١ لانہ عبادة انضافت الیٰ عبادة الاانہ یکرہ ) ١ یشبہ بصنع اہل الکتاب ٢ ولابی حنیفة ان حمل المصحف والنظرفیہ وتقلیب الاوراق عمل کثیر ٣ ولانہ تلقن من المصحف فصار کما اذا تلقن من غیرہ ٤ وعلیٰ ہٰذا لافرق بین المحمول والموضوع ٥ وعلی الاول یفترقان۔
ترجمہ : ١ اسلئے کہ قرآن میں نظر کر نا عبادت ہے اور قرأت جیسی عبادت سے مل گئی ]اسلئے نماز پوری ہو جائے گی [ مگر یہ کہ مکروہ ہے اسلئے کہ اھل کتاب کے مشابہ ہے ۔
تشریح : صاحبین فرماتے ہیں کہ قرآن کو دیکھ کر پڑھنے سے نماز فاسد نہیں ہو گی ، البتہ یہ طریقہ اھل کتاب کا ہے اسلئے مکروہ ہے۔
وجہ : (١) وہ فرماتے ہیں کہ قرأت کر نا عبادت ہے اور قرآن میں نظر کر نا بھی عبادت ہے اسلئے دو عبادت جمع ہو نے سے نماز فاسد نہیںہو گی (٢) اثر میں ہے کہ حضرت عائشہ کا غلام ذکوان دیکھ کر امامت کرواتے تھے اسلئے نماز میں قرآن دیکھ کر پڑھنا جائز ہے ۔ اثر یہ ہے ۔ و کانت عائشة یؤمھا عبدھا ذکوان من المصحف ۔ ( بخاری شریف ، باب امامة العبد و المولی ،ص٩٦ ، نمبر ٦٩٢) ا س اثر سے معلوم ہوا کہ قرآن دیکھ کر قرأت کر نا جائز ہے ۔اس سے نماز فاسد نہیں ہو تی ۔
ترجمہ : ٢ امام ابو حنیفہ کی دلیل یہ ہے کہ قرآن کو اٹھانا ، اور اس میں نظر کر نا اور اوراق کو الٹنا پلٹنا عمل کثیر ہے ۔]اس لئے اس سے نماز فاسد ہو گی [
تشریح : امام ابو حنیفہ کے یہاں قرآن کو دیکھ کر قرأت کر نے سے نماز فاسد ہو گی ، اسکی ایک دلیل یہ ہے کہ قرآن کو اٹھائے گا اور اس میں نظر کرے گا ، اور اسکے ورقوں کو الٹے پلٹے گا تو یہ سب عمل کثیر ہے جس سے نماز فاسد ہو جاتی ہے ۔اسلئے اس سے نماز فاسد ہو جائے گی ۔
ترجمہ :٣ اور اسلئے کہ قرآن سے تلقین حاصل کر نا ہو گا ، تو ایسا ہو گیا کہ اپنے مقتدی کے علاوہ سے تلقین حاصل کی ۔
تشریح : دوسری دلیل یہ دی کہ قرآن سے پڑھنا گویا کہ اپنے مقتدی کے علاوہ سے لقمہ لینا ہے کیونکہ قرآن اسکا مقتدی نہیں ہے ، اوراپنے مقتدی کے علاوہ سے لقمہ لینے سے نماز فاسد ہو جاتی ہے ،کیونکہ وہ کلام کے درجے میں ہے ۔
ترجمہ : ٤ اس صورت میں قرآن ہاتھ میں اٹھایا ہوا ہو یا قرآن میز پر رکھا ہوا ہو دونوں میںکوئی فرق نہیں ہے ۔
تشریح : قرآن میںنظر کر نے سے نماز فاسد ہو تو چاہے عمل کثیر کا صدور ہو یا نہ ہو قرآن کو ہاتھ میںاٹھانا ہو یا نہ ہو، اسکے اوراق کو الٹنا پلٹنا ہو یا نہ ہو دونوں صورتوں میں صرف قرآن میں نظر کر نے سے نماز فاسد ہو جائے گی ۔
ترجمہ : ٥ اوراول صورت میں دونوں میں فرق ہو گا ۔