ماہنامہ انوار مدینہ لاہور جون 2003 |
اكستان |
|
مولانا(مدنی ) خاندانی یا ذاتی حیثیت سے کوئی رئیس و متمول شخص نہ تھے مگر اللہ نے ان کو بادشاہوں جیسا حوصلہ اور ظرف (خدا مجھے معاف کرے میں نے غلط کہا )بلکہ اہلِ اللہ اور نائیبین انبیاء جیسا حوصلہ اور ظرف عطا فرمایا تھا ساری زندگی الید العلیا ء خیر من الید السفلٰی پر عمل رہا ۔وہ بہت کم دوسروں کے ممنون ہوئے اور انہوں نے ایک عالم کو ممنون کیا ۔ ان کا مہمان خانہ ہندوستان کے وسیع ترین مہمان خانوں اور ان کا دستر خوان ہندوستان کے وسیع ترین دستر خوانوں میں تھا اور یہ حقیقت ہے کہ ان کا قلب اس سے بھی زیادہ وسیع تھا ۔ ضمیمہ از الحاج حضرت محمود احمد صاحب عارف خلیفہ مجاز حضرت اقدس مولانا سید حامد میاں صاحب جن دنوں حضرت مدنی قدس سرہ العزیز کا وصال ہوا قطب ارشادحضرت شاہ عبدالقادر صاحب رائپوری قدس سرہ العزیز ان دنوںصوفی عبدالمجید صاحب مرحوم کی کوٹھی واقع جیل رو ڈ (لاہور) قیام فرما تھے یہ نا چیز حضرت مولاناسید حامد میاں صاحب اور محبی سیّد انور حسین صاحب نفیس رقم کے ساتھ ایک دن بوقت عصر حضرت کی خدمت میں حاضرہوا اس مجلس میں حضرت نے کچھ اس طرح کلمات ارشاد فرمائے : ''اِدھر (پاکستان )آنے کے لیے جب میں رائپور سے سہارنپور پہنچا توحضرت شیخ کی طرف سے اشارہ ہوا کہ دیوبند سے ہو کر جا نا چاہیے اس سے پہلے میرا ارادہ دیوبند جانے کا نہ تھا مگر اس اشارہ پر میں دیوبند پہنچا ،دیوبند پہنچ کر جو میں نے حضرت (مدنی ) کو دیکھا تو جی میں خواہش پیدا ہوئی کہ میں حضرت سے عرض کروںکہ مجھے اپنے سلسلہ کی اجازت مرحمت فرمائیں مگر بعد میں اپنی حالت دیکھ کر شرم سی آئی یہ کہنے کی جرا ء ت نہ کرسکا''۔ اس مجلس کے برخاست ہونے کے بعد حضرت مولانا حامد میاں صاحب حضر ت محمود حسن صاحب بن حضرت منشی رحمت علی صاحب قدس سرہ العزیز وسیّد انور حسین صاحب نفیس رقم اس کوٹھی کے باہر برآمدہ میں نکل آئے تو مولانا حامد میاں صاحب نے اس ناچیز سے حضر ت کے ان فرمودات کے بارے میں سوال کیا کہ تم اس سے کیا سمجھے ہو ۔راقم السطور نے عرض کیا کہ ہر دو حضرات کا کمال ۔حضرت مولانا محمود حسن صاحب نے فرمایا کیسے ؟میں نے عرض کیا کہ حضرت مدنی قدس سرہ العزیز کا کمال تو حضرت نے خود بیان فرمادیا کہ حضرت کو دیکھ کہ خواہش پیدا ہوئی کہ ان سے سلسلہ عالیہ کی اجازت حاصل کروں حضرت رائے پوری قدس سرہ العزیز کا کمال فنائیت بھی اس سے ثابت ہے کہ (باقی صفحہ ٣٤ )