ماہنامہ انوار مدینہ لاہور جون 2003 |
اكستان |
|
مخالف پالیسی کے باعث شاید ان کے خیالات کو قبول نہ کیا جائے مگر ختنہ کے بارے میںاُن کی رائے افریقہ میں کی گئی تحقیق پر مبنی ہے۔ یہ تحقیق کینیا میں یونیورسٹی آف نیروبی کے اشتراک سے کی گئی ۔ڈاکٹر پلیومر اور بیلجین ڈاکٹر پیٹریاٹ کی قیادت میں ریسرچ ٹیم نے ١٩٧٦ء میں زائرے میں Ebolanirus دریافت کیا تھا ۔اب یہ اقوا م متحدہ کے ایڈز پروگرام کے سربراہ کے طورپر کام کر رہے ہیں انہوں نے ایڈز پھیلانے والے وائرس HIVکے بارے میں کئی اہم معلومات دریافت کی ہیں مثلاً یہ کہ فرد سے دوسرے فرد میں کیسے منتقل ہوتا ہے ۔مرد اور عورت کے جنسی اعضاء سے اس کا کیاتعلق ہے او ر اس کی نشو و نما کیسے ہوتی ہے؟مردوں میں کی جانے والی ریسرچ کے نتیجے میں یہ بات سامنے آتی ہے کہ کلغہ (ختنہ میں کا ٹا جانے والا حصہ )HIVکی نشوونما میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ ڈاکٹر پلیومر کا کہنا ہے کہ اب یہ حقیقت تسلیم کر لی گئی ہے کہ مردوں میں HIV انفیکشن کے سلسلہ میں کلغہ ایک اہم فیکٹر ہے ۔ڈاکٹر رونالڈکہتے ہیں کہ پہلے یہ نظریہ تھا کہHIV پیشاب والی نالی (Urethra)کے ذریعے دا خل ہوتا ہے مگر اب یہ نظریہ غلط ثابت ہو چکا ہے ۔ تازہ تحقیق کے مطابق یہ مرد کے کلغہ کی جھلی (Mucous Membrane)کے ذریعہ جسم میں داخل ہوتا ہے۔
ڈاکٹر رونالڈ کا کہنا ہے کہ کلغہ کی نمی HIVکی نشوونما کے لیے نہایت سازگار ہوتی ہے ۔اس طرح غیر مختون مردوں میں ایڈز کا تناسب بہت زیادہ ہوتا ہے اور یہ ایڈزپھیلانے میں سب سے زیادہ خطرناک ہیں۔ غیر مختون لڑکوں میں مثانے اور گردے کے انفیکشن کا خطرہ١٥ گنا زیادہ ہوتاہے ۔کلغہ ہر قسم کے جراثیم اور وائرس کے لیے ایک بہترین (Incubator) اور جنسی بیماریاں پھیلانے کا ایک بڑا ذریعہ بھی ہے۔
(جنسی تعلقات۔ اسلام اور جدید سائنس کی روشنی میں ص ٥٢ تا ٥٥)
٭گلہائے عقیدت
بحضور سرور دو عالم ۖ بس ایک مشکیزہ ، اک چٹائی
ذرا سی جو اور چارپائی بس یہی ہے کائنات اس کی
گنی نہ جائیں صفات جس کی