(٤١٤) وقالا ہی تامة )
سے تعلیم اور تعلم کر نا ہے ، اور پہلے گزر چکا ہے کہ اپنے مقتدی کے علاوہ سے لقمہ لینا صحیح نہیںہے ۔ حدیث یہ ہے ۔عن علی قال قال رسول اللہ ۖ : یا علی ! لا تفتح علی الامام فی الصلوة ۔ ( ابو داود شریف ، باب النھی عن التلقین ، ص ١٣٩، نمبر ٩٠٨) اس حدیث سے معلوم ہوا کہ ضرورت نہ ہو تو لقمہ نہیں دینا چاہئے ۔(٢) أن علیا قال : لا تفتح علی الامام قوم و ھو یقرأ فانہ کلام ۔ ( مصنف عبد الرزاق ، باب تلقینة الامام ، ج ثانی ، ص ١٤١ ، نمبر ٢٨٢١) اس اثر میں ہے کہ اپنے امام کے علاوہ کو لقمہ نہ دے کیونکہ وہ کلام کے درجے میں ہے ، اور کلام سے نماز فاسد ہو جاتی ہے ،اسلئے قرآن کو دیکھ کر قرأت کر نے سے نماز فاسد ہو جائے گی ۔اس صورت میںقرآن ہاتھ میں اٹھا کر پڑھے تب بھی نماز فاسد ہو گی ، اور قرآن میزپر کھلا ہوا ہو اور پڑھ رہا ہو تب بھی نماز فاسد ہو گی ، چاہے عمل کثیر ہو یا نہ ہو ۔
(٢) دوسری وجہ یہ بیان فر ماتے ہیں کہ قرآن میں نظر کر نا اور اسکے ورقوں کو پلٹنا یہ عمل کثیر ہے ، اسلئے عمل کثیر سے نماز فاسد ہو جائے گی ۔ اس صورت میں اگر قرآن میز پر سامنے رکھا ہوا ہو اور انکے ورقوں کو پلٹنا نہ ہو صرف اسکو دیکھ کر قرأت کرے تو نماز فاسد نہیں ہو نی چاہئے ۔ (٣) عن رفاعة بن رافع أن رسول اللہ ۖ بینما ھو جالس فی المسجد یو ما ً ....فان کان معک قرآن فاقرأ ، و الا فاحمد اللہ و کبرہ و ھللہ ۔ ( ترمذی شریف ، باب ما جاء فی وصف الصلوة ، ص ٦٦، نمبر ٣٠٢ ) (٤) عن عبد اللہ بن ابی أوفی قال : جاء رجل الی النبی ۖ فقال : انی لا أستطیع أن أخذمن القرآن شیئاً فعلمنی ما یجزئنی منہ فقال : قل سبحان اللہ و الحمد للہ ۔( ابو داود شریف ، باب ما یجزی الامی و الاعجمی من القرأة ، ص ١٢٨، نمبر ٨٣٢ ) ان دونوں حدیثوں میں ہے ۔
کہ قرآن زبانی یاد نہ ہو تو الحمد للہ پڑھو اور تکبیر وغیرہ کہہ کر نماز پوری کرو ۔ یہاں آیت یاد نہ ہو نے کی شکل میں تکبیر وغیرہ کہنے کے لئے کہا یہ نہیں کہا کہ قرآن دیکھ کر پڑھو جس سے معلوم ہوا قرآن دیکھ کر پڑھنا جائز نہیں ہے(٥) پھر قرآن کو دیکھ کر پڑھنا اھل کتا ب کی مشابہت ہے ، کیونکہ وہ اپنی کتا ب یاد نہیں کر تے بلکہ کتاب کو دیکھ کر اپنی نماز میں پڑھتے ہیں ۔ چنانچہ اثر میں اسکا تذکرہ ہے۔ عن ابراھیم قال : کانوا یکرھون أن یؤمھم و ھو یقرأ فی المصحف ، فیشتبھون بأھل الکتاب ۔( مصنف عبد الرزاق ، باب الامام یقرأ فی المصحف ، ج ثانی ، ص ٤١٩، نمبر ٣٩٢٧) اس اثر سے معلوم ہوا قرآن دیکھکر قرأت پڑھنا اھل کتاب کے مشابہ ہے اور مکروہ ہے ۔ (٦) ایک بڑی حکمت یہ ہے کہ اگر قرآن دیکھ کر پڑھنے کی اجازت دے دی جائے تو کوئی بھی قرآن یاد نہیں کرے گا اور کوئی بھی حافظ نہیں بنے گا ، اور قرآن کے ضائع ہو نے کا خطرہ ہے ، اسلئے اس خطرے سے بچانے کے لئے یہی مناسب ہے کہ قرآن کو دیکھ کر قرأت کر نے کی اجازت نہ دی جائے ۔
ترجمہ : (٤١٤) اور صاحبین نے فرمایا کہ نماز پوری ہو جائے گی۔