٣ والاصح انھا مستحبة، وان سماھافی الکتاب سنة، ٤ ویسمی قبل الاستنجائ، وبعدہ، ھو الصحیح
صلوة لجار المسجد الا فی المسجد : کہ مسجد کے پڑوسی کی نماز مسجد کے بغیر ہو تی ہی نہیں ۔حالانکہ سب ائمہ فرماتے ہیں کہ نماز ہو جاتی ہے البتہ پوری فضیلت والی نہیں ہوتی ،اسی طرح یہاں بھی بغیر بسم اللہ کے وضوء فضیلت والا نہیں ہوگا ۔
وجہ: اثر میں ہے کہ بغیر بسم اللہ کے وضوء کرلیا تو وضوء ہو جائے گا البتہ ثواب نہیں ملے گا ۔اثر یہ ہے عن الحسن قال : یسمی اذا توضأ ،فان لم یفعل اجزأہ ۔( مصنف ابن ابی شیبة ،ج اول ،باب فی التسمیة فی الوضوء ،ص ١٢ نمبر ١٨ ) اس اثر سے معلوم ہوا کہ بغیر بسم اللہ کے وضوء ہو جائے گا ۔
ترجمہ : ٣ صاحب ہدایہ فرماتے ہیں۔اصح یہ ہے کہ بسم اللہ پڑھنا مستحب ہے اگرچہ قدوری نے اسکو سنت فرمایا ہے ۔
تشریح : صاحب قدوری نے اوپر کی حدیث ۔لا وضوء لمن لم یذکر اسم اللہ علیہ ۔کی وجہ سے بسم اللہ پڑھنا سنت فرما یا ۔لیکن صاحب ھدایة دوسری حدیث کی بناء پر مستحب فرماتے ہیں ۔حدیث یہ ہے ۔عن ابی ھریرة قال : قال رسول اللہ ۖ : من توضأوذکر اسم اللہ یطھر جسدہ کلہ ،و من توضأ ولم یذکر اسم اللہ لم یطھر الا موضع الوضوئ۔(دار قطنی ج اول، باب التسمیة علی الوضوء ،ص ٧٦ نمبر٢٢٩ سنن بیھقی ج اول ،باب التسمیة علی الوضوء ،ص٧٤ نمبر٢٠٠ ،مصنف ابن ابی شیبة ، ج اول نمبر ١٧ ) اس حدیث میں ہے کہ بسم اللہ پڑھے گا تو پورا جسم پاک ہوجائیگا اور بسم اللہ نہیں پڑھے گا تو صرف اعضاء وضوء پاک ہونگے پورا جسم پاک نہیں ہوگا اس سے اشارہ ملتا ہے کہ بسم اللہ پڑھنا مستحب ہے ۔
فائدہ: اسحاق بن راھویہ فرماتے ہیں کہ جان کر بسم اللہ چھوڑ دے تو وضو لوٹائے گا اور بھول کر یا حدیث کی تاویل کرتے ہوئے بسم اللہ چھوڑ دے تو وضو ہو جائیگاان کی دلیل اوپر والی حدیث ہے۔ جس میں ہے کہ بغیر بسم اللہ کے وضوء ہو گا ہی نہیں ۔
ترجمہ : ٤ بسم اللہ استنجاء سے پہلے بھی پڑھ سکتا ہے اور بعد میں بھی پڑھ سکتا ہے ۔یہی صحیح ہے ۔
تشریح : وضوء سے پہلے پیشاب اورپاخانہ کی صفائی کے لئے استنجاء کرتے ہیں ۔اسکے بعد وضوء کرتے ہیں ۔حدیث کے انداز سے معلوم ہو تا ہے کہ ٹھیک وضوء سے پہلے بسم اللہ پڑھے ۔لیکن مصنف فرماتے ہیں کہ استنجاء سے پہلے بھی پڑھ لیگا تب بھی کافی ہو جائے گا ،اور ثواب مل جائے گا ۔یہی صحیح ہے ۔ اسکی وجہ یہ ہے کہ استنجاء کر نا بھی وضو ہی کے لئے ہی ہے اس لئے استنجاء سے پہلے بسم اللہ پڑھے گا تب بھی کافی ہو جائے گا ۔
لغت : تسمیة : سمی کا مصدر ہے ،بسم اللہ پڑھنا ۔الاستنجاء :نجا ،ینجو ،نجاة سے باب استفعال کا مصدر ہے پاخانہ پیشاب کرنے کے بعد دھونا یا ڈھیلے سے پوچھنا ۔