تحفۃ المفتی ۔ اہل علم و ارباب افتاء و قضاء کے لئے اہم ہدایات |
فادات ۔ |
|
اور تحقیر کے طور پر اعلاناً کی جائے۔ احکام ومسائل کی تحقیق میں کوئی علمی تنقید کرنا اس سے مستثنیٰ ہے اور لغت میں اس کو طعن و تشنیع کہتے بھی نہیں ۔ اس لیے دارالاسلام کے غیر مسلم باشندوں کو علمی تنقید کی تو اجازت دی جاسکتی ہے مگر اسلام پر طعنہ زنی اور تحقیر و توہین کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔ ۱؎ہٹ دھرمی کے وقت الزامی جواب دینا مناسب ہے اَمْ خَلَقْنَا الْمَلَآئِکَۃَ اِنَاثًا وَّہُمْ شَاہِدُوْنَ۔(سورۂ صٓفٓتٓ پ:۲۳) ان آیتوں سے معلوم ہوا کہ جو لوگ ہٹ دھرمی پر تلے ہوئے ہوں ان کو الزامی جواب دینا زیادہ مناسب ہے، الزامی جواب کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ ان کے دعوے کو خود انہی کے کسی دوسرے نظریہ کے ذریعہ باطل کیا جائے، اس میں یہ ضروری نہیں ہوتا کہ دوسرا نظریہ ہمیں بھی تسلیم ہے بلکہ بسااوقات وہ دوسرا نظریہ بھی غلط ہوتا ہے لیکن مخالف کو سمجھانے کے لیے اس سے کام لیا جاتا ہے، یہاں باری تعالیٰ نے ان کے عقیدے کی تردید کے لیے خود انہی کے نظریہ کو استعمال فرمایا ہے کہ بیٹیوں کا وجود باعث ننگ وعار ہے ظاہر ہے کہ اس کا یہ مطلب نہیں کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک بھی بیٹیوں کا وجود باعث ننگ ہے، نہ یہ مطلب کہ اگر وہ فرشتوں کو خدا کی بیٹیوں کے بجائے خدا کے بیٹے کہتے تو یہ درست ہوتا بلکہ یہ الزامی جواب ہے جس کا مقصد خود انہیں کے مزعومات سے ان کے عقیدے کی تردید کرنا ہے ورنہ اس قسم کے عقائد کا حقیقی جواب وہی ہے جو قرآن کریم ہی میں کئی جگہ مذکور ہے کہ اللہ تعالیٰ بے نیاز ہے اور اسے نہ کسی اولاد کی ضرورت ہے اور نہ اس کی رفعت شان کو یہ مناسب ہے کہ اس کی اولاد ہو۔۲؎ ------------------------------ ۱؎ معارف القرآن سورۂ توبہ ۴؍۳۲۴۔ ۲؎ ۱؎ معارف القرآن صٰفت ۷؍۴۸۴۔