Deobandi Books

اثمار الہدایہ شرح اردو ہدایہ جلد 1

621 - 627
٣  ویحاذی اعضاء المارّ اعضائَ ہ لوکان یصلی علی الدکان  (٤١٨)  وینبغی لمن یصلی فی الصحراء ان یتخذاَمامہ سترة)   ١  لقولہ علیہ السلام اذا صلی احدکم فی الصحراء فلیجعل بین یدیہ سترة

أو سنة ۔ ( بخاری شریف ، باب اثم المار بین یدی المصلی ، ص ٧٣ ، نمبر ٥١٠ ابو داود شریف ، باب ما ینھی عنہ من المرور بین یدی المصلی ، ص ١١١، نمبر ٧٠١)  اس حدیث میں ہے ( لو یعلم المار بین یدی المصلی)کہ نمازی کے بالکل سامنے سجدے کی جگہ سے گزرے تو گنہگار ہو گا ، اس لئے دور سے گزرے تو گنہگار نہیں ہو گا ۔ اور سترہ ہو تو گنہگار نہیںہو گا اسکی دلیل آگے آرہی ہے ۔ (١) اس اثر سے اسکی تائید ہو تی ہے۔ عن عطاء قال : یقال أدنی ما یکفیک فیما بینک و بین الساریة ثلاثة أذرع ۔ ( مصنف عبد الرزاق ، باب کم یکون بین الرجل و بین سترتہ ، ج ثانی ، ص ١٦ ، نمبر ٢٣٠٨) اس اثر میں  ہے کہ سترہ سے تین ہاتھ ، یعنی ساڑھے چار فت ، کے درمیان نماز پڑھے تو چل  جائے گا ، 
اور نماز ی کے پاؤں رکھنے کی جگہ سے سجدے کی جگہ تک تقریبا چار فٹ ہو تا ہے اسلئے ساڑھے چار فٹ وہی سجدے کی جگہ ہو ئی ، اسلئے اسکے درمیان گزرے گا تو گنہگار ہو گا ۔
ترجمہ:  ٣  اور گزرنے والے کے اعضاء نمازی کے اعضاء کے بالمقابل ہو جائے اگر چبوترے پر نماز پرھ رہا ہو ۔ 
تشریح :  کوئی نمازی اونچائی پر نماز پڑھ رہا ہے تو اسکے سامنے سے گزرنے سے اس وقت گنہگار ہو گا جب گزر نے والے کا عضو نماز ی کے عضو کے بالمقابل ہو جائے ، لیکن اگر نمازی کی جگہ گزرنے والے کے قد سے بھی اونچی ہے تو اب گزرنے والا نیچے سے گزر رہا ہے اسلئے  گنہگار نہیں ہو گا ۔ اور یہ اونچائی اسکے لئے سترہ بن جائے گی ۔ 
وجہ :  اس اثر میں اسکا ثبوت ہے ۔ عن ابراھیم قال : اذا کنت فی الصلوة فوق سطح یمر علیک الناس ، فکنت حیث لا یری  الناس اذا مروا ،قال سفیان فیکون الذی یمنعک من أن تراھم الذی یسترک ۔ ( مصنف عبد الرزاق ، باب کم یکون بین الرجل و بین سترتہ ، ج ثانی ، ص ١٧، نمبر ٢٣١٢)  اس اثر میں ہے کہ اونچائی پر نماز پڑھو تو اتنا اونچا ہو کہ وہ نظر نہ آئے یعنی قد تک تو یہ اونچائی سترہ بنے گی ۔ 
لغت :المار : مر سے مشتق ہے گزر نے والا ۔ وقف : ٹھہر جائے ۔ اثم : گنہگار ہو نا ۔ حائل : پر دہ ،حیلولت سے مشتق ہے ۔یحاذی : محاذات سے مشتق ہے ، آمنے سامنے ہو نا ۔ الدکان : اونچی جگہ ۔ 
ترجمہ : (٤١٨) وہ شخص جو صحرا میں نماز پڑھ رہا ہو اسکے لئے مناسب یہ ہے کہ اپنے سامنے سترہ بنالے ۔ 
ترجمہ :   ١  حضور علیہ السلام کے قول کی وجہ سے کہ اگر تم صحراء میںنماز پڑھو تو اپنے سامنے سترہ بنا لو ۔ 
 
x
ﻧﻤﺒﺮﻣﻀﻤﻮﻥﺻﻔﺤﮧﻭاﻟﺪ
1 فہرست 5 0
2 کتاب الطھارات 52 1
3 سنن الطھارة 62 2
4 مستحبات وضو کا بیان 71 3
5 نواقض وضو کا بیان 79 11
6 فصل فی الغسل 102 2
7 غسل کے فرائض کا بیان 102 6
8 غسل واجب ہونے کے اسباب 107 6
9 سنت غسل کا بیان 112 6
11 فصل فی نواقض الوضوئ 79 3
12 باب الماء الذی یجوز بہ الوضوء و ما لا یجوز بہ 117 2
13 پانی کے احکام 117 12
14 بڑے تالاب کا حساب ایک نظر میں 130 13
15 گول چیز ناپنے کافارمولہ 132 13
17 فصل فی البیر 155 12
18 کنویں کے مسائل 155 17
19 فصل فی الآسار 171 12
20 فصل جوٹھے اور اسکے علاوہ کے بارے میں 171 19
21 باب التیمم 193 2
23 باب المسح علی الخفین 227 2
24 باب الحیض و الاستحاضة 251 2
25 حیض کا بیان 251 24
26 فصل فی المستحاضة 270 24
27 فصل فی النفاس 276 24
28 نفاس کا بیان 276 27
29 باب الانجاس وتطھیرھا 283 2
30 نجاست ، اور اسکے پاک کرنے کا با ب 283 29
31 ہر ایک کے ناپاک ہو نے کی دلیل 297 29
33 درھم کی قسمیں تین ہیں 300 29
34 درھم کا حساب 300 29
36 فصل فی الاستنجاء 320 2
37 استنجاء کا بیان 320 36
38 کتاب الصلوة 329 1
39 باب المواقیت 329 38
40 فصل اوقات مستحب 342 39
41 فصل فی الاوقات التی تکرہ فیھا الصلوة 351 39
42 باب الاذان 362 38
43 باب شروط الصَّلٰوة التی تتقدمہا 385 38
44 باب صفة الصلوة 413 38
45 فصل فی القراء ة 496 44
46 باب الامامة 523 38
47 جماعت کا بیان 523 46
49 باب الحدث فی الصلوة 569 38
50 باب مایفسد الصلوٰة وما یکرہ فیہا 601 38
Flag Counter