Deobandi Books

اثمار الہدایہ شرح اردو ہدایہ جلد 1

619 - 627
٢  اما فساد الصلوة فبالعمل الکثیر ولم یوجد (٤١٦)  وان مرّت امرأة بین یدی المصلی لم یقطع الصلوة)  ١    لقولہ علیہ السلام لایقطع الصلوٰة مرورشیء  (٤١٧) الا ان المارّاٰثم     ١  لقولہ علیہ السلام لوعلم المارُّبین یدی المصلی ماذا علیہ من الوزرلوقف اربعین۔     

تشریح : یہاں سے ایک فرق بیان کر رہے ہیں ۔ کہ کسی نے قسم کھائی کہ میں فلاں کا خط نہیں پڑھونگا ، اور اس نے اسکو زبان سے نہیں پڑھا بلکہ دیکھ کر صرف سمجھ لیا تو اس سے بھی امام محمد  کے نزدیک حانث ہو جائے گا ، اسکی وجہ یہ ہے کہ قسم کا مطلب یہ ہے کہ اسکے خط کو پڑھ کر اسکی راز کی بات معلوم نہیں کرے گا ۔ اور سمجھنے کی وجہ سے راز کی بات معلوم ہو گئی اسلئے حانث ہو جائے گا ۔
ترجمہ : ٢  بہر حال نماز کا فاسد ہو نا تو وہ عمل کثیر کی وجہ سے ہو تا ہے ، اور یہاں یہ نہیں پایا گیا ۔
تشریح :  امام محمد  فرماتے ہیں کہ نماز میں قرآن پڑھنے کی شکل میں پڑھنے سے نماز فاسد نہیںہو تی بلکہ اوراق  پلٹنے اور قرآن اٹھانے کی وجہ سے نماز فاسد ہو گی جو عمل کثیر ہے ، اور یہاںعمل کثیر نہیں پایا گیا اسلئے نماز فاسد نہیں ہو گی ۔
ترجمہ:  (٤١٦) اگر کوئی عورت نمازی کے سامنے سے گزر جائے تو نماز نہیںٹوٹے گی ۔
ترجمہ :  ١  اسلئے کہ حضور ۖ نے فرمایا کہ کسی چیز کے گزر نے سے نماز نہیں ٹوٹتی ۔  
وجہ :  (١)  کوئی آدمی نمازی کے سامنے سے گزر جائے تو خود نماز میںکوئی خلل واقع نہیں ہو ئی اسلئے نماز نہیںٹوٹے گی ، البتہ اس سے خشوع خضوع میں کمی واقع ہو سکتی ہے اسلئے گزرنا اچھا نہیں ہے ، اور نمازی کو بھی چاہئے کہ اپنے سامنے سترہ رکھ لے ۔ (٢ ) اسکے لئے  صاحب ھدایہ کی حدیث یہ ہے ۔عن ابی سعید قال قال رسول اللہ ۖ : لا یقطع الصلوة شیء ، و ادرؤوا ما استطعتم فانما ھو شیطان ۔ (  ابوداود شریف ، باب من قال لا یقطع الصلوة شیء ، ص ١١٣، نمبر ٧١٩ دار قطنی ، باب صفة السھو فی الصلوةو أحکامہ ، ج اول ،ص ٣٥٧، نمبر ١٣٦٧) اس حدیث سے معلوم ہوا کہ کوئی چیز نمازی کے سامنے سے گزرے تو اس سے نماز فاسد نہیں ہو گی البتہ سامنے سے گزرنا مکروہ ہے ۔(٣) عن عائشة ذکر عندھا ما  یقطع الصلوة الکلب و الحمار ، و المرأة ، فقالت عائشة : شبھتمونا بالحمر و الکلاب ، و اللہ لقد رأیت ُ النبی  ۖ یصلی و انی علی السریر بینہ و بین القبلة مضطجعة فتبدو لی الحاجة فأکرہ ان أجلس فأذی النبی  ۖ فأنسل من عند رجلیہ ۔( بخاری شریف ، باب من قال لا یقطع الصلوة شیء ، ٧٣ ، نمبر ٥١٤ ابو داود شریف ، باب من قال المرأة لا یقطع الصلوة ، ص ١١١، نمبر ٧١٠) اس حدیث میں ہے کہ عورت سامنے سے گزر جائے تب بھی نماز نہیںٹوٹے گی ۔ 
ترجمہ : (٤١٧) مگر یہ کہ گزرنے والا گنہگار ہو گا ۔
 ترجمہ  ١  حضور علیہ السلام کے قول کی وجہ سے کہ نمازی کے سامنے سے گزرنے والا جان لے کہ اس پر کتنا گناہ ہے تو وہ چالیس 

x
ﻧﻤﺒﺮﻣﻀﻤﻮﻥﺻﻔﺤﮧﻭاﻟﺪ
1 فہرست 5 0
2 کتاب الطھارات 52 1
3 سنن الطھارة 62 2
4 مستحبات وضو کا بیان 71 3
5 نواقض وضو کا بیان 79 11
6 فصل فی الغسل 102 2
7 غسل کے فرائض کا بیان 102 6
8 غسل واجب ہونے کے اسباب 107 6
9 سنت غسل کا بیان 112 6
11 فصل فی نواقض الوضوئ 79 3
12 باب الماء الذی یجوز بہ الوضوء و ما لا یجوز بہ 117 2
13 پانی کے احکام 117 12
14 بڑے تالاب کا حساب ایک نظر میں 130 13
15 گول چیز ناپنے کافارمولہ 132 13
17 فصل فی البیر 155 12
18 کنویں کے مسائل 155 17
19 فصل فی الآسار 171 12
20 فصل جوٹھے اور اسکے علاوہ کے بارے میں 171 19
21 باب التیمم 193 2
23 باب المسح علی الخفین 227 2
24 باب الحیض و الاستحاضة 251 2
25 حیض کا بیان 251 24
26 فصل فی المستحاضة 270 24
27 فصل فی النفاس 276 24
28 نفاس کا بیان 276 27
29 باب الانجاس وتطھیرھا 283 2
30 نجاست ، اور اسکے پاک کرنے کا با ب 283 29
31 ہر ایک کے ناپاک ہو نے کی دلیل 297 29
33 درھم کی قسمیں تین ہیں 300 29
34 درھم کا حساب 300 29
36 فصل فی الاستنجاء 320 2
37 استنجاء کا بیان 320 36
38 کتاب الصلوة 329 1
39 باب المواقیت 329 38
40 فصل اوقات مستحب 342 39
41 فصل فی الاوقات التی تکرہ فیھا الصلوة 351 39
42 باب الاذان 362 38
43 باب شروط الصَّلٰوة التی تتقدمہا 385 38
44 باب صفة الصلوة 413 38
45 فصل فی القراء ة 496 44
46 باب الامامة 523 38
47 جماعت کا بیان 523 46
49 باب الحدث فی الصلوة 569 38
50 باب مایفسد الصلوٰة وما یکرہ فیہا 601 38
Flag Counter