٢ اما فساد الصلوة فبالعمل الکثیر ولم یوجد (٤١٦) وان مرّت امرأة بین یدی المصلی لم یقطع الصلوة) ١ لقولہ علیہ السلام لایقطع الصلوٰة مرورشیء (٤١٧) الا ان المارّاٰثم ١ لقولہ علیہ السلام لوعلم المارُّبین یدی المصلی ماذا علیہ من الوزرلوقف اربعین۔
تشریح : یہاں سے ایک فرق بیان کر رہے ہیں ۔ کہ کسی نے قسم کھائی کہ میں فلاں کا خط نہیں پڑھونگا ، اور اس نے اسکو زبان سے نہیں پڑھا بلکہ دیکھ کر صرف سمجھ لیا تو اس سے بھی امام محمد کے نزدیک حانث ہو جائے گا ، اسکی وجہ یہ ہے کہ قسم کا مطلب یہ ہے کہ اسکے خط کو پڑھ کر اسکی راز کی بات معلوم نہیں کرے گا ۔ اور سمجھنے کی وجہ سے راز کی بات معلوم ہو گئی اسلئے حانث ہو جائے گا ۔
ترجمہ : ٢ بہر حال نماز کا فاسد ہو نا تو وہ عمل کثیر کی وجہ سے ہو تا ہے ، اور یہاں یہ نہیں پایا گیا ۔
تشریح : امام محمد فرماتے ہیں کہ نماز میں قرآن پڑھنے کی شکل میں پڑھنے سے نماز فاسد نہیںہو تی بلکہ اوراق پلٹنے اور قرآن اٹھانے کی وجہ سے نماز فاسد ہو گی جو عمل کثیر ہے ، اور یہاںعمل کثیر نہیں پایا گیا اسلئے نماز فاسد نہیں ہو گی ۔
ترجمہ: (٤١٦) اگر کوئی عورت نمازی کے سامنے سے گزر جائے تو نماز نہیںٹوٹے گی ۔
ترجمہ : ١ اسلئے کہ حضور ۖ نے فرمایا کہ کسی چیز کے گزر نے سے نماز نہیں ٹوٹتی ۔
وجہ : (١) کوئی آدمی نمازی کے سامنے سے گزر جائے تو خود نماز میںکوئی خلل واقع نہیں ہو ئی اسلئے نماز نہیںٹوٹے گی ، البتہ اس سے خشوع خضوع میں کمی واقع ہو سکتی ہے اسلئے گزرنا اچھا نہیں ہے ، اور نمازی کو بھی چاہئے کہ اپنے سامنے سترہ رکھ لے ۔ (٢ ) اسکے لئے صاحب ھدایہ کی حدیث یہ ہے ۔عن ابی سعید قال قال رسول اللہ ۖ : لا یقطع الصلوة شیء ، و ادرؤوا ما استطعتم فانما ھو شیطان ۔ ( ابوداود شریف ، باب من قال لا یقطع الصلوة شیء ، ص ١١٣، نمبر ٧١٩ دار قطنی ، باب صفة السھو فی الصلوةو أحکامہ ، ج اول ،ص ٣٥٧، نمبر ١٣٦٧) اس حدیث سے معلوم ہوا کہ کوئی چیز نمازی کے سامنے سے گزرے تو اس سے نماز فاسد نہیں ہو گی البتہ سامنے سے گزرنا مکروہ ہے ۔(٣) عن عائشة ذکر عندھا ما یقطع الصلوة الکلب و الحمار ، و المرأة ، فقالت عائشة : شبھتمونا بالحمر و الکلاب ، و اللہ لقد رأیت ُ النبی ۖ یصلی و انی علی السریر بینہ و بین القبلة مضطجعة فتبدو لی الحاجة فأکرہ ان أجلس فأذی النبی ۖ فأنسل من عند رجلیہ ۔( بخاری شریف ، باب من قال لا یقطع الصلوة شیء ، ٧٣ ، نمبر ٥١٤ ابو داود شریف ، باب من قال المرأة لا یقطع الصلوة ، ص ١١١، نمبر ٧١٠) اس حدیث میں ہے کہ عورت سامنے سے گزر جائے تب بھی نماز نہیںٹوٹے گی ۔
ترجمہ : (٤١٧) مگر یہ کہ گزرنے والا گنہگار ہو گا ۔
ترجمہ ١ حضور علیہ السلام کے قول کی وجہ سے کہ نمازی کے سامنے سے گزرنے والا جان لے کہ اس پر کتنا گناہ ہے تو وہ چالیس