Deobandi Books

اثمار الہدایہ شرح اردو ہدایہ جلد 1

67 - 627
وضوئہ ۖ (١٠)  و مسح الاذنین )  ١ وھوسنہ بماء الرأس۔خلافا للشافعی  لقولہ علیہ السلام: الاذنان من الرأس ٢  و المراد بیان الحکم دون الخلقة۔  

لغت:  المضمضة  :  مضمضہ کرنا ، کلی کرنا ۔ الاستنشاق  :  باب استفعال سے ناک میں پانی چڑھانا، دوسرا لفظ آتا ہے استنثر  :  ناک سے پانی جھاڑنا  ۔
فائدہ :  امام مالک  کے نزدیک یہ دونوں وضو میں بھی فرض ہیں۔ 
 ترجمہ : (١٠) ] چھٹی سنت[ دونوں کانوں کا مسح کرنا ہے۔
 ترجمہ :   ١  وہ  سر کے پانی سے سنت ہے ۔ برخلاف امام شافعی  کے ۔کیونکہ حضور  ۖ نے فرمایا الاذنان من الرأس ۔یعنی  کان سر کا حصہ ہے ۔
تشریح : سر کے مسح کے علاوہ دونوں کانوں کا مسح بھی سنت ہے ۔لیکن سر کے مسح کے بعد جو بچا ہوا پانی ہے اسی سے کان کا مسح کرے الگ  سے پانی لینے کی ضرورت نہیں ہے ۔
 وجہ:  حدیث میں اسکی تصریح ہے کہ سر کے پانی ہی سے آپ نے کان کا مسح فرمایا ۔حدیث یہ ہے  ۔عن ابن عباس :ان النبی ۖ مسح برأسہ واذنیہ ظاھرھما و باطنھما (ترمذی شریف، باب مسح الاذنین ظاھرھما و باطنھما ص ١٦ نمبر ٣٦ ابو داؤد ، باب صفة وضوء النبیۖ ص ١٦ نمبر ١٢١) (٢) عن ابی امامة قال : توضأ النبی  ۖ فغسل وجھہ ثلاثا و یدیہ ثلاثا ، و مسح برأسہ ،و قال : الاذنان من الرأس ۔ ( ترمذی، باب ماجاء ان الاذنین من الرأس ۔ص ١٦، نمبر ٣٧  ) اس حدیث سے ثابت ہوا کہ کان کے اوپر اور نیچے کے حصہ کا سر کے ساتھ مسح کرنا سنت ہے۔
 ترجمہ :  ٢   اور مرادحکم کا بیان کرنا ہے نہ کہ تخلیق کا ۔اس عبارت کا مطلب یہ ہے کہ ۔حدیث میں الاذنان من الرأس :کان سر میں سے ہے ،فرمایا تو اس سے کان کا حکم بیان کرنا مقصود ہے کہ کان کو سر کے ساتھ مسح کیا جائے گا ۔اس حدیث سے کان کی خلقت بیان کرنا مقصود نہیں ہے کہ کان سر کے ساتھ پیدا ہوا ہے ۔کیونکہ آپ ۖ  حکم بیان کرنے کے لئے دنیا میں تشریف لائے تھے ،خلقت بیان کرنے کے لئے نہیں ۔
فائدہ :  (خلافا للشافعی )امام شافعی فرماتے ہیں کہ کان کے لئے الگ پانی لینا مسنون ہے۔ امام شافعی کی دلیل یہ حدیث ہے سمع عبد اللہ بن زید یذکر انہ رای رسول اللہ ۖ یتوضأ فاخذ لاذنیہ ماء خلاف الماء الذی اخذ لرأسہ (سنن للبیھقی، باب مسح الاذنین بماء جدید ج اول ص١٠٧،نمبر ٣٠٨)اس حدیث میں ہے کہ کان کے لئے الگ پانی لیا۔
امام شعبی   فرماتے  ہیں کہ کان کا اگلا حصہ چہرے کے ساتھ دھویا جائے گا اور پچھلا حصہ کا سر کے ساتھ مسح کیا جائیگا ۔انکا قول یہ 

x
ﻧﻤﺒﺮﻣﻀﻤﻮﻥﺻﻔﺤﮧﻭاﻟﺪ
1 فہرست 5 0
2 کتاب الطھارات 52 1
3 سنن الطھارة 62 2
4 مستحبات وضو کا بیان 71 3
5 نواقض وضو کا بیان 79 11
6 فصل فی الغسل 102 2
7 غسل کے فرائض کا بیان 102 6
8 غسل واجب ہونے کے اسباب 107 6
9 سنت غسل کا بیان 112 6
11 فصل فی نواقض الوضوئ 79 3
12 باب الماء الذی یجوز بہ الوضوء و ما لا یجوز بہ 117 2
13 پانی کے احکام 117 12
14 بڑے تالاب کا حساب ایک نظر میں 130 13
15 گول چیز ناپنے کافارمولہ 132 13
17 فصل فی البیر 155 12
18 کنویں کے مسائل 155 17
19 فصل فی الآسار 171 12
20 فصل جوٹھے اور اسکے علاوہ کے بارے میں 171 19
21 باب التیمم 193 2
23 باب المسح علی الخفین 227 2
24 باب الحیض و الاستحاضة 251 2
25 حیض کا بیان 251 24
26 فصل فی المستحاضة 270 24
27 فصل فی النفاس 276 24
28 نفاس کا بیان 276 27
29 باب الانجاس وتطھیرھا 283 2
30 نجاست ، اور اسکے پاک کرنے کا با ب 283 29
31 ہر ایک کے ناپاک ہو نے کی دلیل 297 29
33 درھم کی قسمیں تین ہیں 300 29
34 درھم کا حساب 300 29
36 فصل فی الاستنجاء 320 2
37 استنجاء کا بیان 320 36
38 کتاب الصلوة 329 1
39 باب المواقیت 329 38
40 فصل اوقات مستحب 342 39
41 فصل فی الاوقات التی تکرہ فیھا الصلوة 351 39
42 باب الاذان 362 38
43 باب شروط الصَّلٰوة التی تتقدمہا 385 38
44 باب صفة الصلوة 413 38
45 فصل فی القراء ة 496 44
46 باب الامامة 523 38
47 جماعت کا بیان 523 46
49 باب الحدث فی الصلوة 569 38
50 باب مایفسد الصلوٰة وما یکرہ فیہا 601 38
Flag Counter