Deobandi Books

اثمار الہدایہ شرح اردو ہدایہ جلد 1

615 - 627
(٤١٢) ولوافتتح الظہربعد ماصلی منہا فہی ہی ویجتزئی بتلک الرکعة)    ١   لانہ نوی الشروع فی عین ما ہو فیہ فلغت نیتہ وبقی المنوی علیٰ حالہ  (٤١٣) واذا قرأ الامام من المصحف فسدت صلاتہ عند ابی حنیفة)

شریف ، باب تخفیف الصلوة ، ص ١٢٣، نمبر ٧٩٠) اس حدیث میں ایک صحابی نماز سے نکل گئے ، جس سے معلوم ہوا کہ آدمی نماز سے بالکل نکل جائے تو وہ نماز باطل ہو جاتی ہے ۔ 
 ترجمہ:  (٤١٢) کسی نے ظہر کی ایک رکعت شروع کر نے کے بعد پھر ظہر ہی کو شروع کیا تو وہ پہلی ہی ظہر ہے ، اور وہ رکعت شمار کی جائے گی ۔ 
تشریح : کسی نے مثلا ظہر کی ایک رکعت پڑھی پھر دوبارہ اسی ظہر کو شروع کیا اور درمیان میں نماز توڑنے والی حرکت نہیں کی تو پہلی نما ز باطل  نہیں ہو گی اور جو ایک رکعت پڑھی ہے وہ باقی رہے گی اب اسی پر بناء کر کے تین رکعت اور پڑھ لے ، اور درمیان میں  جو اگلی نماز کی نیت کی ہے وہ بیکار ہو گی اسکا کوئی اعتبار نہیں ہو گا ۔ 
وجہ :  (١)اسلئے کہ جب پہلی ہی نماز دوبارہ شروع کی تو پہلی ہی نماز ہوئی اسلئے پہلی نماز باقی رہے گی ۔ اور درمیان کی نیت بیکار ہو گی ۔ (٢) اس حدیث میں اسکا ثبوت ہے (٢)عن ابی ھریرة أن رسول اللہ  ۖ انصرف من اثنتین ، فقال لہ ذو الیدین : أقصرت الصلوة أم نسیتَ یا رسول اللہ ؟ فقال رسول اللہ ۖ : أصدق ذو الیدین ؟ فقال الناس : نعم ، فقام رسول اللہ  ۖ فصلی اثنتین أخریین ، ثم سلم ، ثم کبر، فسجد مثل سجودہ أو اطول ۔ ( بخاری شریف ،باب ھل یأخذ الامام اذا شک بقول الناس ؟ ، ص ٩٩ ، نمبر ٧١٤ ابو داود شریف ، باب السھو فی السجدتین ، ص ١٥٣، نمبر ١٠٠٨)  اس حدیث میںاسی نماز کو دوبارہ شروع فرمایا تو پہلی نماز باقی رہی ۔ ۔ درمیان نماز میں بات کی اس سے نماز ٹوٹی یا نہیںاسکی بحث  پہلے گزر چکی ہے ۔
ترجمہ :  ١  اسلئے کہ اسی کو شروع کیا جس میں پہلے تھا اسلئے اسکی نیت بیکار جائے گی ، اور جو پہلے نیت کی وہ باقی رہے گی ۔ 
تشریح :  جس نماز کو پہلے شروع کیا تھا اسی نماز کو دوبارہ شروع کیا اسلئے پہلی نماز باقی رہے گی ۔ اور درمیان کی نیت لغو ہو گی ۔
ترجمہ: (٤١٣) امام نے قرآن  سے دیکھ کر پڑ ھا تو امام ابو حنیفہ کے نزدیک نماز فاسد ہو جائے گی ، اور صاحبین نے فرمایا کہ نماز پوری ہو گئی ۔ 
تشریح :  امام نے قرآن دیکھ کر قرأت کی تو امام ابو حنیفہ  کے نزدیک نماز فاسد ہو جائے گی ۔
وجہ :  اسکی دو وجہ بیان فر ماتے ہیں (١) ایک وجہ یہ ہے کہ قرآن سے پڑھنا اس سے تلقین کر نا ہے ، یعنی اس سے لقمہ لینا ہے اور اس 

x
ﻧﻤﺒﺮﻣﻀﻤﻮﻥﺻﻔﺤﮧﻭاﻟﺪ
1 فہرست 5 0
2 کتاب الطھارات 52 1
3 سنن الطھارة 62 2
4 مستحبات وضو کا بیان 71 3
5 نواقض وضو کا بیان 79 11
6 فصل فی الغسل 102 2
7 غسل کے فرائض کا بیان 102 6
8 غسل واجب ہونے کے اسباب 107 6
9 سنت غسل کا بیان 112 6
11 فصل فی نواقض الوضوئ 79 3
12 باب الماء الذی یجوز بہ الوضوء و ما لا یجوز بہ 117 2
13 پانی کے احکام 117 12
14 بڑے تالاب کا حساب ایک نظر میں 130 13
15 گول چیز ناپنے کافارمولہ 132 13
17 فصل فی البیر 155 12
18 کنویں کے مسائل 155 17
19 فصل فی الآسار 171 12
20 فصل جوٹھے اور اسکے علاوہ کے بارے میں 171 19
21 باب التیمم 193 2
23 باب المسح علی الخفین 227 2
24 باب الحیض و الاستحاضة 251 2
25 حیض کا بیان 251 24
26 فصل فی المستحاضة 270 24
27 فصل فی النفاس 276 24
28 نفاس کا بیان 276 27
29 باب الانجاس وتطھیرھا 283 2
30 نجاست ، اور اسکے پاک کرنے کا با ب 283 29
31 ہر ایک کے ناپاک ہو نے کی دلیل 297 29
33 درھم کی قسمیں تین ہیں 300 29
34 درھم کا حساب 300 29
36 فصل فی الاستنجاء 320 2
37 استنجاء کا بیان 320 36
38 کتاب الصلوة 329 1
39 باب المواقیت 329 38
40 فصل اوقات مستحب 342 39
41 فصل فی الاوقات التی تکرہ فیھا الصلوة 351 39
42 باب الاذان 362 38
43 باب شروط الصَّلٰوة التی تتقدمہا 385 38
44 باب صفة الصلوة 413 38
45 فصل فی القراء ة 496 44
46 باب الامامة 523 38
47 جماعت کا بیان 523 46
49 باب الحدث فی الصلوة 569 38
50 باب مایفسد الصلوٰة وما یکرہ فیہا 601 38
Flag Counter