Deobandi Books

اثمار الہدایہ شرح اردو ہدایہ جلد 1

72 - 627
 ١ فالنیة فی الوضوء سنة عندنا، ٢  و عند الشافعی  فرض، لانہ عبادة فلا تصح بدون النیة کالتیمم 
٣  ولنا انہ لایقع قربة الا بالنیة و لکنہ یقع مفتاحا للصلوٰة لوقوعہ طھارة باستعمال المطھر

ۖ ھوالطہور ماء ہ و الحل میتتہ (ج) (ترمذی شریف ، باب ماجاء فی ماء البحر انہ طہور ص ٢١ نمبر ٦٩) جب پانی بغیر نیت کی قید کے خود بخود پاک کرنے والا ہے تو نیت کرنا ضروری نہیں رہا۔ البتہ حدیث بالا کی وجہ سے سنت رہے گا(٣) حضرت عمر نے قرآن کریم چھونے کے لئے کفر کی حالت میں وضو کیا ہے ۔اور کفر کی حالت میں نیت کا اعتبار نہیں اس سے معلوم ہوا کہ ان کا وضو کرنا بغیر نیت کے درست رہا۔ معلوم ہوا کہ وضو کے لئے نیت کی شرط نہیں ہے ۔ لمبی حدیث کا ٹکڑایہ ہے ۔عن انس بن مالک قال : خرج عمر متقلدا السیف  فقیل لہ .....فقالت لہ اختہ : انک رجس ،و لا یمسہ الا المطھرون ،فقم فاغتسل او توضأ ،فقام عمر فتوضأ ، ثم اخذ الکتاب فقرأ طہ ۔(دار قطنی با بفینھی المحدث عن مس القرآن ،ج اول ،ص ١٢٩ نمبر ٤٣٥  سنن للبیھقی ،باب نھی المحدث عن مس المصحف ،ج اول ،ص ١٤٢ نمبر ٤١٣ ) اس حدیث میں کفر کی حالت میں وضوء کیا اور کفر کی حالت کی نیت کا اعتبار نہیں جس سے معلوم ہوا کہ وضوء کے لئے نیت فرض نہیں ہے ،سنت ہے 
 نوٹ :  نماز ، روزہ ، زکوة اور حج وغیرہ عبادت مقصودہ میں اصل مقصد ثواب ہے اس لئے بغیر نیت کے یہ عبادات ادا نہ ہوںگی۔ وہاں نیت کرنا فرض ہے۔
 ترجمہ :   ١  پس نیت وضوء میںہمارے نزدیک سنت ہے ۔اسکی تفصیل گزر چکی ۔
  ترجمہ :  ٢   اور امام شافعی  کے نزدیک نیت فرض ہے اسلئے کہ وہ عبادت ہے اسلئے بغیر نیت کے صحیح نہیں ہوگی ،جیسے تیمم بغیر نیت کے صحیح نہیں ہوتی ۔
 تشریح :  امام شافعی  کے نزدیک وضوء میں نیت فرض ہے ۔موسوعة امام شافعی میں ہے ۔و لا یجزیٔ الوضوء الا بنیة ، و یکفیہ من النیة فیہ ان یتوضأ ینوی طھارة من حدث ۔(موسوعة للامام الشافعی ،باب النیة فی الوضوء ،ج اول ،ص ١٠٠ نمبر ٣٥٥ ) کہ بغیر نیت کے وضوء کافی نہیں ہے ۔ 
وجہ :  (١) اسکی ایک دلیل تو یہ دی کہ وضوء عبادت ہے اور قاعدہ یہ ہے کہ عبادت بغیر نیت کے ادا نہیں ہو تی  ،اسلئے وضو ء بھی بغیر نیت کے درست نہیں ہو گا ۔(٢) دوسری دلیل دی کہ تیمم طھارت ہے پھر بھی بغیر نیت کے صحیح نہیں ہو تا ،تو وضوء بھی بغیر نیت کے درست نہیں ہو گا ۔(٣) تیسری دلیل یہ ہے کہ حدیث انما الاعمال بالنیات ۔(بخاری نمبر ١ ) میں فرمایا کہ عمل کا مدار نیت پر ہے اور وضوء بھی بہت بڑا عمل ہے ،اسلئے اس میں بھی نیت فرض ہونی چاہئے ۔
 ترجمہ :   ٣  اور ہماری دلیل یہ ہے کہ وضوء میں قربت یعنی ثواب نہیں ملے گا مگر نیت کرنے سے لیکن نماز کے لئے جائز ہو 

x
ﻧﻤﺒﺮﻣﻀﻤﻮﻥﺻﻔﺤﮧﻭاﻟﺪ
1 فہرست 5 0
2 کتاب الطھارات 52 1
3 سنن الطھارة 62 2
4 مستحبات وضو کا بیان 71 3
5 نواقض وضو کا بیان 79 11
6 فصل فی الغسل 102 2
7 غسل کے فرائض کا بیان 102 6
8 غسل واجب ہونے کے اسباب 107 6
9 سنت غسل کا بیان 112 6
11 فصل فی نواقض الوضوئ 79 3
12 باب الماء الذی یجوز بہ الوضوء و ما لا یجوز بہ 117 2
13 پانی کے احکام 117 12
14 بڑے تالاب کا حساب ایک نظر میں 130 13
15 گول چیز ناپنے کافارمولہ 132 13
17 فصل فی البیر 155 12
18 کنویں کے مسائل 155 17
19 فصل فی الآسار 171 12
20 فصل جوٹھے اور اسکے علاوہ کے بارے میں 171 19
21 باب التیمم 193 2
23 باب المسح علی الخفین 227 2
24 باب الحیض و الاستحاضة 251 2
25 حیض کا بیان 251 24
26 فصل فی المستحاضة 270 24
27 فصل فی النفاس 276 24
28 نفاس کا بیان 276 27
29 باب الانجاس وتطھیرھا 283 2
30 نجاست ، اور اسکے پاک کرنے کا با ب 283 29
31 ہر ایک کے ناپاک ہو نے کی دلیل 297 29
33 درھم کی قسمیں تین ہیں 300 29
34 درھم کا حساب 300 29
36 فصل فی الاستنجاء 320 2
37 استنجاء کا بیان 320 36
38 کتاب الصلوة 329 1
39 باب المواقیت 329 38
40 فصل اوقات مستحب 342 39
41 فصل فی الاوقات التی تکرہ فیھا الصلوة 351 39
42 باب الاذان 362 38
43 باب شروط الصَّلٰوة التی تتقدمہا 385 38
44 باب صفة الصلوة 413 38
45 فصل فی القراء ة 496 44
46 باب الامامة 523 38
47 جماعت کا بیان 523 46
49 باب الحدث فی الصلوة 569 38
50 باب مایفسد الصلوٰة وما یکرہ فیہا 601 38
Flag Counter