٢ وانما یأثم اذا مرّفی موضع سجودہ علی ماقیل ولایکون بینہما حائل
تک ٹھہرا رہے ۔
تشریح : نماز ی کے سامنے سے گزر جائے تو اس سے نماز تو نہیں ٹوٹے گی ، البتہ گزرنے والے کو گناہ ہو گا ۔
وجہ :(١) اسلئے کہ نمازی کے خشوع خضوع میں خلل واقع ہوا ۔ (٢) صاحب ھدایہ کی اس حدیث میں اسکا ثبوت ہے ۔عن بسر بن سعید أن زید بن خالد أرسلہ الی ابی جھیم یسألہ : ماذا سمع من رسول اللہ ۖ فی المار بین یدی المصلی ، فقال ابو جھیم قال رسول اللہ ۖ : ((لو یعلم المار بین یدی المصلی ما ذا علیہ لکان أن یقف أربعین خیرا ً لہ من أن یمر بین یدیہ )) قال أبو النضر : لا أدری قال أربعین یو ما أو شھرا أو سنة ۔ ( بخاری شریف ، باب اثم المار بین یدی المصلی ، ص ٧٣ ، نمبر ٥١٠ ابو داود شریف ، باب ما ینھی عنہ من المرور بین یدی المصلی ، ص ١١١، نمبر ٧٠١) اس حدیث میں ہے کہ نمازی کے سامنے سے گزرے تو اس سے اس پر اتنا گناہ ہے کہ اسکو جان لے تو نمازی کے سامنے ہی چالیس دن یا چالیس مہینے ، یا چالیس سال تک ٹھہرا رہے وہ آسان ہے لیکن نمازی کے سامنے سے گزرنا اسکے لئے آسان نہیں ۔ حدیث میں چالیس سے مراد چالیس سال ہے کیونکہ ابن ماجہ شریف میں ایک سو سال کی حدیث ہے ۔ عن ابی ھریرة قال قال النبی ۖ : لو یعلم أحدکم ما لہ فی أن یمر بین یدی أخیہ معترضاً فی الصلوة کان لأن یقیم مائة عام خیر لہ من الخطوة التی خطاھا۔ ( ابن ماجة شریف ، باب المرور بین یدی المصلی ، ١٣٤، نمبر ٩٤٦) اس حدیث میں ہے کہ سو سال ٹھہرا رہے اس سے معلوم ہوا کہ بخاری والی حدیث میں چالیس سال مراد ہے ۔
ترجمہ: ٢ گنہگار اس وقت ہو گا جبکہ سجدے کی جگہ پر گزرے ، جیسا کہ کہا گیا ، اور نمازی اور گزر نے والے کے درمیان کوئی چیز حائل نہ ہو ۔
تشریح : اس عبارت کا مطلب یہ ہے کہ نمازی کی جہاں تک سجدے کی جگہ ہے اسکے اندر اندر گزرے گا تو گزر نے والا گنہگار ہو گا ، اور اگر اس سے تھوڑا دور ہو کر گزرے گا تو گنہگار نہیں ہو گا ، اور گنہگار ہو نے کے لئے دوسری شرط یہ ہے کہ گزرنے والا اور نمازی کے درمیان کوئی چیز مثلا دیوار یا لکڑی وغیرہ حائل نہ ہو تب گنہگار ہو گا اور اگر سترہ یا کوئی چیز حائل ہو اور سترہ کے پیچھے سے گزرے توگنہگار نہیں ہو گا۔
وجہ : (١) عن بسر بن سعید أن زید بن خالد أرسلہ الی ابی جھیم یسألہ : ماذا سمع من رسول اللہ ۖ فی المار بین یدی المصلی ، فقال ابو جھیم قال رسول اللہ ۖ : ((لو یعلم المار بین یدی المصلی ما ذا علیہ لکان أن یقف أربعین خیرا ً لہ من أن یمر بین یدیہ )) قال أبو النضر : لا أدری قال أربعین یو ما أو شھرا