Deobandi Books

اثمار الہدایہ شرح اردو ہدایہ جلد 1

73 - 627
٤  بخلاف التیمم لان التراب غیر مطھر الا فی حال ارادة الصلوٰة  ٥  او ھو ینبیء عن القصد۔  
(١٥)  و یستوعب رأسہ بالمسح) ١   وھو السنة

جائے گا ،اسلئے کہ مطھریعنی پانی کے استعمال کرنے  سے طھارت واقع ہو گئی ۔
تشریح :  ہم بھی یہی کہتے ہیں کہ وضوء میں جب تک نیت نہیں کرے گا تو ثواب نہیں ملے گا البتہ چونکہ پانی استعمال کیا ہے جسکو آیت میں پاک کرنے والی چیز کہا ہے اسلئے اس سے پاکی حاصل ہو جائے گی اور نماز شروع کرنے کے لئے کافی ہو جائے گی ۔اسی کو مصنف نے کہا ہے لکنہ یقع مفتاحا للصلوة ۔الخ۔
 ترجمہ :   ٤  بخلاف تیمم کے کیونکہ مٹی پاک کرنے والی نہیں ہے مگر نماز کی نیت کرنے کی حالت میں ۔
تشریح :  امام شافعی  نے استدلال فرمایا تھا کہ تیمم میں نیت کی ضرورت ہے اسلئے وضوء میں بھی نیت کی ضرورت ہونی چاہئے۔ یہاں سے اسکا جواب دے رہے ہیں ۔کہ تیمم میں مٹی استعمال  ہوتی ہے جو عام حالات میں پاک کر نے والی نہیں ہے بلکہ میلا کرنے والی ہے ،ہاں نماز کا ارادہ کرے اور تیمم کرنے کی نیت کرے تب ہی وہ پاک کرے گی اسلئے وہاں نیت کرنا ضروری ہے ۔اسکے بر خلاف پانی خود پاک کرنے والا ہے ۔جیسا کہ آیت میں گزرا اسلئے یہاں  نیت کرنے کی ضرورت نہیں ہے ۔
 ترجمہ :  ٥   یا اسلئے کہ تیمم کا ترجمہ ہی ہے ارادہ کرنا ۔اسلئے تیمم میں  نیت کرنا ضروری ہوگی ۔اور پانی کا ترجمہ ارادہ کرنا نہیں ہے اسلئے یہاں نیت کی ضرورت نہیں پڑیگی ۔   
لغت : النیة  :  دل سے ارادہ کرنے کا نام نیت ہے اور زبان سے بول لے تو بہتر ہے۔تیمم : ام سے مشتق ہے ،ارادہ کرنا ۔مطھر : پاک کرنے والی چیز ،یہاں پانی مراد ہے ۔ینبیٔ : نبأ سے مشتق ہے خبر دیتا ہے ۔
 ترجمہ : (١٥) پورے سر کا مسح کرنا۔
 ترجمہ :   ١  وہ سنت ہے ۔
 وجہ :   (١)حدیث میں ہے عن عبد اللہ بن زید عن وضوء النبی ۖ...ثم ادخل یدہ فی الاناء فمسح برأسہ فاقبل بیدہ وادبر بھا، ثم ادخل یدہ فغسل رجلیہ ۔حدثنا موسیٰ قال : حدثنا وھیب قال : مسح رأسہ مرة (بخاری شریف ، باب  مسح الرأس مرة ص ٣٢ نمبر ١٩٢مسلم شریف ،باب آخر فی صفة الوضوء ،ص١٢٣ نمبر ٢٣٥  ٥٥٥) (٢) ابو داؤد، باب صفت وضوء النبی ۖ ص١٦ نمبر١١٥)فیہ تصریح ۔ومسح برأسہ  واحدة)حدیث سے معلوم ہوا کہ آپۖ نے ایک مرتبہ سر پر مسح فرمایا(٣) اگر نئے نئے پانی سے تین مرتبہ مسح کریں تو وہ دھونا ہو جائے گا مسح باقی نہیں رہے گا۔ دھونے کے اعضاء میں تین مرتبہ دھوئیں تو کوئی حرج کی بات نہیں ہے۔لیکن مسح تین مرتبہ نئے نئے پانی سے کریں تو موضوع ہی بدل جائے گا۔ اس لئے ایک ہی 

x
ﻧﻤﺒﺮﻣﻀﻤﻮﻥﺻﻔﺤﮧﻭاﻟﺪ
1 فہرست 5 0
2 کتاب الطھارات 52 1
3 سنن الطھارة 62 2
4 مستحبات وضو کا بیان 71 3
5 نواقض وضو کا بیان 79 11
6 فصل فی الغسل 102 2
7 غسل کے فرائض کا بیان 102 6
8 غسل واجب ہونے کے اسباب 107 6
9 سنت غسل کا بیان 112 6
11 فصل فی نواقض الوضوئ 79 3
12 باب الماء الذی یجوز بہ الوضوء و ما لا یجوز بہ 117 2
13 پانی کے احکام 117 12
14 بڑے تالاب کا حساب ایک نظر میں 130 13
15 گول چیز ناپنے کافارمولہ 132 13
17 فصل فی البیر 155 12
18 کنویں کے مسائل 155 17
19 فصل فی الآسار 171 12
20 فصل جوٹھے اور اسکے علاوہ کے بارے میں 171 19
21 باب التیمم 193 2
23 باب المسح علی الخفین 227 2
24 باب الحیض و الاستحاضة 251 2
25 حیض کا بیان 251 24
26 فصل فی المستحاضة 270 24
27 فصل فی النفاس 276 24
28 نفاس کا بیان 276 27
29 باب الانجاس وتطھیرھا 283 2
30 نجاست ، اور اسکے پاک کرنے کا با ب 283 29
31 ہر ایک کے ناپاک ہو نے کی دلیل 297 29
33 درھم کی قسمیں تین ہیں 300 29
34 درھم کا حساب 300 29
36 فصل فی الاستنجاء 320 2
37 استنجاء کا بیان 320 36
38 کتاب الصلوة 329 1
39 باب المواقیت 329 38
40 فصل اوقات مستحب 342 39
41 فصل فی الاوقات التی تکرہ فیھا الصلوة 351 39
42 باب الاذان 362 38
43 باب شروط الصَّلٰوة التی تتقدمہا 385 38
44 باب صفة الصلوة 413 38
45 فصل فی القراء ة 496 44
46 باب الامامة 523 38
47 جماعت کا بیان 523 46
49 باب الحدث فی الصلوة 569 38
50 باب مایفسد الصلوٰة وما یکرہ فیہا 601 38
Flag Counter