(باب الحدث فی الصلوة)
(٣٧٤) ومن سبقہ الحدث فی الصلوٰة انصرف فان کان اماما استخلف وتوضأ وبنی ) ١ والقیاس ان یستقبل وہو قول الشافعی لان الحدث ینافیہا والمشی والانحراف یفسد انہا فاشبہ الحدث العمد
(باب الحدث فی الصلوٰة)
ترجمہ: (٣٧٤) اگر خود بخود حدث ہو جائے تو واپس لوٹے گا اور وضو کرے گا پس اگر امام ہو تو خلیفہ بنائے ، اور وضو کرے اور بناء کرے ۔
تشریح : کسی کو خود بخود حدث ہو گیا ہو تو واپس جا کر وضو کرے گا اور واپس آکرپہلی نماز پر بنا کرے گا۔اگر پہلے مثلا ظہر کی دو رکعت پڑھ چکا ہے تو وضو سے واپس آکر دو رکعت اور پڑھ کر چار رکعت پوری کرے گا۔لیکن اس کے لئے چار شرطیں ہیں ]١[ اس درمیان دوبارہ جان کر حدث نہ کیا ہو]٢[ بات نہ کی ہو ]٣[ نماز ٹوٹنے کا اور کوئی کام نہ کیا ہو ]٤[ اور ضرورت سے زیادہ نہ ٹھہرا ہو۔تو بنا کر سکتا ہے۔اور اگر ان میں سے کوئی ایک کام کر لیا تو شروع سے نماز پڑھے گا۔اور یہ جو آیا گیا ،قبلہ سے سینہ پھرا یہ معاف ہے۔ کیونکہ حدیث میں ہے اس لئے خلاف قیاس اس کو جائز قرار دیا ہے۔یہی وجہ ہے کہ جو حدث باربار ہو سکتا ہے اسی میں بنا ء کر سکتا ہے۔ لیکن جو حدث کبھی کھبار ہوتا ہے جیسے احتلام ہوتا تو اس میں بناء نہیں کرے گا بلکہ شروع سے نماز پڑھے گا۔
وجہ: (١)عن عائشة قالت قال رسول اللہ ۖ: من اصابہ قیء او رعاف او قلس او مذی فلینصرف فلیتوضأ ثم لیبن علی صلوتہ وھو فی ذلک لا یتکلم ۔ (ابن ماجہ شریف ، باب ماجاء فی البناء علی الصلوة ص ١٧١، نمبر ١٢٢١ دار قطنی ، باب فی الوضوء من الخارج من البدن کالرعاف الخ ،ج اول ، ص ١٦٠ نمبر ٥٥٥) اس حدیث سے معلوم ہوا کہ بنا ء کر سکتا ہے۔لیکن شروع سے نماز پڑھے تو بہتر ہے۔ کیونکہ یہ مسئلہ خلاف قیاس ہے۔
ترجمہ: ١ قیاس کا تقاضا یہ ہے کہ شروع سے نماز پڑھے اور یہی امام شافعی کا قول ہے ، اس لئے کہ حدث نماز کے منافی ہے ، اور چلنا اور قبلے سے پھر جانا نماز کو فاسد کر تا ہے ، تو ایسا ہو گیا کہ جان کر حدث کیا ہو ۔
تشریح : قیاس کا تقاضا ہے کہ نماز کو پہلی نماز پر بنا ء نہ کرے بلکہ شروع سے نماز پڑھے ، ]١[کیونکہ حدث ہو نا خود نماز کے خلاف ہے ]٢[ پھر وضو کر نے کے لئے جائے گا تو چلے گا یہ بھی نماز کو توڑنے والی چیز ہے ]٣[ پھر جب وضو کر نے جائے گا توسینہ قبلے سے پھرے گا یہ بھی نماز کو توڑنے والی چیز ہے ، تو یہ تمام باتیں نماز کو توڑنے والی ہیں اسلئے قیاس کا تقاضا یہ ہے کہ نماز ٹوٹ گئی اور نماز کو شروع سے پڑھے ۔کیونکہ یہ ایسا ہو گیا کہ جان کر حدث کیا ہو ، اور جان کر حدث کیا ہو تو شروع سے نماز پڑھنی پڑھتی ہے تو یہاں بھی