٢ و کیفیتھما ان یمضمض ثلاثایأخذلکل مرة ماء جدیدا، ثم یستنشق کذالک۔ ھو المحکی من
تشریح : کلی کرنا اور ناک میں پانی ڈالنا سنت ہیں ۔اور اسکی صورت یہ ہے کہ پہلے تین مرتبہ پانی لے اور اس سے کلی کرے اور ہر مرتبہ نیا پانی لے ۔پھر تین مرتبہ پانی لے اور اس سے ناک میں پانی ڈالے ۔کلی اور ناک کے لئے ایک ہی چلو نہ لے ۔دلیل کے لئے یہ احادیث ہیں جنکا اشارہ متن میں کیا ۔
وجہ: (١) حدیث میں ہے رأیت عثمان بن عفان سئل عن الوضوء فدعا بماء فاتی بمیضأة فاصغاھا علی یدہ الیمنی ثم ادخلھا فی الماء فتمضمض ثلثا واستنثر ثلثا (ابوداؤد شریف، باب صفة وضوء النبی ۖ ص ١٦ نمبر ١٠٨ ١١٢ مسلم شریف باب صفة الوضوء و کمالہ ۔ ص ١٢٣ نمبر ٥٣٨٢٢٦)اس باب کی یہ تیسری حدیث ہے ۔ اس باب میں تین مرتبہ کلی الگ پانی سے کی ہے۔ اور تین مرتبہ ناک میں پانی الگ پانی لیکر ڈالا ہے۔ اس لئے حنفیہ کے نزدیک تین مرتبہ پانی لیکر کلی کرنا سنت ہے۔ (٢) عن طلحة عن ابیہ عن جدہ قال دخلت یعنی علی النبی ۖ وھو یتوضأ والماء یسیل من وجھہ ولحیتہ وعلی صدرہ فرأیتہ یفصل بین المضمضة والاستنشاق (ابو داؤدشریف، باب فی الفرق بین المضمضة والاستنشاق ص ٢٠ نمبر ١٣٩) ابو داؤد نے با ضابطہ باب باندھا ہے کہ کلی اور ناک میں پانی ڈالنا آپۖ نے الگ الگ فرمایا ہے۔
فائدہ : امام شافعی فرماتے ہیں کہ ایک چلو پانی لے اور اس کے آدھے سے کلی کرے اور آدھے کو ناک میں ڈالے پھر دوسری مرتبہ چلو میں پانی لے اور آدھے سے کلی کرے اور آدھے کو ناک میں ڈالے ، پھر تیسری مرتبہ چلو میں پانی لے اور آدھے سے کلی کرے اور آدھے کو ناک میں ڈالے۔ اس طرح تین ہی چلو سے دونوں کام کرے ۔کتاب الام میں ہے و احب الی ان یبدأ المتوضی بعد غسل یدیہ ان یتمضمض ،و یستنشق ثلاثا : یأخذ بکفہ غرفة لفیہ ،و انفہ ۔( موسوعة الامام الشافعی ،باب المضمضة و الاستنشاق ،ج اول ،ص ١٠٥ نمبر ٣٧٩ )
وجہ: ان کا استدلال ان احادیث سے ہے جس میں ۔فمضمض واستنشق من کف واحد ففعل ذلک ثلاثا ہے۔حدیث یہ ہے عن عبد اللہ بن زید ابن عاصم الانصاری ۔و کانت لہ صحبة ۔ قال : قیل لہ توضأ لناوضوء رسول اللہ ۖ .....ثم ادخل یدہ فاستخرجھا ،فمضمض و استنشق من کف واحد ة (مسلم شریف ، باب آخر فی صفة الوضوء ص ١٢٣ نمبر ٥٥٥٢٣٥بخاری شریف ،باب من مضمض و استنشق من غرفة واحدة ،ص ٣١،نمبر ١٩١ص ٢٦ نمبر ١٤٠ترمذی شریف،باب المضمضة ولاستنشاق من کف واحد،ص١٤، نمبر ٢٨)اس حدیث میں ایک ہی چلوسے کلی اور ناک میں پانی ڈالنے کا ذکر ہے۔ ہم کہتے ہیں کہ حدیث اوپر کی بھی ہے۔ اور الگ الگ پانی ڈالنے میں زیادہ نظافت ہے۔
ترجمہ : ٢ اور کلی کرنے اور ناک میں پانی ڈالنے کی کیفیت یہ ہے کہ تین مرتبہ کلی کرے اور ہر مرتبہ نیا پانی لے ،پھر ناک میں بھی ایسے ہی تین مرتبہ پانی ڈالے ،یہی حضور ۖ سے منقول ہے ۔اسکی حدیث اوپر گزر چکی ہے ۔