٣ ویحاذی اعضاء المارّ اعضائَ ہ لوکان یصلی علی الدکان (٤١٨) وینبغی لمن یصلی فی الصحراء ان یتخذاَمامہ سترة) ١ لقولہ علیہ السلام اذا صلی احدکم فی الصحراء فلیجعل بین یدیہ سترة
أو سنة ۔ ( بخاری شریف ، باب اثم المار بین یدی المصلی ، ص ٧٣ ، نمبر ٥١٠ ابو داود شریف ، باب ما ینھی عنہ من المرور بین یدی المصلی ، ص ١١١، نمبر ٧٠١) اس حدیث میں ہے ( لو یعلم المار بین یدی المصلی)کہ نمازی کے بالکل سامنے سجدے کی جگہ سے گزرے تو گنہگار ہو گا ، اس لئے دور سے گزرے تو گنہگار نہیں ہو گا ۔ اور سترہ ہو تو گنہگار نہیںہو گا اسکی دلیل آگے آرہی ہے ۔ (١) اس اثر سے اسکی تائید ہو تی ہے۔ عن عطاء قال : یقال أدنی ما یکفیک فیما بینک و بین الساریة ثلاثة أذرع ۔ ( مصنف عبد الرزاق ، باب کم یکون بین الرجل و بین سترتہ ، ج ثانی ، ص ١٦ ، نمبر ٢٣٠٨) اس اثر میں ہے کہ سترہ سے تین ہاتھ ، یعنی ساڑھے چار فت ، کے درمیان نماز پڑھے تو چل جائے گا ،
اور نماز ی کے پاؤں رکھنے کی جگہ سے سجدے کی جگہ تک تقریبا چار فٹ ہو تا ہے اسلئے ساڑھے چار فٹ وہی سجدے کی جگہ ہو ئی ، اسلئے اسکے درمیان گزرے گا تو گنہگار ہو گا ۔
ترجمہ: ٣ اور گزرنے والے کے اعضاء نمازی کے اعضاء کے بالمقابل ہو جائے اگر چبوترے پر نماز پرھ رہا ہو ۔
تشریح : کوئی نمازی اونچائی پر نماز پڑھ رہا ہے تو اسکے سامنے سے گزرنے سے اس وقت گنہگار ہو گا جب گزر نے والے کا عضو نماز ی کے عضو کے بالمقابل ہو جائے ، لیکن اگر نمازی کی جگہ گزرنے والے کے قد سے بھی اونچی ہے تو اب گزرنے والا نیچے سے گزر رہا ہے اسلئے گنہگار نہیں ہو گا ۔ اور یہ اونچائی اسکے لئے سترہ بن جائے گی ۔
وجہ : اس اثر میں اسکا ثبوت ہے ۔ عن ابراھیم قال : اذا کنت فی الصلوة فوق سطح یمر علیک الناس ، فکنت حیث لا یری الناس اذا مروا ،قال سفیان فیکون الذی یمنعک من أن تراھم الذی یسترک ۔ ( مصنف عبد الرزاق ، باب کم یکون بین الرجل و بین سترتہ ، ج ثانی ، ص ١٧، نمبر ٢٣١٢) اس اثر میں ہے کہ اونچائی پر نماز پڑھو تو اتنا اونچا ہو کہ وہ نظر نہ آئے یعنی قد تک تو یہ اونچائی سترہ بنے گی ۔
لغت :المار : مر سے مشتق ہے گزر نے والا ۔ وقف : ٹھہر جائے ۔ اثم : گنہگار ہو نا ۔ حائل : پر دہ ،حیلولت سے مشتق ہے ۔یحاذی : محاذات سے مشتق ہے ، آمنے سامنے ہو نا ۔ الدکان : اونچی جگہ ۔
ترجمہ : (٤١٨) وہ شخص جو صحرا میں نماز پڑھ رہا ہو اسکے لئے مناسب یہ ہے کہ اپنے سامنے سترہ بنالے ۔
ترجمہ : ١ حضور علیہ السلام کے قول کی وجہ سے کہ اگر تم صحراء میںنماز پڑھو تو اپنے سامنے سترہ بنا لو ۔