(٤١٥) ولو نظر الی مکتوب وفہمہ فالصحیح انہ لاتفسد صلاتہ بالاجماع ) ١ بخلاف مااذا حلف لایقرأ کتاب فلانٍ حیث یحنث بالفہم عند محمد لانہ المقصود ہنالک الفہم
تشریح : اول صورت کا مطلب یہ ہے کہ قرآن کو اٹھانے ، اسکے اوراق کو پلٹنے اور اس میں نظر کر نے سے نماز فاسد ہو تی ہو ، جسکو عمل کثیر کہتے ہیں تو اس صورت میں یہ فرق ہو گا کہ قرآن میز پر رکھا ہوا ہو اور اوراق پلٹنے اور قرآن اٹھانے کی ضرورت نہ پڑے اور صرف قرآن میں نظر کر کے قرأت کرے تو اس سے نماز فاسد نہیں ہو گی ۔ اور قرآن کو اٹھائے گا اور عمل کثیر ہو گا تب نماز فاسد ہو گی ۔ اور قرآن کے اٹھانے اور نہ اٹھانے کے حکم میں فرق ہو جائے گا۔
ترجمہ: (٤١٥) اگر لکھے ہو ئے حروف کو دیکھا اور اسکو سمجھ بھی لیا تو صحیح مسلک یہ ہے کہ بالاجماع اس سے نماز فاسد نہیں ہو گی ۔
تشریح : ۔ نمازی کے سامنے کوئی بات لکھی ہوئی تھی ، نمازی نے اسکو سمجھ لیا اور اسکو زبان سے نہیں نکالا تو اس سے بالاجماع نماز فاسد نہیں ہو گی۔
وجہ : (١) صرف سمجھ لینے میں تعلیم اور تعلم نہیں ہے اسلئے نماز فاسد نہیں ہو گی (٢) اس صورت میں عمل کثیر بھی نہیںہے کہ نماز فاسد ہو۔(٣) حضور ۖ نے ایک صلح کے موقع پر حضرت ابو بکر کو اشارہ فرمایا کہ نماز کو جاری رکھیں اور حضرت ابو بکر نے اس اشارے کو سمجھا بھی پھر بھی انکی نماز فاسد نہیںہو ئی ، اسی پر قیاس کر تے ہوئے اگر لکھے ہوئے سے کوئی بات سمجھ لے تو اس سے نماز فاسد نہیں ہو گی ۔ لمبی حدیث کا ٹکڑا یہ ہے ۔ عن سھل بن سعد قال بلغ رسول اللہ ۖ أن بنی عمرو بن عوف بقباء کان بینھم شیء فخرج یصلح ....فلما اکثر الناس التفت فاذا رسول اللہ ۖ فأشار الیہ یأمرہ أن یصلی فرفع أبو بکر یدہ فحمد اللہ ، ثم رجع القھقری وراء ہ ۔ ( بخاری شریف ، باب رفع الایدی فی الصلوة لأمر ینزل بہ ، ص ١٩٤، نمبر ١٢١٨) اس حدیث میں ہے کہ حضور ۖ نے اشارہ کیا اور حضرت ابو بکر نے اسکو سمجھا پھر بھی نماز نہیں ٹوٹی ۔ (٤)اور عمل قلیل سے نماز فاسد نہیں ہو تی اسکی دلیل یہ حدیث ہے ۔ عن ابی قتادة أن رسول اللہ ۖ کان یصلی و ھو حامل أمامة بنت زینب بنت رسول اللہ ۖ و لابی العاص بن الربیع ، فاذا قام حملھا و اذا سجدو ضعھا ؟ قال یحی : قال مالک : نعم ۔( مسلم شریف ، باب جواز حمل الصبیان فی الصلوة ۔و ان الفعل القلیل لا یبطل الصلوة ، ص ٢٠٥، نمبر ٥٤٣ ١٢١٢) اس حدیث میں ہے کہ تھوڑے بہت عمل سے حضرت امامہ کو اٹھاتے تھے ، اسلئے اس سے نماز فاسد نہیںہوئی ، لیکن عمل کثیر ہو تو نماز فاسد ہو جائے گی ۔
ترجمہ : ١ بخلاف جبکہ قسم کھائی کہ فلاں کا خط نہیں پڑھے گا تو امام محمد کے نزدیک صرف سمجھنے سے حانث ہو جائے گا اسلئے کہ یہاں مقصود سمجھناہے ۔