(١١) قال (القدوری ) و تخلیل اللحیة ) ١ لان النبی علیہ السلام امرہ جبرئیل علیہ السلام بذالک ٢ و قیل ھو سنة عند ابی یوسف۔ ٣ جائز عند ابی حنیفة، و محمد ٤ لان السنة اکمال الفرض فی محلہ والداخل لیس بمحل الفرض
ہے۔عن الشعبی قال : ما اقبل من الاذنین فمن الوجہ ،و ما ادبر فمن الرأس ۔(مصنف ابن ابی شیبة ،١٤ باب من قال : الاذنان من الرأس ،ج اول ص ٢٤ نمبر ١٦٥)۔
ترجمہ : (١١) ]ساتویں سنت[ ڈاڑھی کا خلال کرنا ہے ۔
ترجمہ : ١ اسلئے کہ حضور ۖ کو حضرت جبرئیل نے اسکا حکم دیا تھا ۔(یعنی اللہ نے حکم دیا تھا )
تشریح : ڈاڑھی کا خلال کرنا سنت ہے اللہ نے حضور ۖ کو اسکا حکم دیا تھا جیسا کہ نیچے والی حدیث میں اسکا ذکر ہے ۔
وجہ: حدیث میں ہے عن عثمان بن عفان ان النبی ۖ کان یخلل لحیتہ (ترمذی شریف، باب تخلیل اللحیةص ١٤ نمبر ٣١) عن انس بن مالک ان رسول اللہ ۖ کان اذا توضأ اخذ کفا من ماء فادخلہ تحت حنکہ خلل بہ لحیتہ وقال ھکذا امرنی ربی (ب) (ابو داؤد، باب تخلیل اللحیة ص ٢١ نمبر ١٤٥) اس حدیث میں ہے کہ اللہ نے ڈاڑھی میں خلال کر نے کا حکم دیا ۔(٢) دوسری حدیث میں تصریح ہے کہ حضرت جبرئیل نے خلال کا حکم دیا ۔عن انس ان النبی ۖ قال : اتانی جبریل فقال : اذا توضوأت فخلل لحیتک ۔ ( مصنف ابن ابی شیبة ،باب فی تخلیل اللحیة فی الوضوء ،ج اول ،ص ٢٠ نمبر ١١٤) اسی حدیث سے صاحب ھدایہ نے استدلال کیا ہے کہ حضرت جبریل نے آپکوخلال کا حکم دیا تھا ۔
ترجمہ : ٢ بعض لوگوں نے کہا کہ خلال امام ابو یوسف کے نزدیک سنت ہے ۔اسکی وجہ یہ ہے کہ اوپر کی حدیث میں خلال کی تاکید آئی ہے اسلئے وہ سنت ہوگا ۔
ترجمہ : ٣ امام ابو حنیفہ اور امام محمد کے نزدیک خلال کر نا جائز ہے ۔یعنی سنت کی طرح تاکید نہیں ہے ۔
وجہ : اثر میں ہے کہ وہ خلال کر نا سنت نہیں سمجھتے تھے۔عن ابن سیرین قال رأیت یغسل لحیتہ فقلت لہ : من السنة غسل اللحیة فقال : لا ۔۔(مصنف ابن ابی شیبة ،١١ فی غسل اللحیة فی الوضوء ،ج اول ،ص ٢٢ نمبر ١٢٨ ) اس اثر میں ہے کہ خلال کرنا سنت نہیں ہے ۔جو جائز ہو نے کی دلیل ہے ۔
ترجمہ : ٤ اسلئے کہ سنت فرض کو پورا کرنے کے لئے ہے فرض کی جگہ میں اور ڈاڑھی کا اندرونی حصہ فرض کی جگہ نہیں ہے ۔
تشریح : ڈاڑھی کا خلال صرف جائز ہے سنت نہیں ،اسکے لئے دلیل عقلی پیش کر رہے ہیں ۔۔قاعدہ یہ ہے کہ جس جگہ کو دھونا فرض ہے اس جگہ فرض کی تکمیل کے لئے سنت ہوتی ہے ۔اور گھنی ڈاڑھی کے اندرونی حصہ کی طرف پانی پہونچانا فرض نہیں ہے اسلئے اسکی