٢ وعند الشافعی فرض، لقولہ تعالی، فاغسلوا وجوھکم،الآیة، والفاء للتعقیب٣ ولنا ان المذکور فیھا حرف الواووھی لمطلق الجمع باجماع اھل اللغہ فتقتضی اعقاب غسل جملة الاعضاء
مواظبت کرنے سے ترتیب سنت ہے (٣) اذا قمتم الی الصلوة فاغسلوا وجوھکم الآیة میں فاغسلوا کی ف تعقیب کے لئے ہے ۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر نماز کے لئے کھڑے ہو تو پہلے چہرہ دھوؤ جب کھڑے ہونے اور چہرہ دھونے میں ترتیب ہوئی تو باقی اعضا میں بھی ترتیب ہونی چاہئے اس لئے وضو میں ترتیب سنت ہے۔ لیکن یہ ترتیب واجب نہیں ہے جیسا کہ امام شافعی نے فرمایا کیونکہ (١) اوپر کے دلائل سنت پر دلالت کرتے ہیں وجوب پر نہیں (٢) حضرت علی نے فرمایا تھا ما ابالی اذا اتممت وضوئی بای اعضائی بدأت(دار قطنی ، باب ما روی فی جواز تقدیم غسل الید الیسری علی الیمنی ج اول ص ٩٢ حدیث نمبر ٢٨٩ سنن للبیھقی ،باب الرخصة فی البدائة بالیسار ج اول ص١٤٠،نمبر ٤٠٦) (٣)تیمم میں چہرے پر پہلے مسح کیا جاتا ہے پھر ہاتھ پر لیکن اسکے خلاف کرنا بھی ثابت ہے ،جس سے معلوم ہوا کہ ترتیب واجب نہیں ۔حدیث کا ٹکڑا یہ ہے ۔کنت جالسا بین عبد اللہ و ابی موسی ....ثم اتیت النبی ۖ فذکرت ذالک لہ ....ثم ضرب بشمالہ علی یمینہ ،و بیمینہ علی شمالہ علی الکفین ،ثم مسح وجھہ (ابوداود شریف ،باب التیمم،ص ٥٠ نمبر ٣٢١ ) اس حدیث میں تیمم میں چہرے کا مسح بعد میں فرمایا جس سے معلوم ہوا کہ وضوء میں ترتیب واجب نہیں ہے ۔
ترجمہ : ٢ اور امام شافعی کے نزدیک ترتیب فرض ہے ،فاغسلوا وجوھکم ،آیت کیوجہ سے کیونکہ اس آیت میں ف تعقیب کے لئے ہے ۔
تشریح : امام شافعی کے نزدیک وضوء میں ترتیب ضروری ہے ۔
وجہ : (١) آیت میں ہے کہ نماز کا ارادہ کرو تو چہرے کو دھوو،یہاں ،ف،ترتیب کے لئے ہے اسلئے باقی اعضاء کے دھونے میں بھی ترتیب ہونی چاہئے ۔(٢)صفا اور مروہ کی سعی میں آپ ۖنے ترتیب کا حکم فرمایا اور صفا سے سعی شروع کی اسلئے یہاں بھی ترتیب ضروری ہوگی ۔لمبی حدیث کا ٹکڑا یہ ہے۔قال دخلنا علی جابر بن عبد اللہ ...فلما دنا من الصفا قرأ (ان الصفا و المروة من شعآئر اللہ )آیت ١٥٨ سورة البقرة ،ابدأبما بدأ اللہ بہ ،فبدأ بالصفا۔(مسلم باب حجة النبی ۖ ، ص ٣٩٤ نمبر ٢٩٥٠١٢١٨)اس حدیث میں آیت کے مطابق ترتیب کا حکمدیا گیا ہے اسلئے وضوء میں بھی ترتیب ضروری ہوگی ۔
ترجمہ : ٣ ہماری دلیل یہ ہے کہ آیت کے درمیان جو ذکر کیا گیا ہے وہ حرف واو ہے ،اور تمام اھل لغت کا اجماع ہے کہ واو مطلق جمع کے لئے آتا ہے ،جسکا تقاضا یہ ہے کہ نماز کے ارادے کے بعد تمام اعضاء کو دھو لے ۔
تشریح : ہماری دلیل یہ ہے کہ آیت ۔یآیھا الذین آمنوا اذا قمتم الی الصلوة فاغسلوا وجوھکم وایدیکم الی