١ فالنیة فی الوضوء سنة عندنا، ٢ و عند الشافعی فرض، لانہ عبادة فلا تصح بدون النیة کالتیمم
٣ ولنا انہ لایقع قربة الا بالنیة و لکنہ یقع مفتاحا للصلوٰة لوقوعہ طھارة باستعمال المطھر
ۖ ھوالطہور ماء ہ و الحل میتتہ (ج) (ترمذی شریف ، باب ماجاء فی ماء البحر انہ طہور ص ٢١ نمبر ٦٩) جب پانی بغیر نیت کی قید کے خود بخود پاک کرنے والا ہے تو نیت کرنا ضروری نہیں رہا۔ البتہ حدیث بالا کی وجہ سے سنت رہے گا(٣) حضرت عمر نے قرآن کریم چھونے کے لئے کفر کی حالت میں وضو کیا ہے ۔اور کفر کی حالت میں نیت کا اعتبار نہیں اس سے معلوم ہوا کہ ان کا وضو کرنا بغیر نیت کے درست رہا۔ معلوم ہوا کہ وضو کے لئے نیت کی شرط نہیں ہے ۔ لمبی حدیث کا ٹکڑایہ ہے ۔عن انس بن مالک قال : خرج عمر متقلدا السیف فقیل لہ .....فقالت لہ اختہ : انک رجس ،و لا یمسہ الا المطھرون ،فقم فاغتسل او توضأ ،فقام عمر فتوضأ ، ثم اخذ الکتاب فقرأ طہ ۔(دار قطنی با بفینھی المحدث عن مس القرآن ،ج اول ،ص ١٢٩ نمبر ٤٣٥ سنن للبیھقی ،باب نھی المحدث عن مس المصحف ،ج اول ،ص ١٤٢ نمبر ٤١٣ ) اس حدیث میں کفر کی حالت میں وضوء کیا اور کفر کی حالت کی نیت کا اعتبار نہیں جس سے معلوم ہوا کہ وضوء کے لئے نیت فرض نہیں ہے ،سنت ہے
نوٹ : نماز ، روزہ ، زکوة اور حج وغیرہ عبادت مقصودہ میں اصل مقصد ثواب ہے اس لئے بغیر نیت کے یہ عبادات ادا نہ ہوںگی۔ وہاں نیت کرنا فرض ہے۔
ترجمہ : ١ پس نیت وضوء میںہمارے نزدیک سنت ہے ۔اسکی تفصیل گزر چکی ۔
ترجمہ : ٢ اور امام شافعی کے نزدیک نیت فرض ہے اسلئے کہ وہ عبادت ہے اسلئے بغیر نیت کے صحیح نہیں ہوگی ،جیسے تیمم بغیر نیت کے صحیح نہیں ہوتی ۔
تشریح : امام شافعی کے نزدیک وضوء میں نیت فرض ہے ۔موسوعة امام شافعی میں ہے ۔و لا یجزیٔ الوضوء الا بنیة ، و یکفیہ من النیة فیہ ان یتوضأ ینوی طھارة من حدث ۔(موسوعة للامام الشافعی ،باب النیة فی الوضوء ،ج اول ،ص ١٠٠ نمبر ٣٥٥ ) کہ بغیر نیت کے وضوء کافی نہیں ہے ۔
وجہ : (١) اسکی ایک دلیل تو یہ دی کہ وضوء عبادت ہے اور قاعدہ یہ ہے کہ عبادت بغیر نیت کے ادا نہیں ہو تی ،اسلئے وضو ء بھی بغیر نیت کے درست نہیں ہو گا ۔(٢) دوسری دلیل دی کہ تیمم طھارت ہے پھر بھی بغیر نیت کے صحیح نہیں ہو تا ،تو وضوء بھی بغیر نیت کے درست نہیں ہو گا ۔(٣) تیسری دلیل یہ ہے کہ حدیث انما الاعمال بالنیات ۔(بخاری نمبر ١ ) میں فرمایا کہ عمل کا مدار نیت پر ہے اور وضوء بھی بہت بڑا عمل ہے ،اسلئے اس میں بھی نیت فرض ہونی چاہئے ۔
ترجمہ : ٣ اور ہماری دلیل یہ ہے کہ وضوء میں قربت یعنی ثواب نہیں ملے گا مگر نیت کرنے سے لیکن نماز کے لئے جائز ہو