Deobandi Books

اثمار الہدایہ شرح اردو ہدایہ جلد 1

77 - 627
(١٧) و بالمیامن)  ١ والبدایة بالمیامن فضیلة، لقولہ علیہ السلام:  ان اﷲ تعالی یحب التیامن فی کل شیء حتی التنعل، والترجل (١٨ ) و التوالی )

المرافق و امسحوا بروء سکم و ارجلکم الی الکعبین ۔آیت ٦ سورة المائدة ،٥ ۔کے شروع میں تو، ف، ہے جو تعقیب اور ترتیب کے لئے ہے لیکن چہرہ ،ہاتھ ،سر اور پائون  کے درمیان ،ف، نہیں ہے بلکہ تین  واو ہیں اور وہ جمع کے لئے آتا ہے ۔یعنی نمازکے لئے کھڑے ہوتے  وقت مجموعی طور پر ان اعضاء کو دھو لو ،چاہے پہلے دھوو یا بعد میں ۔اسلئے آیت کی وجہ سے  اعضاء دھونے کے درمیان تر تیب ثابت نہیں ہوئی ۔ہان اگر محدث ہواور نماز کے لئے کھڑے ہو رے ہو تو ترتیب یہ ہے کہ ان اعضاء کو دھو لو ۔  
 ترجمہ :  (١٧) اور دائیں جانب سے شروع کرنا ۔
 ترجمہ :   ١   اور دائیں جانب سے شروع کرنا فضیلت ہے ۔کیونکہ حضور  ۖ نے فرمایا کہ اللہ تعالی ہر چیز میں دائیں کو پسند کرتے ہیں ،یہاں تک کہ  جوتا پہننے میںاور کنگی کرنے میں  ۔حدیث یہ ہے عن عائشة قالت : کان النبی  ۖ یعجبہ التیمن فی تنعلہ ،و ترجلہ ،و طھورہ ،وفی شانہ کلہ ۔(بخاری شریف ،باب التیمن فی الوضوء و الغسل ،ص ٢٩ نمبر ١٦٨ مسلم شریف ،باب التیمن فی الطھور ،ص ١٣١،نمبر ٢٦٨ ٦١٧) اس حدیث میں ہے کہ آپ ۖ ہر اچھی چیز میں دائیں جانب کو پسند فرماتے تھے ۔اسلئے یہ مستحب ہے ۔
لغت :   میامن : یمین سے مشتق ہے ۔ دائیں جا نب سے شروع کرنا ۔تنعل : نعل سے مشتق ہے ۔جوتا پہننا ۔ترجل : کنگی کرنا۔
 ترجمہ :(١٨)التوالی :پے در پے کرنا۔  (نوٹ)التوالی کا لفظ قدوری کے بعض نسخوں  میں نہیں ہے ۔اور ھدایة میں تو ہے ہی نہیں ۔لیکن شرح  ثمیری کے نمبر کی وجہ سے اسکو دے رہا ہوں ۔اس میں اسکو ذکر کیا ہوں ۔
تشریح :  یعنی ایک عضو کو دھونے کے بعد فورا دوسرا عضو دھوئے ایسا نہیں کہ دوسرا عضو دھونے میں بہت دیر کردے یہاں تک کہ پہلا عضو خشک ہو جائے ۔
 وجہ : (١)تمام احادیث میں ذکر ہے کہ آپۖ پے در پے اعضاء دھوئے ہیں۔ ایسا نہیں ہوا کہ ایک عضو دھوکر بہت دیر کے بعد دوسرا عضو دھویا اس لئے پے در پے دھونا بھی مستحب ہے۔(٢)  حدیث میں ہے کہ درھم کی مقدار جگہ چھوٹ گئی تو دوبارہ وضوء کرنے کے لئے آپۖ نے حکم دیا۔اگر پیدرپے مستحب نہیں ہوتا تو صرف اس جگہ کو دھونے کے لئے کہہ دیتے ۔حدیث یہ ہے عن خالد عن بعض اصحاب النبی  ۖ رأی رجلا یصلی و فی ظھر قدمہ لمعة قدر الدرھم لم یصبھا الماء فامرہ النبی ۖ ان یعید الوضوء والصلاة ۔(ابوداود شریف ،باب تفریق الوضوء ،ص ٢٦ نمبر ١٧٥)   البتہ عذر کی وجہ سے دیر ہو جائے تو سنت کی 

x
ﻧﻤﺒﺮﻣﻀﻤﻮﻥﺻﻔﺤﮧﻭاﻟﺪ
1 فہرست 5 0
2 کتاب الطھارات 52 1
3 سنن الطھارة 62 2
4 مستحبات وضو کا بیان 71 3
5 نواقض وضو کا بیان 79 11
6 فصل فی الغسل 102 2
7 غسل کے فرائض کا بیان 102 6
8 غسل واجب ہونے کے اسباب 107 6
9 سنت غسل کا بیان 112 6
11 فصل فی نواقض الوضوئ 79 3
12 باب الماء الذی یجوز بہ الوضوء و ما لا یجوز بہ 117 2
13 پانی کے احکام 117 12
14 بڑے تالاب کا حساب ایک نظر میں 130 13
15 گول چیز ناپنے کافارمولہ 132 13
17 فصل فی البیر 155 12
18 کنویں کے مسائل 155 17
19 فصل فی الآسار 171 12
20 فصل جوٹھے اور اسکے علاوہ کے بارے میں 171 19
21 باب التیمم 193 2
23 باب المسح علی الخفین 227 2
24 باب الحیض و الاستحاضة 251 2
25 حیض کا بیان 251 24
26 فصل فی المستحاضة 270 24
27 فصل فی النفاس 276 24
28 نفاس کا بیان 276 27
29 باب الانجاس وتطھیرھا 283 2
30 نجاست ، اور اسکے پاک کرنے کا با ب 283 29
31 ہر ایک کے ناپاک ہو نے کی دلیل 297 29
33 درھم کی قسمیں تین ہیں 300 29
34 درھم کا حساب 300 29
36 فصل فی الاستنجاء 320 2
37 استنجاء کا بیان 320 36
38 کتاب الصلوة 329 1
39 باب المواقیت 329 38
40 فصل اوقات مستحب 342 39
41 فصل فی الاوقات التی تکرہ فیھا الصلوة 351 39
42 باب الاذان 362 38
43 باب شروط الصَّلٰوة التی تتقدمہا 385 38
44 باب صفة الصلوة 413 38
45 فصل فی القراء ة 496 44
46 باب الامامة 523 38
47 جماعت کا بیان 523 46
49 باب الحدث فی الصلوة 569 38
50 باب مایفسد الصلوٰة وما یکرہ فیہا 601 38
Flag Counter