Deobandi Books

اثمار الہدایہ شرح اردو ہدایہ جلد 1

66 - 627
٢  و کیفیتھما ان یمضمض ثلاثایأخذلکل مرة ماء جدیدا، ثم یستنشق کذالک۔ ھو المحکی من 

تشریح : کلی کرنا اور ناک میں پانی ڈالنا سنت ہیں ۔اور اسکی صورت یہ ہے کہ پہلے تین مرتبہ پانی لے اور اس سے کلی کرے اور ہر مرتبہ نیا پانی لے ۔پھر تین مرتبہ پانی لے اور اس سے ناک میں پانی ڈالے ۔کلی اور ناک کے لئے ایک ہی چلو نہ لے ۔دلیل کے لئے یہ احادیث ہیں جنکا اشارہ متن میں کیا ۔
وجہ:   (١) حدیث میں ہے رأیت عثمان بن عفان سئل عن الوضوء فدعا بماء فاتی بمیضأة فاصغاھا علی یدہ الیمنی ثم ادخلھا فی الماء فتمضمض ثلثا واستنثر ثلثا (ابوداؤد شریف، باب صفة وضوء النبی ۖ ص ١٦ نمبر ١٠٨ ١١٢ مسلم شریف باب صفة الوضوء و کمالہ ۔ ص ١٢٣ نمبر ٥٣٨٢٢٦)اس باب کی یہ تیسری حدیث ہے ۔ اس باب میں تین مرتبہ کلی الگ پانی سے کی ہے۔ اور تین مرتبہ ناک میں پانی الگ پانی لیکر ڈالا ہے۔ اس لئے حنفیہ کے نزدیک تین مرتبہ پانی لیکر کلی کرنا سنت ہے۔ (٢) عن طلحة عن ابیہ عن جدہ قال دخلت یعنی علی النبی ۖ وھو یتوضأ والماء یسیل من وجھہ ولحیتہ وعلی صدرہ فرأیتہ یفصل بین المضمضة والاستنشاق (ابو داؤدشریف، باب فی الفرق بین المضمضة والاستنشاق ص ٢٠ نمبر ١٣٩) ابو داؤد  نے با ضابطہ باب باندھا ہے کہ کلی اور ناک میں پانی ڈالنا آپۖ نے الگ الگ فرمایا ہے۔
 فائدہ :  امام شافعی  فرماتے ہیں کہ ایک چلو پانی لے اور اس کے آدھے سے کلی کرے اور آدھے کو ناک میں ڈالے پھر دوسری مرتبہ چلو میں پانی لے اور آدھے سے کلی کرے اور آدھے کو ناک میں ڈالے ، پھر تیسری مرتبہ چلو میں پانی لے اور آدھے سے کلی کرے اور آدھے کو ناک میں ڈالے۔ اس طرح تین ہی چلو سے دونوں کام کرے ۔کتاب الام میں ہے و احب الی ان یبدأ المتوضی بعد غسل یدیہ ان یتمضمض ،و یستنشق ثلاثا : یأخذ بکفہ غرفة لفیہ ،و انفہ ۔( موسوعة الامام الشافعی ،باب المضمضة و الاستنشاق ،ج اول ،ص ١٠٥ نمبر ٣٧٩ ) 
وجہ:   ان کا استدلال ان احادیث سے ہے جس میں ۔فمضمض واستنشق  من کف واحد ففعل ذلک ثلاثا  ہے۔حدیث یہ ہے عن عبد اللہ    بن زید ابن عاصم الانصاری ۔و کانت لہ صحبة ۔ قال : قیل لہ توضأ لناوضوء رسول اللہ  ۖ .....ثم ادخل یدہ فاستخرجھا ،فمضمض و استنشق من کف واحد ة  (مسلم شریف ، باب آخر فی صفة الوضوء ص ١٢٣ نمبر ٥٥٥٢٣٥بخاری شریف ،باب من مضمض و استنشق من غرفة واحدة ،ص ٣١،نمبر ١٩١ص   ٢٦ نمبر ١٤٠ترمذی شریف،باب المضمضة ولاستنشاق من کف واحد،ص١٤، نمبر ٢٨)اس حدیث میں ایک ہی چلوسے کلی اور ناک میں پانی ڈالنے کا ذکر ہے۔ ہم کہتے ہیں کہ حدیث  اوپر کی بھی ہے۔ اور الگ الگ پانی ڈالنے میں زیادہ نظافت ہے۔
 ترجمہ :  ٢   اور کلی کرنے اور ناک میں پانی ڈالنے کی کیفیت یہ ہے کہ تین مرتبہ کلی کرے اور ہر مرتبہ نیا پانی لے ،پھر ناک میں بھی ایسے ہی تین مرتبہ پانی ڈالے ،یہی حضور  ۖ سے منقول ہے ۔اسکی حدیث اوپر گزر چکی ہے ۔

x
ﻧﻤﺒﺮﻣﻀﻤﻮﻥﺻﻔﺤﮧﻭاﻟﺪ
1 فہرست 5 0
2 کتاب الطھارات 52 1
3 سنن الطھارة 62 2
4 مستحبات وضو کا بیان 71 3
5 نواقض وضو کا بیان 79 11
6 فصل فی الغسل 102 2
7 غسل کے فرائض کا بیان 102 6
8 غسل واجب ہونے کے اسباب 107 6
9 سنت غسل کا بیان 112 6
11 فصل فی نواقض الوضوئ 79 3
12 باب الماء الذی یجوز بہ الوضوء و ما لا یجوز بہ 117 2
13 پانی کے احکام 117 12
14 بڑے تالاب کا حساب ایک نظر میں 130 13
15 گول چیز ناپنے کافارمولہ 132 13
17 فصل فی البیر 155 12
18 کنویں کے مسائل 155 17
19 فصل فی الآسار 171 12
20 فصل جوٹھے اور اسکے علاوہ کے بارے میں 171 19
21 باب التیمم 193 2
23 باب المسح علی الخفین 227 2
24 باب الحیض و الاستحاضة 251 2
25 حیض کا بیان 251 24
26 فصل فی المستحاضة 270 24
27 فصل فی النفاس 276 24
28 نفاس کا بیان 276 27
29 باب الانجاس وتطھیرھا 283 2
30 نجاست ، اور اسکے پاک کرنے کا با ب 283 29
31 ہر ایک کے ناپاک ہو نے کی دلیل 297 29
33 درھم کی قسمیں تین ہیں 300 29
34 درھم کا حساب 300 29
36 فصل فی الاستنجاء 320 2
37 استنجاء کا بیان 320 36
38 کتاب الصلوة 329 1
39 باب المواقیت 329 38
40 فصل اوقات مستحب 342 39
41 فصل فی الاوقات التی تکرہ فیھا الصلوة 351 39
42 باب الاذان 362 38
43 باب شروط الصَّلٰوة التی تتقدمہا 385 38
44 باب صفة الصلوة 413 38
45 فصل فی القراء ة 496 44
46 باب الامامة 523 38
47 جماعت کا بیان 523 46
49 باب الحدث فی الصلوة 569 38
50 باب مایفسد الصلوٰة وما یکرہ فیہا 601 38
Flag Counter