١ وہذا الخلاف فیما اذا ارادبہ جوابہ۔ ٢ لہ انہ ثناء بصیغتہ فلا یتغیر بعزیمتہ ٣ ولہما انہ اخرج الکلام مخرج الجواب وہو یحتملہ فیجعل جوابًا کالتشمیت والاسترجاع علی الخلاف فی الصحیح
ترجمہ : ١ یہ اختلاف اس صورت میں ہے کہ اس جملے سے جواب کی نیت ہو ۔
تشریح : یہ مسئلہ اس اصول پر ہے کہ اللہ کا ذکر جواب کے طور پر کہا تو ذکر ہی شما رکیا جائے گا اور نماز فاسد نہیںہو گی ، یا جواب اور کلام الناس شمار کیا جائے گا اور نماز فاسد ہو جائے گی ۔ اب ،لا الہ الا اللہ ،ذکر کے طور پر ہو تو کسی کے یہاں بھی اس کے کہنے سے نماز فاسد نہیں ہو گی ، لیکن کسی نے پوچھا کہ کیا اللہ کے علاوہ کوئی معبود ہے ؟ تو اسکے جواب میں ٫ لا الہ الا اللہ ، کہاتو یہ سوال کے جواب کے طور پر ہے تو اس بارے میں اختلاف ہے ، امام ابو حنیفہ اور امام محمد فرماتے ہیں کہ یہ جملہ اگر چہ ذکر ہے لیکن جواب کا بھی احتمال ہے ، اور جواب ہی کی نیت سے بولا ہے اسلئے جواب پر محمول کیا جائے گا ، اسلئے یہ کلام الناس ہو گیا اسلئے اس سے نماز فاسد ہو جائے گی ۔
وجہ : (١) جس طرح آیت قرآنی لقمہ دینے کے لئے نہ پڑھے بلکہ جب لقمہ کی ضرورت نہ ہو تب پڑھے تو کلام الناس کی وجہ سے اور تعلیم اور تعلم کی وجہ سے نماز فاسد ہو جاتی ہے اسی طرح ذکر جواب کے طور پر کرے تو کلام الناس ہو نے کی وجہ سے نماز فاسد ہو جائے گی ۔
ترجمہ: ٢ امام ابو یوسف کی دلیل یہ ہے کہ یہ جملہ صیغے کے اعتبار سے اللہ کی تعریف ہے اسلئے مصلی کے ارادے کی وجہ سے اسکی حقیقت نہیں بدلے گی۔
تشریح : حضرت امام ابو یوسف فرماتے ہیں کہ ٫ لا الہ الا اللہ ، صیغے کے اعتبار سے اللہ کی تعریف ہے اسلئے صرف نیت کی وجہ سے اسکی حقیقت نہیں بدلے گی ، وہ ذکر ہی رہے گا اسلئے اس سے نماز فاسد نہیں ہو گی ۔
ترجمہ:٣ امام ابو حنیفہ اور امام محمد کی دلیل یہ ہے کہ ٫ لا الہ الا اللہ ، کلام ہے اسلئے کہ وہ جواب کی جگہ پر دیا ہے ، اور جواب کا احتمال بھی رکھتا ہے اسلئے جواب ہی کر دیا جائے گا ]اور نماز فاسد ہو جائے گی [ جیسے کہ چھینک کے جواب دینے سے اور اناللہ و انا الیہ راجعون ، کے کہنے سے نماز فاسد ہو جاتی ہے ۔ اس بارے میں بھی صحیح بات یہ ہے کہ اختلاف ہے ۔
تشریح : طرفین کی دلیل یہ ہے کہ ٫ لا الہ الا اللہ ، یہاں جواب کے طور پر واقع ہوا ہے اور جواب بننے کی صلاحیت بھی ہے اسلئے اسکو جواب ہی شمار کیا جائے گا اور نماز فاسد ہو جائے گی ۔ جس طرح چھینک کے جواب میں ٫یرحمک اللہ، کہہ دے تو نماز فاسد ہو جاتی ہے ۔ اور کسی نے کہا کہ فلاں مر گیا تو اسکے جواب میں نماز ہی میں کہا ٫انا للہ و انا الیہ راجعون ، تو اس سے نماز فاسد ہو جاتی ہے کیوں کہ یہ بھی جواب کے طور پر ہے۔۔ صحیح بات یہ ہے کہ اس بارے میں بھی اختلاف ہے اور امام ابو یوسف کے نزدیک ان