وضوئہ ۖ (١٠) و مسح الاذنین ) ١ وھوسنہ بماء الرأس۔خلافا للشافعی لقولہ علیہ السلام: الاذنان من الرأس ٢ و المراد بیان الحکم دون الخلقة۔
لغت: المضمضة : مضمضہ کرنا ، کلی کرنا ۔ الاستنشاق : باب استفعال سے ناک میں پانی چڑھانا، دوسرا لفظ آتا ہے استنثر : ناک سے پانی جھاڑنا ۔
فائدہ : امام مالک کے نزدیک یہ دونوں وضو میں بھی فرض ہیں۔
ترجمہ : (١٠) ] چھٹی سنت[ دونوں کانوں کا مسح کرنا ہے۔
ترجمہ : ١ وہ سر کے پانی سے سنت ہے ۔ برخلاف امام شافعی کے ۔کیونکہ حضور ۖ نے فرمایا الاذنان من الرأس ۔یعنی کان سر کا حصہ ہے ۔
تشریح : سر کے مسح کے علاوہ دونوں کانوں کا مسح بھی سنت ہے ۔لیکن سر کے مسح کے بعد جو بچا ہوا پانی ہے اسی سے کان کا مسح کرے الگ سے پانی لینے کی ضرورت نہیں ہے ۔
وجہ: حدیث میں اسکی تصریح ہے کہ سر کے پانی ہی سے آپ نے کان کا مسح فرمایا ۔حدیث یہ ہے ۔عن ابن عباس :ان النبی ۖ مسح برأسہ واذنیہ ظاھرھما و باطنھما (ترمذی شریف، باب مسح الاذنین ظاھرھما و باطنھما ص ١٦ نمبر ٣٦ ابو داؤد ، باب صفة وضوء النبیۖ ص ١٦ نمبر ١٢١) (٢) عن ابی امامة قال : توضأ النبی ۖ فغسل وجھہ ثلاثا و یدیہ ثلاثا ، و مسح برأسہ ،و قال : الاذنان من الرأس ۔ ( ترمذی، باب ماجاء ان الاذنین من الرأس ۔ص ١٦، نمبر ٣٧ ) اس حدیث سے ثابت ہوا کہ کان کے اوپر اور نیچے کے حصہ کا سر کے ساتھ مسح کرنا سنت ہے۔
ترجمہ : ٢ اور مرادحکم کا بیان کرنا ہے نہ کہ تخلیق کا ۔اس عبارت کا مطلب یہ ہے کہ ۔حدیث میں الاذنان من الرأس :کان سر میں سے ہے ،فرمایا تو اس سے کان کا حکم بیان کرنا مقصود ہے کہ کان کو سر کے ساتھ مسح کیا جائے گا ۔اس حدیث سے کان کی خلقت بیان کرنا مقصود نہیں ہے کہ کان سر کے ساتھ پیدا ہوا ہے ۔کیونکہ آپ ۖ حکم بیان کرنے کے لئے دنیا میں تشریف لائے تھے ،خلقت بیان کرنے کے لئے نہیں ۔
فائدہ : (خلافا للشافعی )امام شافعی فرماتے ہیں کہ کان کے لئے الگ پانی لینا مسنون ہے۔ امام شافعی کی دلیل یہ حدیث ہے سمع عبد اللہ بن زید یذکر انہ رای رسول اللہ ۖ یتوضأ فاخذ لاذنیہ ماء خلاف الماء الذی اخذ لرأسہ (سنن للبیھقی، باب مسح الاذنین بماء جدید ج اول ص١٠٧،نمبر ٣٠٨)اس حدیث میں ہے کہ کان کے لئے الگ پانی لیا۔
امام شعبی فرماتے ہیں کہ کان کا اگلا حصہ چہرے کے ساتھ دھویا جائے گا اور پچھلا حصہ کا سر کے ساتھ مسح کیا جائیگا ۔انکا قول یہ