Deobandi Books

اثمار الہدایہ شرح اردو ہدایہ جلد 1

618 - 627
(٤١٥) ولو نظر الی مکتوب وفہمہ فالصحیح انہ لاتفسد صلاتہ بالاجماع )  ١     بخلاف مااذا حلف  لایقرأ کتاب فلانٍ حیث یحنث بالفہم عند محمد لانہ المقصود ہنالک الفہم 

تشریح : اول صورت کا مطلب یہ ہے کہ قرآن کو اٹھانے ، اسکے اوراق کو پلٹنے اور اس میں نظر کر نے سے نماز فاسد ہو تی ہو ، جسکو عمل کثیر کہتے ہیں تو اس صورت میں یہ فرق ہو گا کہ قرآن میز پر رکھا ہوا ہو اور اوراق پلٹنے اور قرآن اٹھانے کی ضرورت نہ پڑے اور صرف قرآن میں نظر کر کے قرأت کرے تو اس سے نماز فاسد نہیں ہو گی ۔ اور قرآن کو اٹھائے گا اور عمل کثیر ہو گا تب نماز فاسد ہو گی ۔ اور قرآن کے اٹھانے اور نہ اٹھانے  کے حکم میں فرق ہو جائے گا۔
ترجمہ: (٤١٥) اگر لکھے ہو ئے حروف کو دیکھا اور اسکو سمجھ بھی لیا تو صحیح مسلک یہ ہے کہ بالاجماع اس سے نماز فاسد نہیں ہو گی ۔
تشریح : ۔ نمازی کے سامنے کوئی بات لکھی ہوئی تھی ، نمازی نے اسکو سمجھ لیا اور اسکو زبان سے نہیں نکالا تو اس سے بالاجماع نماز فاسد نہیں ہو گی۔ 
وجہ :  (١) صرف سمجھ لینے میں تعلیم اور تعلم نہیں ہے اسلئے نماز فاسد نہیں ہو گی (٢) اس صورت  میں عمل کثیر بھی نہیںہے کہ نماز فاسد ہو۔(٣) حضور ۖ نے ایک صلح کے موقع پر حضرت ابو بکر   کو اشارہ فرمایا کہ نماز کو جاری رکھیں اور حضرت ابو بکر   نے اس اشارے کو سمجھا بھی پھر بھی انکی نماز فاسد نہیںہو ئی ، اسی پر قیاس کر تے ہوئے اگر لکھے ہوئے سے کوئی بات سمجھ لے تو اس سے نماز فاسد نہیں ہو گی ۔ لمبی حدیث کا ٹکڑا یہ ہے ۔ عن سھل بن سعد  قال بلغ رسول اللہ  ۖ أن بنی عمرو بن عوف بقباء کان بینھم شیء فخرج یصلح ....فلما اکثر الناس التفت فاذا رسول اللہ  ۖ فأشار الیہ یأمرہ أن یصلی فرفع أبو بکر   یدہ فحمد اللہ ، ثم رجع القھقری وراء ہ ۔ ( بخاری شریف ، باب رفع الایدی فی الصلوة لأمر ینزل بہ ، ص ١٩٤، نمبر ١٢١٨) اس حدیث میں ہے کہ حضور ۖ نے اشارہ کیا اور حضرت ابو بکر  نے اسکو سمجھا پھر بھی نماز نہیں ٹوٹی ۔ (٤)اور عمل قلیل سے نماز فاسد نہیں ہو تی اسکی دلیل یہ حدیث ہے ۔ عن ابی قتادة أن رسول اللہ  ۖ کان یصلی و ھو حامل أمامة بنت زینب بنت رسول اللہ  ۖ و لابی العاص بن الربیع ، فاذا قام حملھا و اذا سجدو ضعھا ؟ قال یحی : قال مالک : نعم ۔( مسلم شریف ، باب جواز حمل الصبیان فی الصلوة ۔و ان الفعل القلیل لا یبطل الصلوة ، ص ٢٠٥، نمبر ٥٤٣ ١٢١٢) اس حدیث میں ہے کہ تھوڑے بہت عمل سے حضرت امامہ کو اٹھاتے تھے ، اسلئے اس سے نماز فاسد نہیںہوئی ، لیکن عمل کثیر ہو تو نماز فاسد ہو جائے گی ۔ 
ترجمہ :  ١  بخلاف جبکہ قسم کھائی کہ فلاں کا خط نہیں پڑھے گا تو امام محمد  کے نزدیک صرف سمجھنے سے حانث ہو جائے گا اسلئے کہ یہاں مقصود سمجھناہے ۔
 
x
ﻧﻤﺒﺮﻣﻀﻤﻮﻥﺻﻔﺤﮧﻭاﻟﺪ
1 فہرست 5 0
2 کتاب الطھارات 52 1
3 سنن الطھارة 62 2
4 مستحبات وضو کا بیان 71 3
5 نواقض وضو کا بیان 79 11
6 فصل فی الغسل 102 2
7 غسل کے فرائض کا بیان 102 6
8 غسل واجب ہونے کے اسباب 107 6
9 سنت غسل کا بیان 112 6
11 فصل فی نواقض الوضوئ 79 3
12 باب الماء الذی یجوز بہ الوضوء و ما لا یجوز بہ 117 2
13 پانی کے احکام 117 12
14 بڑے تالاب کا حساب ایک نظر میں 130 13
15 گول چیز ناپنے کافارمولہ 132 13
17 فصل فی البیر 155 12
18 کنویں کے مسائل 155 17
19 فصل فی الآسار 171 12
20 فصل جوٹھے اور اسکے علاوہ کے بارے میں 171 19
21 باب التیمم 193 2
23 باب المسح علی الخفین 227 2
24 باب الحیض و الاستحاضة 251 2
25 حیض کا بیان 251 24
26 فصل فی المستحاضة 270 24
27 فصل فی النفاس 276 24
28 نفاس کا بیان 276 27
29 باب الانجاس وتطھیرھا 283 2
30 نجاست ، اور اسکے پاک کرنے کا با ب 283 29
31 ہر ایک کے ناپاک ہو نے کی دلیل 297 29
33 درھم کی قسمیں تین ہیں 300 29
34 درھم کا حساب 300 29
36 فصل فی الاستنجاء 320 2
37 استنجاء کا بیان 320 36
38 کتاب الصلوة 329 1
39 باب المواقیت 329 38
40 فصل اوقات مستحب 342 39
41 فصل فی الاوقات التی تکرہ فیھا الصلوة 351 39
42 باب الاذان 362 38
43 باب شروط الصَّلٰوة التی تتقدمہا 385 38
44 باب صفة الصلوة 413 38
45 فصل فی القراء ة 496 44
46 باب الامامة 523 38
47 جماعت کا بیان 523 46
49 باب الحدث فی الصلوة 569 38
50 باب مایفسد الصلوٰة وما یکرہ فیہا 601 38
Flag Counter