(٤١٠) وان ارادبہ اعلامہ انہ فی الصلوة لم تفسد بالاجماع ) ١ لقولہ علیہ السلام اذا نابت احدکم نائبة فی الصلوة فلیسبّح (٤١١) ومن صلّٰی رکعة من الظہر ثم افتتح العصر اوالتطوع فقد نقض الظہر) ١ لانہ صح شروعہ فی غیرہ فیخرج عنہ
جملوں کو بھی جواب کے طور پر کہا تو نماز فاسدنہیں ہو گی بلکہ ذکر ہی شمار کیا جائے گا ۔
ترجمہ: (٤١٠) اور اگر ان ذکروںکے کہنے سے اس بات کی اطلاع مقصود ہو کہ مصلی نماز میںہے تو بالاتفاق نماز فاسد نہیںہو گی ۔
ترجمہ : ١ حضور ۖ کے قول کی وجہ سے کہ جب تمکو نمازمیں کوئی واقعہ پیش آئے تو تسبیح پڑھ کر اطلاع دو ۔
تشریح : ٫ لا الہ الا اللہ ، یا کوئی ذکر اس لئے زور سے بولا کہ سامنے والے کو بتائے کہ میں نماز میں ہوں تو اس سے نماز فاسد نہیں ہو گی ۔
وجہ : (١) اسکی وجہ یہ ہے کہ اس صورت میں انسان سے خطاب نہیں ہے ، اور کسی کا جواب بھی نہیں ہے بلکہ صرف اس بات کی اطلاع ہے کہ میں ابھی نماز میں ہوں ، اسلئے یہ اصل کے اعتبار سے ذکر پر ہی رہے گا اور اس سے نماز فاسد نہیں ہو گی ۔(٢) حدیث میںہے کہ اگر نماز میں کوئی واقعہ پیش آجائے تو تسبیح پڑھ کر اطلاع دو کہ میں نماز میںہوں ۔ حدیث یہ ہے ۔ صاحب ھدایہ کی حدیث یہ ہے ۔ عن سھل ابن سعد الساعدی : أن رسول اللہ ۖ ذھب الی بنی عمرو بن عوف لیصلح بینھم .....من رابہ شیء فی صلوتہ فلیسبح فانہ اذا سبح التفت الیہ و انما التصفیق للنساء ۔ ( بخاری شریف ، باب من دخل لیؤم الناس الخ ، ص ٩٥ ، نمبر ٦٨٤ مسلم شریف ، باب تقدیم الجماعة من یصلی بھم ، ص ١٧٩، نمبر ٤٢١ ٩٤٩) اس حدیث میں ہے کہ تسبیح پڑھ کر اطلاع دے کہ میں نماز میں ہوںاسلئے تسبیح پڑھ کر اطلاع دینے سے نماز فاسد نہیںہو گی ۔
ترجمہ: ( ٤١١) کسی نے مثلا ظہر کی ایک رکعت پرھی پھر عصر شروع کر دی ،یا نفل شروع کر دی تو ظہر کی نماز ٹوٹ گئی
ترجمہ : ١ اسلئے کہ جب دوسرے کو شروع کر نا صحیح ہوا تو پہلی نماز سے نکل گیا ۔
تشریح : کسی نے مثلا ظہر کی نماز شروع کی ، ایک رکعت پڑھی تھی اسکے بعد اسکو چھوڑ کر عصر کی نماز شروع کر لی تو جب عصر کی نماز میں داخل ہو گیا تو ظہر کی ایک رکعت باطل ہو جائے گی ، ۔
وجہ : (١)کیونکہ اسکو چھوڑ کر دوسری نماز شروع کر دی تو دوسری نماز میں داخل ہو نا اس وقت شمار کیا جائے گا جب پہلی نماز سے نکل جائے ، اسلئے پہلی نماز باطل ہو جائے گی ۔(٢) اس حدیث میں اسکا اشارہ موجود ہے ۔کان معاذ یصلی مع النبی ۖ ثم یرجع فیؤمنا ....ثم جاء یؤم قومہ فقرأ البقرة ، فاعتزل رجل من القوم فصلی ، فقیل نافقت یا فلان ! ۔ ( ابو داود