبان سے واقف اورمگھدی زبان سے آشناتھے اس زبان کے بعض گیت اور اشعار یاد تھے۔سلوک و معرفت میں یہ حال تھا کہ لاکھوی مسلمانوں نے تجلیۂ باطن کا فیض حاصل کیا اور رُوحانی مقامات طے کیے۔(واقعات ص٢٣٨و ٢٣٩) بد قسمتی سے مجھ کو حضرت کی صحبت و مجلس میں زیادہ رہنے کا اتفاق نہیں ہوا ۔سال بھر میں دو ایک مرتبہ شرفِ ملاقات ونیاز حاصل ہو گیا تو ہوگیا اور وہ بھی چند منٹوں کے لیے لیکن ان مختصر لمحات میں بھی جو کچھ میں نے دیکھا او ر محسوس کیا ہے اگر اسی کو قلم بند کیا جائے تو ایک طویل مقالہ تیار ہو سکتا ہے اور افسوس کہ اس وقت اس کی نہ فرصت ہے نہ دماغ ۔البتہ اس موقع پر صرف ایک واقعہ عرض کروں گا جو حضرت کی وفات سے صرف ایک ہفتہ پہلے کا ہے اور جس نے مجھ کو بے حد متاثر کیا : ٢٣ نومبر ١٩٥٧ء کو میں دیوبند پہنچا اور چند حضرات کی معیت میں دن کے گیارہ بجے حضرت کی مزاج پرسی کے لیے آپ کے مکان پر حاضرہوا حضر ت کئی ماہ سے علیل تھے اور جس روز میں پہنچا ہوں اس سے ایک ہفتہ پہلے سے طبیعت بہت ہی زیادہ خراب تھی ۔سات دن اور راتیں اس طرح گزر گئی تھیں کہ ایک لقمہ حلق سے نیچے نہیں اُترا تھا ،جو کچھ تناول فرماتے فوراً استفراغ کے ذریعہ معدے سے خارج ہو جا تا ۔ایک منٹ کے لیے پلک نہیں جھپکی تھی سونا تو بڑی بات ہے ۔ سیدھی کمر کرکے لیٹنا تک میسر نہیں ہو سکا تھاکیونکہ لیٹنے سے حوالی قلب میں شدید قسم کا درد اُٹھنے لگتا تھا مسہری پر اِدھر اُدھر تکیے لگا دیے گئے تھے او ر بس آپ انہیں کے سہارے ایک ہی وضع اور ایک ہی حالت میں بیٹھے رہتے تھے سوچنا چاہیے کہ ایک تراسی برس کا ضعیف العمر انسان جس کی ساری عمر جدوجہد و ریاضت میں بسر ہوئی اور جس نے راحت و تن آسانی کا کبھی منہ بھی نہ دیکھا ہو اور اب وہ اس قدر شدید بیمار او ر چنددر چند امراض کا شکا ر ہو تو اُس کی اس وقت کیا حالت ہونی چاہیے لیکن بایںہمہ جب مجھ کو زنا ن خانہ میں حضرت کے پاس پہنچا یا گیا تو میری حیرت کی کوئی انتہا نہ رہی میں نے