٥ و یروی من حیث الوزن و ھو الدرھم الکبیر المثقال : و ھو ما یبلغ وزنہ مثقالاً، ٦و قیل فی التوفیق بینھما ان الاولی فی الرقیق و الثانیة فی الکثیف
ترجمہ: ٥ اور روایت کیا ہے وزن کے اعتبار سے وہ بڑامثقال والا درھم ہے جسکا وزن ایک مثقال پہنچتا ہو ۔
تشریح : اگر درھم کے وزن کا اعتبار کیا جائے تو اس درھم کا اعتبار ہو گا جو بڑا درھم ہے اور اسکا وزن ایک مثقال ہے ۔جو 4.375گرام کا ہوتا ہے ۔یہ حساب احسن الفتاوی ، ج رابع ، ص ٤١٦ ۔ سے لیا گیا ہے
(درھم کی قسمیں تین ہیں )
(١) ایک بڑا درھم جسکا وزن ایک مثقال ہو تا ہے ، یا 20 قیراط ہے ، یا 0.375تولہ ،یا 4.375گرام کا ہو تا ہے۔
(٢) دوسرا درھم اس سے چھوٹا ہو تاہے جسکا وزن 0.7مثقال، یا 14قیراط ،0.262تولہ ،یا 3.061گرام ہو تا ہے ۔ابھی اسی درھم سے زکوة کا حساب کر تے ہیں ۔نیچے سارا حساب اسی درھم کا دیا ہے ، کیونکہ اسی کا اعتبار ہے اس درھم کو وزن سبعہ کہتے ہیں
(٣) ایک تیسرا درھم اس سے چھو ٹا ہو تا تھا جسکا وزن 0,5مثقال ، یا 10قیراط ، یا 0.1875تولہ ، یا 2.1875گرام وزن ہو تا ہے ۔ یہ درھم اور بڑا درہم اب نہیں ہیں اسکو حضرت عمر نے ختم فرما دیا تھا ۔
ترجمہ: ٦ اور کہا گیا ہے کہ دونوں کے درمیان ترتیب یہ ہے کہ پہلی یعنی مساحت والی پتلی نجاست میں ہے اور دوسری یعنی وزن والی گاڑھی نجاست میں ہے ۔
تشریح : اوپر درھم کے بارے میں دو قسم کی باتیں آئیں ، ایک یہ کہ اسکے وزن کا اعتبار کیا جائے اور دوسری یہ کہ اسکی مساحت یعنی رقبے کا اعتبار کیا جائے تو دونوں قولوں میں ترتیب یہ دے رہے ہیں کہ جس قول میں مساحت کا اعتبار کیا گیا ہے وہ پتلی نجاست کے بارے میں ہے۔کہ پتلی نجاست ہو تو درھم کے رقبے کا اعتبار کیا جائے اور 2.75سینٹی میٹر نجاست ہو تو جگہ ناپاک ہو گی ، اور جس قول میں وزن کا اعتبار ہے اسکا مطلب یہ ہے کہ نجاست گاڑھی ہو تو درھم کے وزن کا اعتبار کیا جائے اور 4.374گرام وزن نجاست ہو تو جگہ ناپاک قرار دیا جائے چاہے رقبے کے اعتبار سے 2.75سینٹی میٹر سے کم رقبے پر ہی نجاست لگی ہو
(درھم کا حساب )
نوٹ : باب احکام المیاہ مسئلہ نمبر ٤٦، کے تحت ناپ کا فارمولہ مذکور ہے اور وہیں پائی 3.1416یا 22 بٹہ 7 یعنی 22کو 7سے تقسیم دیں اسکو پائی کہتے ہیں جو کسی گول چیز کوناپنے کے لئے بہت ضروری ہے
حساب : کسی بھی گول چیز کی درمیانی قطر کو ناپ لیں پھر اسکو پائی 3.1416سے ضرب دیں تو اس چیز کی گولائی معلوم ہو جائے گی ۔