Deobandi Books

اثمار الہدایہ شرح اردو ہدایہ جلد 1

74 - 627
 ٢ وقال الشافعی  السنة ھو التثلیث بمیاہ مختلفة اعتباراً بالمغسول، ٣   ولناان انسا توضأ ثلاثا ثلاثاومسح برأسہ مرةواحدةوقال ھٰذاوضوء رسول اﷲں ٤  والذی یروی من التثلیث محمول علیہ بماء واحد و ھومشروع علی ماروی عن ابی حنیفة 

مرتبہ مسح کرنا سنت ہے۔
 نوٹ :  جن احادیث میں تین مرتبہ مسح کرنے کا تذکرہ ہے وہ ایک ہی پانی سے پورے سر کو گھیرنے کے لئے تین مرتبہ کیا گیا ہے۔ اور یہ تو ہم بھی کہتے ہیں کہ ایک پانی سے ہاتھ کو تین مرتبہ سر پر پھیرا جائے تاکہ اچھی طرح پورے سر پر مسح ہو جائے۔
 ترجمہ :  ٢  امام شافعی  نے فرمایا سر کے مسح میں سنت تین مرتبہ ہے مختلف پانی سے ۔اعضاے مغسولہ پر قیاس کرتے ہوئے ۔
 تشریح :  امام شافعی فرماتے ہیں کہ تین مرتبہ مسح کرے اور تینوں مرتبہ نیا پانی لینا سنت ہے۔ موسوعة میں  عبارت یہ ہے ۔قال الشافعی : و احب لو مسح رأسہ ثلاثا ۔(موسوعة ،باب مسح الرأس ،ص ١١٥ نمبر ٣٩٧ ) انکا   استدلال اس حدیث سے ہے قال : رأیت عثمان بن عفان غسل ذراعیہ ثلاثا ثلاثا و مسح رأسہ ثلاثا ثم قال : رأیت رسول اللہ  ۖ فعل ھذا  (ابو داؤد، باب صفة وضوء النبی ۖ ص ١٦ نمبر١١٠)(٢) فمسح برأسہ فاقبل بھما وادبر بدء بمقدم رأسہ ثم ذھب بھما الی قفاة ثم ردھما حتی رجع الی المکان الذی بدء منہ وغسل رجلیہ (مسلم شریف، باب آخر فی صفة الوضوء ص ١٢٣ نمبر ٥٥٧٢٣٥بخاری شریف ،باب مسح الرأس کلہ ،ص ٣١ نمبر ١٨٥) اس حدیث سے معلوم ہوا کہ تین مرتبہ مسح کرے۔ (٣)جس طرح اعضاء مغسولہ کو تین مرتبہ دھونا سنت ہے اسی طرح مسح بھی تین مرتبہ کرنا چاہئے ۔
 ترجمہ :  ٣  اور ہماری دلیل یہ ہے کہ حضرت انس نے تین تین مرتبہ وضوء فرمایا اور ایک مرتبہ سر کا مسح فرمایا ،اور فرمایا کہ یہ حضور کا وضوء ہے ۔یہ حدیث حضرت علی  کی اس طرح ہے ۔قال رأیت علیا توضأ فغسل وجھہ ثلاثا و غسل ذراعیہ ثلاثا و مسح برأسہ واحدة ،ثم قال : ھکذا توضأ رسول اللہ  ۖ ۔(ابو داود شریف ، باب صفة وضوء النبی  ۖ ،ص ١٧ ،نمبر ١١٥  عن ابن عباس   نمبر ١٣٣ )صاحب نصب الرایة  نے فرمایا کہ صاحب ھدایة نے حدیث کی نسبت حضرت انس  کی طرف کی ،شاید یہ انکا تسامح ہے ۔  حضرت علی کہتے تو زیادہ بہتر تھا ،ممکن ہے کہ کسی کتاب میں حضرت انس  سے روایت  ہو ۔تاہم سر پر ایک مرتبہ مسح کر نے کے لئے کئی حدیثیں  اوپر گزر گئی ۔
 ترجمہ : ٤   اور حدیث میں جو تین مرتبہ کی روایت ہے وہ ایک ہی پانی سے تین مرتبہ مسح کرنے پر محمول ہے ۔اور یہ مشروع ہے جیسا کہ امام ابو حنیفة  سے منقول ہے ۔
تشریح :  یہ امام شافعی  کا جواب ہے ۔کہ جن احادیث میں تین مرتبہ کا تذکرہ ہے اسکا مطلب یہ ہے کہ ایک ہی پانی سے تین مرتبہ 

x
ﻧﻤﺒﺮﻣﻀﻤﻮﻥﺻﻔﺤﮧﻭاﻟﺪ
1 فہرست 5 0
2 کتاب الطھارات 52 1
3 سنن الطھارة 62 2
4 مستحبات وضو کا بیان 71 3
5 نواقض وضو کا بیان 79 11
6 فصل فی الغسل 102 2
7 غسل کے فرائض کا بیان 102 6
8 غسل واجب ہونے کے اسباب 107 6
9 سنت غسل کا بیان 112 6
11 فصل فی نواقض الوضوئ 79 3
12 باب الماء الذی یجوز بہ الوضوء و ما لا یجوز بہ 117 2
13 پانی کے احکام 117 12
14 بڑے تالاب کا حساب ایک نظر میں 130 13
15 گول چیز ناپنے کافارمولہ 132 13
17 فصل فی البیر 155 12
18 کنویں کے مسائل 155 17
19 فصل فی الآسار 171 12
20 فصل جوٹھے اور اسکے علاوہ کے بارے میں 171 19
21 باب التیمم 193 2
23 باب المسح علی الخفین 227 2
24 باب الحیض و الاستحاضة 251 2
25 حیض کا بیان 251 24
26 فصل فی المستحاضة 270 24
27 فصل فی النفاس 276 24
28 نفاس کا بیان 276 27
29 باب الانجاس وتطھیرھا 283 2
30 نجاست ، اور اسکے پاک کرنے کا با ب 283 29
31 ہر ایک کے ناپاک ہو نے کی دلیل 297 29
33 درھم کی قسمیں تین ہیں 300 29
34 درھم کا حساب 300 29
36 فصل فی الاستنجاء 320 2
37 استنجاء کا بیان 320 36
38 کتاب الصلوة 329 1
39 باب المواقیت 329 38
40 فصل اوقات مستحب 342 39
41 فصل فی الاوقات التی تکرہ فیھا الصلوة 351 39
42 باب الاذان 362 38
43 باب شروط الصَّلٰوة التی تتقدمہا 385 38
44 باب صفة الصلوة 413 38
45 فصل فی القراء ة 496 44
46 باب الامامة 523 38
47 جماعت کا بیان 523 46
49 باب الحدث فی الصلوة 569 38
50 باب مایفسد الصلوٰة وما یکرہ فیہا 601 38
Flag Counter