(١٧) و بالمیامن) ١ والبدایة بالمیامن فضیلة، لقولہ علیہ السلام: ان اﷲ تعالی یحب التیامن فی کل شیء حتی التنعل، والترجل (١٨ ) و التوالی )
المرافق و امسحوا بروء سکم و ارجلکم الی الکعبین ۔آیت ٦ سورة المائدة ،٥ ۔کے شروع میں تو، ف، ہے جو تعقیب اور ترتیب کے لئے ہے لیکن چہرہ ،ہاتھ ،سر اور پائون کے درمیان ،ف، نہیں ہے بلکہ تین واو ہیں اور وہ جمع کے لئے آتا ہے ۔یعنی نمازکے لئے کھڑے ہوتے وقت مجموعی طور پر ان اعضاء کو دھو لو ،چاہے پہلے دھوو یا بعد میں ۔اسلئے آیت کی وجہ سے اعضاء دھونے کے درمیان تر تیب ثابت نہیں ہوئی ۔ہان اگر محدث ہواور نماز کے لئے کھڑے ہو رے ہو تو ترتیب یہ ہے کہ ان اعضاء کو دھو لو ۔
ترجمہ : (١٧) اور دائیں جانب سے شروع کرنا ۔
ترجمہ : ١ اور دائیں جانب سے شروع کرنا فضیلت ہے ۔کیونکہ حضور ۖ نے فرمایا کہ اللہ تعالی ہر چیز میں دائیں کو پسند کرتے ہیں ،یہاں تک کہ جوتا پہننے میںاور کنگی کرنے میں ۔حدیث یہ ہے عن عائشة قالت : کان النبی ۖ یعجبہ التیمن فی تنعلہ ،و ترجلہ ،و طھورہ ،وفی شانہ کلہ ۔(بخاری شریف ،باب التیمن فی الوضوء و الغسل ،ص ٢٩ نمبر ١٦٨ مسلم شریف ،باب التیمن فی الطھور ،ص ١٣١،نمبر ٢٦٨ ٦١٧) اس حدیث میں ہے کہ آپ ۖ ہر اچھی چیز میں دائیں جانب کو پسند فرماتے تھے ۔اسلئے یہ مستحب ہے ۔
لغت : میامن : یمین سے مشتق ہے ۔ دائیں جا نب سے شروع کرنا ۔تنعل : نعل سے مشتق ہے ۔جوتا پہننا ۔ترجل : کنگی کرنا۔
ترجمہ :(١٨)التوالی :پے در پے کرنا۔ (نوٹ)التوالی کا لفظ قدوری کے بعض نسخوں میں نہیں ہے ۔اور ھدایة میں تو ہے ہی نہیں ۔لیکن شرح ثمیری کے نمبر کی وجہ سے اسکو دے رہا ہوں ۔اس میں اسکو ذکر کیا ہوں ۔
تشریح : یعنی ایک عضو کو دھونے کے بعد فورا دوسرا عضو دھوئے ایسا نہیں کہ دوسرا عضو دھونے میں بہت دیر کردے یہاں تک کہ پہلا عضو خشک ہو جائے ۔
وجہ : (١)تمام احادیث میں ذکر ہے کہ آپۖ پے در پے اعضاء دھوئے ہیں۔ ایسا نہیں ہوا کہ ایک عضو دھوکر بہت دیر کے بعد دوسرا عضو دھویا اس لئے پے در پے دھونا بھی مستحب ہے۔(٢) حدیث میں ہے کہ درھم کی مقدار جگہ چھوٹ گئی تو دوبارہ وضوء کرنے کے لئے آپۖ نے حکم دیا۔اگر پیدرپے مستحب نہیں ہوتا تو صرف اس جگہ کو دھونے کے لئے کہہ دیتے ۔حدیث یہ ہے عن خالد عن بعض اصحاب النبی ۖ رأی رجلا یصلی و فی ظھر قدمہ لمعة قدر الدرھم لم یصبھا الماء فامرہ النبی ۖ ان یعید الوضوء والصلاة ۔(ابوداود شریف ،باب تفریق الوضوء ،ص ٢٦ نمبر ١٧٥) البتہ عذر کی وجہ سے دیر ہو جائے تو سنت کی