Deobandi Books

اثمار الہدایہ شرح اردو ہدایہ جلد 1

68 - 627
(١١)  قال  (القدوری ) و تخلیل اللحیة )   ١  لان النبی علیہ  السلام امرہ جبرئیل علیہ السلام بذالک ٢ و قیل ھو سنة عند ابی یوسف۔ ٣  جائز عند ابی حنیفة، و محمد   ٤ لان السنة اکمال الفرض فی محلہ والداخل لیس بمحل الفرض

ہے۔عن الشعبی قال : ما اقبل من الاذنین فمن الوجہ ،و ما ادبر فمن الرأس ۔(مصنف ابن ابی شیبة ،١٤ باب من قال : الاذنان من الرأس ،ج اول ص ٢٤ نمبر ١٦٥)۔ 
 ترجمہ :   (١١) ]ساتویں سنت[ ڈاڑھی کا خلال کرنا ہے ۔
 ترجمہ :  ١  اسلئے کہ حضور  ۖ کو حضرت جبرئیل نے اسکا حکم دیا تھا ۔(یعنی اللہ نے حکم دیا تھا )
تشریح :   ڈاڑھی کا خلال کرنا سنت ہے اللہ نے حضور ۖ کو اسکا حکم دیا تھا جیسا کہ نیچے والی حدیث میں اسکا ذکر ہے ۔  
وجہ:  حدیث میں ہے عن عثمان بن عفان  ان النبی ۖ کان یخلل لحیتہ (ترمذی شریف، باب تخلیل اللحیةص ١٤ نمبر ٣١) عن انس بن مالک  ان رسول اللہ ۖ کان اذا توضأ اخذ کفا من ماء فادخلہ تحت حنکہ خلل بہ لحیتہ وقال ھکذا امرنی ربی (ب) (ابو داؤد، باب تخلیل اللحیة ص ٢١ نمبر ١٤٥)  اس حدیث میں ہے کہ اللہ نے ڈاڑھی میں خلال کر نے کا حکم دیا ۔(٢) دوسری حدیث میں تصریح ہے کہ حضرت جبرئیل نے خلال کا حکم دیا ۔عن انس ان النبی  ۖ قال : اتانی جبریل فقال : اذا توضوأت  فخلل لحیتک ۔ ( مصنف ابن ابی شیبة ،باب فی تخلیل اللحیة فی الوضوء ،ج اول ،ص ٢٠ نمبر ١١٤) اسی حدیث سے صاحب ھدایہ نے استدلال کیا ہے کہ حضرت جبریل نے آپکوخلال کا حکم دیا تھا ۔
 ترجمہ :  ٢  بعض لوگوں نے کہا کہ خلال امام ابو یوسف  کے نزدیک سنت ہے ۔اسکی وجہ یہ ہے کہ اوپر کی حدیث میں خلال کی تاکید آئی ہے اسلئے وہ سنت ہوگا ۔
 ترجمہ :  ٣  امام ابو حنیفہ اور امام محمد کے نزدیک خلال کر نا جائز ہے ۔یعنی سنت کی طرح تاکید نہیں ہے ۔
وجہ :  اثر میں ہے کہ وہ خلال کر نا سنت نہیں سمجھتے تھے۔عن ابن سیرین قال رأیت یغسل   لحیتہ فقلت لہ : من السنة غسل اللحیة فقال : لا  ۔۔(مصنف ابن ابی شیبة ،١١  فی غسل اللحیة فی الوضوء ،ج اول ،ص ٢٢ نمبر ١٢٨ ) اس اثر میں ہے کہ خلال کرنا سنت نہیں ہے ۔جو جائز ہو نے کی دلیل ہے ۔
 ترجمہ :  ٤  اسلئے کہ سنت فرض کو پورا کرنے کے لئے ہے فرض کی جگہ میں اور ڈاڑھی کا اندرونی حصہ فرض کی جگہ نہیں ہے ۔
تشریح : ڈاڑھی کا خلال صرف جائز ہے سنت نہیں  ،اسکے لئے دلیل عقلی پیش کر رہے ہیں ۔۔قاعدہ یہ ہے کہ جس جگہ کو دھونا فرض ہے اس جگہ فرض کی تکمیل کے لئے سنت ہوتی ہے ۔اور گھنی ڈاڑھی کے اندرونی حصہ کی طرف پانی پہونچانا فرض نہیں ہے اسلئے اسکی 

x
ﻧﻤﺒﺮﻣﻀﻤﻮﻥﺻﻔﺤﮧﻭاﻟﺪ
1 فہرست 5 0
2 کتاب الطھارات 52 1
3 سنن الطھارة 62 2
4 مستحبات وضو کا بیان 71 3
5 نواقض وضو کا بیان 79 11
6 فصل فی الغسل 102 2
7 غسل کے فرائض کا بیان 102 6
8 غسل واجب ہونے کے اسباب 107 6
9 سنت غسل کا بیان 112 6
11 فصل فی نواقض الوضوئ 79 3
12 باب الماء الذی یجوز بہ الوضوء و ما لا یجوز بہ 117 2
13 پانی کے احکام 117 12
14 بڑے تالاب کا حساب ایک نظر میں 130 13
15 گول چیز ناپنے کافارمولہ 132 13
17 فصل فی البیر 155 12
18 کنویں کے مسائل 155 17
19 فصل فی الآسار 171 12
20 فصل جوٹھے اور اسکے علاوہ کے بارے میں 171 19
21 باب التیمم 193 2
23 باب المسح علی الخفین 227 2
24 باب الحیض و الاستحاضة 251 2
25 حیض کا بیان 251 24
26 فصل فی المستحاضة 270 24
27 فصل فی النفاس 276 24
28 نفاس کا بیان 276 27
29 باب الانجاس وتطھیرھا 283 2
30 نجاست ، اور اسکے پاک کرنے کا با ب 283 29
31 ہر ایک کے ناپاک ہو نے کی دلیل 297 29
33 درھم کی قسمیں تین ہیں 300 29
34 درھم کا حساب 300 29
36 فصل فی الاستنجاء 320 2
37 استنجاء کا بیان 320 36
38 کتاب الصلوة 329 1
39 باب المواقیت 329 38
40 فصل اوقات مستحب 342 39
41 فصل فی الاوقات التی تکرہ فیھا الصلوة 351 39
42 باب الاذان 362 38
43 باب شروط الصَّلٰوة التی تتقدمہا 385 38
44 باب صفة الصلوة 413 38
45 فصل فی القراء ة 496 44
46 باب الامامة 523 38
47 جماعت کا بیان 523 46
49 باب الحدث فی الصلوة 569 38
50 باب مایفسد الصلوٰة وما یکرہ فیہا 601 38
Flag Counter