Deobandi Books

اثمار الہدایہ شرح اردو ہدایہ جلد 1

76 - 627
٢  وعند الشافعی فرض، لقولہ تعالی، فاغسلوا وجوھکم،الآیة، والفاء للتعقیب٣  ولنا ان المذکور فیھا حرف الواووھی لمطلق الجمع باجماع اھل اللغہ فتقتضی اعقاب غسل جملة الاعضاء 

مواظبت کرنے  سے ترتیب سنت ہے (٣) اذا قمتم الی الصلوة فاغسلوا وجوھکم الآیة میں فاغسلوا کی ف تعقیب کے لئے ہے ۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر نماز کے لئے کھڑے ہو تو پہلے چہرہ دھوؤ جب کھڑے ہونے اور چہرہ دھونے میں ترتیب ہوئی تو باقی اعضا میں بھی ترتیب ہونی چاہئے اس لئے وضو میں ترتیب سنت ہے۔ لیکن یہ ترتیب واجب نہیں ہے جیسا کہ امام شافعی نے فرمایا کیونکہ (١) اوپر کے دلائل سنت پر دلالت کرتے ہیں وجوب پر نہیں (٢) حضرت علی  نے فرمایا تھا  ما ابالی اذا اتممت وضوئی بای اعضائی بدأت(دار قطنی ، باب ما روی فی جواز تقدیم غسل الید الیسری علی الیمنی ج اول ص ٩٢ حدیث نمبر ٢٨٩ سنن للبیھقی ،باب الرخصة فی البدائة بالیسار ج اول ص١٤٠،نمبر ٤٠٦)  (٣)تیمم میں چہرے پر پہلے مسح کیا جاتا ہے پھر ہاتھ پر لیکن اسکے خلاف کرنا بھی ثابت ہے ،جس سے معلوم ہوا کہ ترتیب واجب نہیں ۔حدیث کا ٹکڑا یہ ہے ۔کنت جالسا بین عبد اللہ و ابی موسی ....ثم اتیت النبی  ۖ فذکرت ذالک لہ ....ثم ضرب  بشمالہ علی یمینہ ،و بیمینہ علی شمالہ علی الکفین ،ثم مسح وجھہ (ابوداود شریف ،باب التیمم،ص ٥٠ نمبر ٣٢١ ) اس حدیث میں تیمم میں چہرے کا مسح بعد میں فرمایا جس سے معلوم ہوا کہ وضوء میں ترتیب واجب نہیں ہے ۔ 
 ترجمہ :  ٢   اور امام شافعی  کے نزدیک ترتیب فرض ہے ،فاغسلوا وجوھکم ،آیت کیوجہ سے کیونکہ اس آیت میں ف تعقیب کے لئے ہے ۔
تشریح :  امام شافعی  کے نزدیک وضوء میں ترتیب ضروری ہے ۔
وجہ :   (١) آیت میں ہے کہ نماز کا  ارادہ کرو تو چہرے کو دھوو،یہاں ،ف،ترتیب کے لئے ہے اسلئے باقی اعضاء کے دھونے میں بھی ترتیب ہونی چاہئے ۔(٢)صفا اور مروہ کی سعی میں آپ ۖنے ترتیب کا حکم فرمایا اور صفا سے سعی شروع کی اسلئے یہاں بھی ترتیب ضروری ہوگی ۔لمبی حدیث کا ٹکڑا یہ ہے۔قال دخلنا علی جابر بن عبد اللہ ...فلما دنا من الصفا قرأ (ان الصفا و المروة من شعآئر اللہ )آیت ١٥٨ سورة البقرة ،ابدأبما بدأ اللہ بہ ،فبدأ بالصفا۔(مسلم باب حجة النبی  ۖ ، ص ٣٩٤ نمبر ٢٩٥٠١٢١٨)اس حدیث میں آیت کے مطابق ترتیب کا حکمدیا گیا ہے اسلئے وضوء میں بھی ترتیب ضروری ہوگی ۔
 ترجمہ :  ٣  ہماری دلیل یہ ہے کہ آیت کے درمیان جو ذکر کیا گیا ہے وہ حرف واو ہے ،اور تمام اھل لغت کا اجماع ہے کہ واو مطلق جمع کے لئے آتا ہے ،جسکا تقاضا یہ ہے کہ نماز کے ارادے کے بعد تمام اعضاء کو دھو لے ۔
تشریح : ہماری دلیل یہ ہے کہ آیت ۔یآیھا الذین آمنوا اذا قمتم الی الصلوة  فاغسلوا وجوھکم وایدیکم الی 

x
ﻧﻤﺒﺮﻣﻀﻤﻮﻥﺻﻔﺤﮧﻭاﻟﺪ
1 فہرست 5 0
2 کتاب الطھارات 52 1
3 سنن الطھارة 62 2
4 مستحبات وضو کا بیان 71 3
5 نواقض وضو کا بیان 79 11
6 فصل فی الغسل 102 2
7 غسل کے فرائض کا بیان 102 6
8 غسل واجب ہونے کے اسباب 107 6
9 سنت غسل کا بیان 112 6
11 فصل فی نواقض الوضوئ 79 3
12 باب الماء الذی یجوز بہ الوضوء و ما لا یجوز بہ 117 2
13 پانی کے احکام 117 12
14 بڑے تالاب کا حساب ایک نظر میں 130 13
15 گول چیز ناپنے کافارمولہ 132 13
17 فصل فی البیر 155 12
18 کنویں کے مسائل 155 17
19 فصل فی الآسار 171 12
20 فصل جوٹھے اور اسکے علاوہ کے بارے میں 171 19
21 باب التیمم 193 2
23 باب المسح علی الخفین 227 2
24 باب الحیض و الاستحاضة 251 2
25 حیض کا بیان 251 24
26 فصل فی المستحاضة 270 24
27 فصل فی النفاس 276 24
28 نفاس کا بیان 276 27
29 باب الانجاس وتطھیرھا 283 2
30 نجاست ، اور اسکے پاک کرنے کا با ب 283 29
31 ہر ایک کے ناپاک ہو نے کی دلیل 297 29
33 درھم کی قسمیں تین ہیں 300 29
34 درھم کا حساب 300 29
36 فصل فی الاستنجاء 320 2
37 استنجاء کا بیان 320 36
38 کتاب الصلوة 329 1
39 باب المواقیت 329 38
40 فصل اوقات مستحب 342 39
41 فصل فی الاوقات التی تکرہ فیھا الصلوة 351 39
42 باب الاذان 362 38
43 باب شروط الصَّلٰوة التی تتقدمہا 385 38
44 باب صفة الصلوة 413 38
45 فصل فی القراء ة 496 44
46 باب الامامة 523 38
47 جماعت کا بیان 523 46
49 باب الحدث فی الصلوة 569 38
50 باب مایفسد الصلوٰة وما یکرہ فیہا 601 38
Flag Counter