٢ وقال الشافعی السنة ھو التثلیث بمیاہ مختلفة اعتباراً بالمغسول، ٣ ولناان انسا توضأ ثلاثا ثلاثاومسح برأسہ مرةواحدةوقال ھٰذاوضوء رسول اﷲں ٤ والذی یروی من التثلیث محمول علیہ بماء واحد و ھومشروع علی ماروی عن ابی حنیفة
مرتبہ مسح کرنا سنت ہے۔
نوٹ : جن احادیث میں تین مرتبہ مسح کرنے کا تذکرہ ہے وہ ایک ہی پانی سے پورے سر کو گھیرنے کے لئے تین مرتبہ کیا گیا ہے۔ اور یہ تو ہم بھی کہتے ہیں کہ ایک پانی سے ہاتھ کو تین مرتبہ سر پر پھیرا جائے تاکہ اچھی طرح پورے سر پر مسح ہو جائے۔
ترجمہ : ٢ امام شافعی نے فرمایا سر کے مسح میں سنت تین مرتبہ ہے مختلف پانی سے ۔اعضاے مغسولہ پر قیاس کرتے ہوئے ۔
تشریح : امام شافعی فرماتے ہیں کہ تین مرتبہ مسح کرے اور تینوں مرتبہ نیا پانی لینا سنت ہے۔ موسوعة میں عبارت یہ ہے ۔قال الشافعی : و احب لو مسح رأسہ ثلاثا ۔(موسوعة ،باب مسح الرأس ،ص ١١٥ نمبر ٣٩٧ ) انکا استدلال اس حدیث سے ہے قال : رأیت عثمان بن عفان غسل ذراعیہ ثلاثا ثلاثا و مسح رأسہ ثلاثا ثم قال : رأیت رسول اللہ ۖ فعل ھذا (ابو داؤد، باب صفة وضوء النبی ۖ ص ١٦ نمبر١١٠)(٢) فمسح برأسہ فاقبل بھما وادبر بدء بمقدم رأسہ ثم ذھب بھما الی قفاة ثم ردھما حتی رجع الی المکان الذی بدء منہ وغسل رجلیہ (مسلم شریف، باب آخر فی صفة الوضوء ص ١٢٣ نمبر ٥٥٧٢٣٥بخاری شریف ،باب مسح الرأس کلہ ،ص ٣١ نمبر ١٨٥) اس حدیث سے معلوم ہوا کہ تین مرتبہ مسح کرے۔ (٣)جس طرح اعضاء مغسولہ کو تین مرتبہ دھونا سنت ہے اسی طرح مسح بھی تین مرتبہ کرنا چاہئے ۔
ترجمہ : ٣ اور ہماری دلیل یہ ہے کہ حضرت انس نے تین تین مرتبہ وضوء فرمایا اور ایک مرتبہ سر کا مسح فرمایا ،اور فرمایا کہ یہ حضور کا وضوء ہے ۔یہ حدیث حضرت علی کی اس طرح ہے ۔قال رأیت علیا توضأ فغسل وجھہ ثلاثا و غسل ذراعیہ ثلاثا و مسح برأسہ واحدة ،ثم قال : ھکذا توضأ رسول اللہ ۖ ۔(ابو داود شریف ، باب صفة وضوء النبی ۖ ،ص ١٧ ،نمبر ١١٥ عن ابن عباس نمبر ١٣٣ )صاحب نصب الرایة نے فرمایا کہ صاحب ھدایة نے حدیث کی نسبت حضرت انس کی طرف کی ،شاید یہ انکا تسامح ہے ۔ حضرت علی کہتے تو زیادہ بہتر تھا ،ممکن ہے کہ کسی کتاب میں حضرت انس سے روایت ہو ۔تاہم سر پر ایک مرتبہ مسح کر نے کے لئے کئی حدیثیں اوپر گزر گئی ۔
ترجمہ : ٤ اور حدیث میں جو تین مرتبہ کی روایت ہے وہ ایک ہی پانی سے تین مرتبہ مسح کرنے پر محمول ہے ۔اور یہ مشروع ہے جیسا کہ امام ابو حنیفة سے منقول ہے ۔
تشریح : یہ امام شافعی کا جواب ہے ۔کہ جن احادیث میں تین مرتبہ کا تذکرہ ہے اسکا مطلب یہ ہے کہ ایک ہی پانی سے تین مرتبہ