٢ ولان الید آلة التطھیر فتسن البدایة بتنظیفھا ٣ ھذا الغسل الی الرسغ لوقوع الکفایة بہ فی التنظیف۔(٧) قال (القدوری) و تسمیة اللہ تعالی فی ابتدا ء الوضوئ) ١ لقولہ علیہ السلام: لاوضوء لمن لم یسم، ٢ والمراد بہ نفی الفضیلة،
والے کے لئے ہاتھ دھونا سنت ہے ۔
ترجمہ : ٢ اور اسلئے بھی کہ ہاتھ پاک کرنے کا آلہ ہے اسلئے اسکو ہی پہلے صاف کرنا سنت ہو گی ۔
تشریح : ہاتھ سے پانی لیکر دوسرے عضو کو دھوتے ہیں اسلئے پہلے ہاتھ ہی کو پاک کرناچاہئے ورنہ تو ناپاک ہاتھ پانی کو ناپاک کردے گا تو دوسرے اعضاء پر وہ پانی کیسے ڈالیں گے اسلئے پہلے ہاتھ کو پاک کرنا سنت ہے ۔۔یہ صاحب ھدایہ دلیل عقلی پیش کر رہے ہیں ۔
ترجمہ : ٣ اور یہ دھونا پہنچے تک ہے کیونکہ اتنا ہی پاک کر نے کے لئے کافی ہے ۔
تشریح : حدیث میں ہاتھ کا لفظ ہے جس سے شبہ ہو تا ہے کہ شروع میں پورا ہاتھ دھونا ضروری ہو اسلئے مصنف نے شبہ دور کیا کہ یہاں ہاتھ سے پورا ہاتھ مراد نہیں ہے بلکہ گٹے تک ہی ضروری ہے کیونکہ برتن میں ہاتھ ڈال کر پانی نکالنا ہو تو گٹے تک ہی ہاتھ پانی میں جاتا ہے اسلئے گٹے تک ہی دھونا ضروری ہے ۔
لغت : الاناء : برتن، استیقظ : بیدار ہوا ، نوم : نیند۔یغمس : برتن میں ہاتھ ڈالنا ۔باتت: رات گزارنا ، یہاں مراد ہے سوئے ہوئے میں ہاتھ کا نجاست کی جگہ پر چلا جانا ۔البدایة : شروع کرنا ۔تنظیف : نظف سے مشتق ہے پاک صاف کرنا ۔الرسغ : ہاتھ کا گٹا ۔ہاتھ کا پہنچا ۔
ترجمہ : (٧) ]دوسری سنت[ وضوء کے شروع میں بسم اللہ پڑھنا۔
ترجمہ : ١ متن کی حدیث میں ہے کہ جس نے بسم اللہ نہیں پڑھی اس کا وضو ہی نہیں ہے۔ اسکی اصل عبارت اسطرح ہے ۔ ابی سفیان بن حویطب عن جدتة عن ابیھا قال سمعت رسول اللہ ۖ یقول لا وضوء لمن لم یذکر اسم اللہ علیہ (ترمذی شریف، باب فی التسمیة عند الوضوء ص ١٣ نمبر ٢٥ابوداؤد شریف، باب فی التسمیة علی الوضوء ، ص١٥، نمبر ١٠١)حدیث میں یہ ذکر ہے کہ بغیر بسم اللہ کے وضوء ہی نہیں ہوگا۔لیکن اس سے مراد ہے کہ وضوء تو ہوجائے گا لیکن ثواب نہیں ملے گا ۔
ترجمہ : ٢ اس سے مراد فضیلت کی نفی ہے
تشریح : حدیث کی تاکید سے معلوم ہوتا ہے کہ بغیر بسم اللہ کے وضوء ہوگا ہی نہیں ۔لیکن مصنف اسکی تاویل کرتے ہیں کہ وضوء تو ہو جائے گا لیکن فضیلت نہیں ملے گی ۔جسکو حدیث میں فرمایا کہ گویا کہ اسکا وضوء ہی نہیں ہوا ۔جس طرح دوسری حدیث میں ہے لا