Deobandi Books

اثمار الہدایہ شرح اردو ہدایہ جلد 1

616 - 627
(٤١٤) وقالا ہی تامة )  

سے تعلیم اور تعلم کر نا ہے ، اور پہلے گزر چکا ہے کہ اپنے مقتدی کے علاوہ سے لقمہ لینا صحیح نہیںہے ۔ حدیث یہ ہے ۔عن علی  قال قال رسول اللہ ۖ : یا علی ! لا تفتح علی  الامام فی الصلوة ۔  ( ابو داود شریف ، باب النھی عن التلقین ، ص ١٣٩، نمبر ٩٠٨) اس حدیث سے معلوم ہوا کہ ضرورت نہ ہو تو لقمہ نہیں دینا چاہئے ۔(٢) أن علیا قال : لا تفتح علی الامام قوم و ھو یقرأ فانہ کلام ۔ ( مصنف عبد الرزاق ، باب تلقینة الامام ، ج ثانی ، ص ١٤١ ، نمبر ٢٨٢١)  اس اثر میں ہے کہ اپنے امام کے علاوہ کو لقمہ نہ دے کیونکہ وہ کلام کے درجے میں ہے ، اور کلام سے نماز فاسد ہو جاتی ہے ،اسلئے قرآن کو دیکھ کر قرأت کر نے سے نماز فاسد ہو جائے گی ۔اس صورت میںقرآن ہاتھ میں اٹھا کر پڑھے تب بھی نماز فاسد ہو گی ، اور قرآن میزپر کھلا ہوا ہو اور پڑھ رہا ہو تب بھی نماز فاسد ہو گی ، چاہے عمل کثیر ہو یا نہ ہو ۔
(٢)  دوسری وجہ یہ بیان فر ماتے ہیں کہ قرآن میں نظر کر نا اور اسکے ورقوں کو پلٹنا یہ عمل کثیر ہے ، اسلئے عمل کثیر سے نماز فاسد ہو جائے گی ۔ اس صورت میں اگر قرآن میز پر سامنے رکھا ہوا ہو اور انکے ورقوں کو پلٹنا نہ ہو صرف اسکو دیکھ کر قرأت کرے تو نماز فاسد نہیں ہو نی چاہئے ۔  (٣)  عن رفاعة بن رافع أن رسول اللہ  ۖ بینما ھو جالس فی المسجد یو ما ً ....فان کان معک قرآن فاقرأ ، و الا فاحمد اللہ و کبرہ و ھللہ ۔ ( ترمذی شریف ، باب ما جاء فی وصف الصلوة ، ص ٦٦، نمبر ٣٠٢ ) (٤) عن عبد اللہ بن ابی أوفی قال : جاء رجل الی النبی  ۖ فقال : انی لا أستطیع أن أخذمن القرآن شیئاً فعلمنی ما یجزئنی منہ فقال : قل سبحان اللہ و الحمد للہ ۔( ابو داود شریف ، باب ما یجزی الامی و الاعجمی من القرأة ، ص ١٢٨، نمبر ٨٣٢ )  ان دونوں حدیثوں  میں ہے ۔
کہ قرآن زبانی یاد نہ ہو تو الحمد للہ پڑھو اور تکبیر وغیرہ کہہ کر نماز پوری کرو ۔ یہاں آیت یاد نہ ہو نے کی شکل میں تکبیر وغیرہ کہنے کے لئے کہا یہ نہیں کہا کہ قرآن دیکھ کر پڑھو جس سے معلوم ہوا قرآن دیکھ کر پڑھنا جائز نہیں ہے(٥) پھر قرآن کو دیکھ کر پڑھنا اھل کتا ب کی مشابہت ہے ، کیونکہ وہ اپنی کتا ب یاد نہیں کر تے بلکہ کتاب کو دیکھ کر اپنی نماز میں پڑھتے ہیں ۔ چنانچہ اثر میں اسکا تذکرہ ہے۔ عن ابراھیم قال : کانوا یکرھون أن یؤمھم و ھو یقرأ فی المصحف ، فیشتبھون بأھل الکتاب ۔( مصنف عبد الرزاق ، باب الامام یقرأ فی المصحف ، ج ثانی ، ص ٤١٩، نمبر ٣٩٢٧) اس اثر سے معلوم ہوا قرآن دیکھکر قرأت پڑھنا اھل کتاب کے مشابہ ہے اور مکروہ ہے ۔ (٦) ایک بڑی حکمت یہ ہے کہ اگر قرآن دیکھ کر پڑھنے کی اجازت دے دی جائے تو کوئی بھی قرآن یاد نہیں کرے گا اور کوئی بھی حافظ نہیں بنے گا ، اور قرآن کے ضائع ہو نے کا خطرہ ہے ، اسلئے اس خطرے سے بچانے کے لئے یہی مناسب ہے کہ قرآن کو دیکھ کر قرأت کر نے کی اجازت نہ دی جائے ۔
ترجمہ : (٤١٤) اور صاحبین نے فرمایا کہ نماز پوری ہو جائے گی۔
 
x
ﻧﻤﺒﺮﻣﻀﻤﻮﻥﺻﻔﺤﮧﻭاﻟﺪ
1 فہرست 5 0
2 کتاب الطھارات 52 1
3 سنن الطھارة 62 2
4 مستحبات وضو کا بیان 71 3
5 نواقض وضو کا بیان 79 11
6 فصل فی الغسل 102 2
7 غسل کے فرائض کا بیان 102 6
8 غسل واجب ہونے کے اسباب 107 6
9 سنت غسل کا بیان 112 6
11 فصل فی نواقض الوضوئ 79 3
12 باب الماء الذی یجوز بہ الوضوء و ما لا یجوز بہ 117 2
13 پانی کے احکام 117 12
14 بڑے تالاب کا حساب ایک نظر میں 130 13
15 گول چیز ناپنے کافارمولہ 132 13
17 فصل فی البیر 155 12
18 کنویں کے مسائل 155 17
19 فصل فی الآسار 171 12
20 فصل جوٹھے اور اسکے علاوہ کے بارے میں 171 19
21 باب التیمم 193 2
23 باب المسح علی الخفین 227 2
24 باب الحیض و الاستحاضة 251 2
25 حیض کا بیان 251 24
26 فصل فی المستحاضة 270 24
27 فصل فی النفاس 276 24
28 نفاس کا بیان 276 27
29 باب الانجاس وتطھیرھا 283 2
30 نجاست ، اور اسکے پاک کرنے کا با ب 283 29
31 ہر ایک کے ناپاک ہو نے کی دلیل 297 29
33 درھم کی قسمیں تین ہیں 300 29
34 درھم کا حساب 300 29
36 فصل فی الاستنجاء 320 2
37 استنجاء کا بیان 320 36
38 کتاب الصلوة 329 1
39 باب المواقیت 329 38
40 فصل اوقات مستحب 342 39
41 فصل فی الاوقات التی تکرہ فیھا الصلوة 351 39
42 باب الاذان 362 38
43 باب شروط الصَّلٰوة التی تتقدمہا 385 38
44 باب صفة الصلوة 413 38
45 فصل فی القراء ة 496 44
46 باب الامامة 523 38
47 جماعت کا بیان 523 46
49 باب الحدث فی الصلوة 569 38
50 باب مایفسد الصلوٰة وما یکرہ فیہا 601 38
Flag Counter