Deobandi Books

اثمار الہدایہ شرح اردو ہدایہ جلد 1

620 - 627
٢  وانما یأثم اذا مرّفی موضع سجودہ علی ماقیل ولایکون بینہما حائل 

تک ٹھہرا رہے ۔
 تشریح : نماز ی  کے سامنے سے گزر جائے تو اس سے نماز تو نہیں ٹوٹے گی ، البتہ گزرنے والے کو گناہ ہو گا ۔
وجہ :(١) اسلئے کہ نمازی کے خشوع خضوع میں خلل واقع ہوا ۔ (٢) صاحب ھدایہ کی اس حدیث میں اسکا ثبوت ہے ۔عن بسر بن سعید أن زید بن خالد أرسلہ الی ابی جھیم یسألہ : ماذا سمع من رسول اللہ  ۖ فی المار بین یدی المصلی ، فقال ابو جھیم قال رسول اللہ   ۖ : ((لو یعلم المار بین یدی المصلی ما ذا علیہ لکان أن یقف أربعین خیرا ً لہ من أن یمر بین یدیہ ))  قال أبو النضر : لا أدری قال أربعین یو ما أو شھرا أو سنة ۔ ( بخاری شریف ، باب اثم المار بین یدی المصلی ، ص ٧٣ ، نمبر ٥١٠ ابو داود شریف ، باب ما ینھی عنہ من المرور بین یدی المصلی ، ص ١١١، نمبر ٧٠١)   اس حدیث میں ہے کہ نمازی کے سامنے سے گزرے تو اس سے اس پر اتنا گناہ ہے کہ اسکو جان لے تو نمازی کے سامنے ہی چالیس دن یا چالیس مہینے ، یا چالیس سال تک ٹھہرا رہے وہ آسان ہے لیکن نمازی کے سامنے سے گزرنا اسکے لئے آسان نہیں ۔  حدیث میں چالیس سے مراد چالیس سال ہے کیونکہ ابن ماجہ شریف میں ایک سو سال کی حدیث ہے ۔ عن ابی ھریرة قال قال النبی  ۖ : لو یعلم أحدکم ما لہ  فی أن یمر بین یدی أخیہ معترضاً فی الصلوة کان لأن یقیم مائة عام خیر لہ من الخطوة التی خطاھا۔ ( ابن ماجة شریف ، باب المرور بین یدی المصلی ، ١٣٤، نمبر ٩٤٦) اس حدیث میں ہے کہ سو سال ٹھہرا رہے اس سے معلوم ہوا کہ بخاری والی حدیث میں چالیس سال مراد ہے ۔  
ترجمہ: ٢  گنہگار اس وقت ہو گا جبکہ سجدے کی جگہ پر گزرے ، جیسا کہ کہا گیا ، اور نمازی اور گزر نے والے کے درمیان کوئی چیز حائل نہ ہو ۔
تشریح : اس عبارت کا مطلب یہ ہے کہ نمازی کی جہاں تک سجدے کی جگہ ہے اسکے اندر اندر گزرے گا تو گزر نے والا گنہگار ہو گا ، اور اگر اس سے تھوڑا دور  ہو کر گزرے گا تو گنہگار نہیں ہو گا ، اور گنہگار ہو نے کے لئے دوسری شرط یہ ہے کہ گزرنے والا اور نمازی کے درمیان کوئی چیز مثلا دیوار یا لکڑی وغیرہ حائل نہ ہو تب گنہگار ہو گا اور اگر سترہ یا کوئی چیز حائل ہو اور سترہ کے پیچھے سے گزرے توگنہگار نہیں ہو گا۔    
 وجہ : (١) عن بسر بن سعید أن زید بن خالد أرسلہ الی ابی جھیم یسألہ : ماذا سمع من رسول اللہ  ۖ فی المار بین یدی المصلی ، فقال ابو جھیم قال رسول اللہ   ۖ : ((لو یعلم المار بین یدی المصلی ما ذا علیہ لکان أن یقف أربعین خیرا ً لہ من أن یمر بین یدیہ ))  قال أبو النضر : لا أدری قال أربعین یو ما أو شھرا 

x
ﻧﻤﺒﺮﻣﻀﻤﻮﻥﺻﻔﺤﮧﻭاﻟﺪ
1 فہرست 5 0
2 کتاب الطھارات 52 1
3 سنن الطھارة 62 2
4 مستحبات وضو کا بیان 71 3
5 نواقض وضو کا بیان 79 11
6 فصل فی الغسل 102 2
7 غسل کے فرائض کا بیان 102 6
8 غسل واجب ہونے کے اسباب 107 6
9 سنت غسل کا بیان 112 6
11 فصل فی نواقض الوضوئ 79 3
12 باب الماء الذی یجوز بہ الوضوء و ما لا یجوز بہ 117 2
13 پانی کے احکام 117 12
14 بڑے تالاب کا حساب ایک نظر میں 130 13
15 گول چیز ناپنے کافارمولہ 132 13
17 فصل فی البیر 155 12
18 کنویں کے مسائل 155 17
19 فصل فی الآسار 171 12
20 فصل جوٹھے اور اسکے علاوہ کے بارے میں 171 19
21 باب التیمم 193 2
23 باب المسح علی الخفین 227 2
24 باب الحیض و الاستحاضة 251 2
25 حیض کا بیان 251 24
26 فصل فی المستحاضة 270 24
27 فصل فی النفاس 276 24
28 نفاس کا بیان 276 27
29 باب الانجاس وتطھیرھا 283 2
30 نجاست ، اور اسکے پاک کرنے کا با ب 283 29
31 ہر ایک کے ناپاک ہو نے کی دلیل 297 29
33 درھم کی قسمیں تین ہیں 300 29
34 درھم کا حساب 300 29
36 فصل فی الاستنجاء 320 2
37 استنجاء کا بیان 320 36
38 کتاب الصلوة 329 1
39 باب المواقیت 329 38
40 فصل اوقات مستحب 342 39
41 فصل فی الاوقات التی تکرہ فیھا الصلوة 351 39
42 باب الاذان 362 38
43 باب شروط الصَّلٰوة التی تتقدمہا 385 38
44 باب صفة الصلوة 413 38
45 فصل فی القراء ة 496 44
46 باب الامامة 523 38
47 جماعت کا بیان 523 46
49 باب الحدث فی الصلوة 569 38
50 باب مایفسد الصلوٰة وما یکرہ فیہا 601 38
Flag Counter