(٨) و السواک ) ١ لانہ السلام کان یواظب علیہ ٢ وعندفقدہ یعالج بالاصبع،لانہںفعل کذالک (٩) والمضمضة،والاستنشاق) ١ لان النبی علیہ السلام فعلھما علی المواظبة۔
ترجمہ :(٨) ]تیسری سنت[مسواک کرنا ہے ۔
ترجمہ : ١ اسلئے کہ حضور ۖ ہمیشہ مسواک کیا کرتے تھے ۔متن کا اشارہ ان احادیث کی طرف ہے ۔
وجہ: (١)حدیث میں ہے عن ابی ھریرة رضی اللہ عنہ عن النبی ۖ قال لولا ان اشق علی المؤمنین و فی حدیث زہیر علی امتی لامرتھم بالسواک عند کل صلوة (مسلم شریف ، باب السواک ص ١٢٨ نمبر ٢٥٢ ٥٨٩ ترمذی شریف ، باب ماجاء فی السواک ص ١٢ نمبر ٢٢ بخاری شریف ، باب السواک ص ٣٨ نمبر ٢٤٤)اس حدیث سے اگر چہ یہ ثابت ہوتا ہے کہ نماز کے وقت مسواک سنت ہے۔ لیکن یہاں ایک عبارت محذوف ہوگی عند وضوء کل صلوة یعنی ہر نماز کے وضو کے وقت مسواک کرنا سنت ہے۔
(٢)عن ابی ھریرة رضی اللہ عنہ قال قال رسول اللہ ۖ لولا ان اشق علی امتی لامرتھم بالسواک مع کل وضوء (سنن للبیھقی ، باب الدلیل علی ان السواک سنة لیس بواجب ،جلد اول ص ٥٧،نمبر ١٤٦) اس حدیث سے معلوم ہوا کہ مسواک وضو کے وقت سنت ہے (٣) مسواک کا مقصد منہ کی گندگی صاف کرنا ہے اس لئے وہ وضو کے زیادہ مناسب ہے ۔
فائدہ: امام شافعی کے نزدیک مسواک سنت نماز ہے ۔ ان کی دلیل اوپر کی حدیث عند کل صلوة ہے(موسوعة امام شافعی باب السواک ص ١٠٢ نمبر٣٦٥ ج اول)
ترجمہ : ٢ اور مسواک نہ ہوتے وقت انگلی سے رگڑے ۔اسلئے کہ حضور ۖ نے ایسا کیا ہے ۔
وجہ : حدث میں ہے کہ مسواک نہ ہو تے وقت انگلی کافی ہے ۔حدیث یہ ہے عن انس ، عن النبی ۖ قال : تجزی من السواک الاصابع ۔(سنن للبیھقی باب الاستیاک بالاصابع ،ج اول ،ص ٦٦ نمبر ١٧٦ )
لغت : یواظب : مواظبت سے مشتق ہے: کسی کام کو ہمیشہ کرنا ۔فقد : گم ہونا ،نہ پانا ۔یعالج : باب مفاعلت سے ،علاج کرنا ،کوئی کام کرنا ۔
ترجمہ : (٩) ]چوتھی سنت[ کلی کرنا ]پانچویں سنت[ ناک میں پانی ڈالنا۔
ترجمہ : ١ اسلئے کہ حضور ۖ نے ہمیشہ ایسا کیا ہے ۔اور کلی کرنے اور ناک میں پانی ڈالنے کی کیفیت یہ ہے کہ تین مرتبہ کلی کرے اور ہر مرتبہ نیا پانی لے ۔پھر ایسے ہی تین مرتبہ ناک میں پانی ڈالے ۔اسلئے کہ حضور ۖ کے وضوء سے یہی منقول ہے ۔