Deobandi Books

اثمار الہدایہ شرح اردو ہدایہ جلد 1

614 - 627
(٤١٠) وان ارادبہ اعلامہ انہ فی الصلوة لم تفسد بالاجماع )   ١    لقولہ علیہ السلام اذا نابت احدکم نائبة فی الصلوة فلیسبّح  (٤١١)  ومن صلّٰی رکعة من الظہر ثم افتتح العصر اوالتطوع فقد نقض الظہر)     ١  لانہ صح شروعہ فی غیرہ فیخرج عنہ 

جملوں کو بھی جواب کے طور پر کہا تو نماز فاسدنہیں ہو گی بلکہ ذکر ہی شمار کیا جائے گا ۔
ترجمہ: (٤١٠) اور اگر ان ذکروںکے کہنے سے اس بات کی اطلاع مقصود ہو کہ مصلی نماز میںہے تو بالاتفاق نماز فاسد نہیںہو گی ۔ 
ترجمہ :  ١  حضور ۖ  کے قول کی وجہ سے کہ جب تمکو نمازمیں کوئی واقعہ پیش آئے تو تسبیح پڑھ کر اطلاع دو ۔  
تشریح : ٫ لا الہ الا اللہ ، یا کوئی ذکر اس لئے زور سے بولا کہ سامنے والے کو بتائے کہ میں نماز میں ہوں تو اس سے نماز فاسد نہیں ہو گی ۔
وجہ :  (١) اسکی وجہ یہ ہے کہ اس صورت میں انسان سے خطاب نہیں ہے ، اور کسی کا جواب بھی نہیں ہے بلکہ صرف اس بات کی اطلاع ہے کہ میں ابھی نماز میں ہوں ، اسلئے یہ اصل کے اعتبار سے ذکر پر ہی رہے گا اور اس سے نماز فاسد نہیں ہو گی ۔(٢) حدیث میںہے کہ اگر نماز میں کوئی واقعہ پیش آجائے تو تسبیح پڑھ کر اطلاع دو کہ میں نماز میںہوں ۔ حدیث یہ ہے ۔ صاحب ھدایہ کی حدیث یہ ہے ۔ عن سھل ابن سعد الساعدی : أن رسول اللہ  ۖ ذھب الی بنی عمرو بن عوف لیصلح بینھم .....من رابہ شیء فی صلوتہ فلیسبح فانہ اذا سبح التفت الیہ و انما التصفیق للنساء ۔ ( بخاری شریف ، باب من دخل لیؤم الناس الخ ، ص ٩٥ ، نمبر ٦٨٤ مسلم شریف ، باب تقدیم الجماعة من یصلی بھم ، ص ١٧٩، نمبر ٤٢١ ٩٤٩)  اس حدیث میں ہے کہ تسبیح پڑھ کر اطلاع دے کہ میں نماز میں ہوںاسلئے تسبیح  پڑھ کر اطلاع دینے سے نماز فاسد نہیںہو گی ۔
ترجمہ: ( ٤١١) کسی نے مثلا ظہر کی ایک رکعت پرھی پھر عصر شروع کر دی ،یا نفل شروع کر دی تو ظہر کی نماز ٹوٹ گئی 
ترجمہ  :  ١  اسلئے کہ جب دوسرے کو شروع کر نا صحیح ہوا تو پہلی نماز سے نکل گیا ۔ 
تشریح :  کسی نے مثلا ظہر کی نماز شروع کی ، ایک رکعت پڑھی تھی اسکے بعد اسکو چھوڑ کر عصر کی نماز شروع کر لی  تو جب عصر کی نماز میں داخل ہو گیا تو ظہر کی ایک رکعت باطل ہو جائے گی ، ۔
وجہ :  (١)کیونکہ اسکو چھوڑ کر دوسری نماز شروع کر دی تو دوسری نماز میں داخل ہو نا اس وقت شمار کیا جائے گا جب پہلی نماز سے نکل جائے ، اسلئے پہلی نماز باطل ہو جائے گی ۔(٢) اس حدیث میں اسکا اشارہ موجود ہے ۔کان معاذ یصلی مع النبی  ۖ ثم یرجع فیؤمنا ....ثم جاء یؤم قومہ فقرأ البقرة ، فاعتزل رجل من القوم فصلی ، فقیل نافقت یا فلان ! ۔ ( ابو داود 

x
ﻧﻤﺒﺮﻣﻀﻤﻮﻥﺻﻔﺤﮧﻭاﻟﺪ
1 فہرست 5 0
2 کتاب الطھارات 52 1
3 سنن الطھارة 62 2
4 مستحبات وضو کا بیان 71 3
5 نواقض وضو کا بیان 79 11
6 فصل فی الغسل 102 2
7 غسل کے فرائض کا بیان 102 6
8 غسل واجب ہونے کے اسباب 107 6
9 سنت غسل کا بیان 112 6
11 فصل فی نواقض الوضوئ 79 3
12 باب الماء الذی یجوز بہ الوضوء و ما لا یجوز بہ 117 2
13 پانی کے احکام 117 12
14 بڑے تالاب کا حساب ایک نظر میں 130 13
15 گول چیز ناپنے کافارمولہ 132 13
17 فصل فی البیر 155 12
18 کنویں کے مسائل 155 17
19 فصل فی الآسار 171 12
20 فصل جوٹھے اور اسکے علاوہ کے بارے میں 171 19
21 باب التیمم 193 2
23 باب المسح علی الخفین 227 2
24 باب الحیض و الاستحاضة 251 2
25 حیض کا بیان 251 24
26 فصل فی المستحاضة 270 24
27 فصل فی النفاس 276 24
28 نفاس کا بیان 276 27
29 باب الانجاس وتطھیرھا 283 2
30 نجاست ، اور اسکے پاک کرنے کا با ب 283 29
31 ہر ایک کے ناپاک ہو نے کی دلیل 297 29
33 درھم کی قسمیں تین ہیں 300 29
34 درھم کا حساب 300 29
36 فصل فی الاستنجاء 320 2
37 استنجاء کا بیان 320 36
38 کتاب الصلوة 329 1
39 باب المواقیت 329 38
40 فصل اوقات مستحب 342 39
41 فصل فی الاوقات التی تکرہ فیھا الصلوة 351 39
42 باب الاذان 362 38
43 باب شروط الصَّلٰوة التی تتقدمہا 385 38
44 باب صفة الصلوة 413 38
45 فصل فی القراء ة 496 44
46 باب الامامة 523 38
47 جماعت کا بیان 523 46
49 باب الحدث فی الصلوة 569 38
50 باب مایفسد الصلوٰة وما یکرہ فیہا 601 38
Flag Counter