٥ ولان المفروض ھو المسح، و بالتکرار یصیر غسلا فلایکون مسنونا ٦فصار کمسح الخف
٧ بخلاف الغسل لانہ لا یضر ہ التکرار (١٦) و یرتب الوضوء فیبدأ بما بدأ اﷲ تعالی بذکرہ)
١ و الترتیب فی الوضوء سنة عندنا
سر پر مسح کیا ۔اور ایسا کرنا امام ابوحنیفة کے نزدیک بھی جائز ہے ۔البتہ تین مرتبہ الگ الگ پانی لیکر مسح کرنا ہمارے یہاں مستحب نہیں کیونکہ یہ غسل ہو جائے گا ۔
ترجمہ : ٥ اور اسلئے کہ مسح فرض ہے اور تین مرتبہ نیاپانی لیکر تکرار سے غسل ہو جائے گا اسلئے مسنون نہیں ہونا چاہئے ۔
ترجمہ : ٦ اسلئے موزے کے مسح کی طرح ہو گیا ۔
تشریح : موزے پر مسح ایک مرتبہ کرتے ہیں تین مرتبہ نہیں کرتے ۔اور سر پر مسح بھی مسح ہے اسلئے اسکو بھی ایک ہی مرتبہ کرنا چاہئے ۔
ترجمہ : ٧ بخلاف دھونے کے کہ اسکو کئی بار کرنا نقصان نہیں کرتا ۔
تشریح : جن اعضاء کو دھونا ہے اسکو تین مرتبہ بھی دھوئیں تو دھونا ہی رہے گا ۔اسلئے اسکو تین مرتبہ دھونے میں کوئی حرج نہیں ۔ لیکن نئے پانی سے تین مرتبہ مسح کریں تو وہ مسح باقی نہیں رہے گا بلکہ وہ غسل ہو جائے گا ،اسلئے نئے پانی سے تین مرتبہ مسح کرنا مسنون نہیں ہونا چاہئے ۔
لغت : یستوعب : گھیرے، احاطہ کرے
نوٹ : مسح کے لئے ایک مرتبہ نیا پانی لینا سنت ہے ۔
وجہ : ومسح برأسہ بماء غیر فضل یدہ (مسلم شریف ، باب آخر فی صفة الوضوء ص ١٢٣ نمبر ٥٥٩٢٣٦)کہ آپ ۖ نے ہاتھ کے پانی کے علاوہ سے سر کا مسح فرمایا ،یعنی الگ سے پانی لیا ۔
ترجمہ :(١٦) ترتیب سے وضو کرے، پس وہاں سے شروع کرے جس کو اللہ نے پہلے ذکر کیا ہے۔
ترجمہ : ١ اور ترتیب وضوء میں ہمارے نزدیک سنت ہے
تشریح : اللہ نے قرآن کریم میں پہلے چہرے کو پھر ہاتھ کو پھر سر پر مسح کرنا پھر پاؤں کو دھونا ذکر کیا ہے تو اسی ترتیب سے وضو کرنا سنت ہے۔ اس کے خلاف کریگا تو وضو ہو جائیگا لیکن سنت کی ادائیگی نہیں ہوگی۔
وجہ : (١) قرآن نے جس ترتیب سے اعضاء وضوء کو ذکر کیا ہے اس کی کوئی نہ کوئی حکمت ہوگی اس لئے اس ترتیب سے وضو کرنا سنت ہے (٢) تقریبا تمام احادیث میں اسی ترتیب سے اعضاء دھونا مذکور ہے جس ترتیب سے قرآن میں ذکر ہے۔اس لئے حضور کی