Deobandi Books

اثمار الہدایہ شرح اردو ہدایہ جلد 1

613 - 627
 ١   وہذا الخلاف فیما اذا ارادبہ جوابہ۔ ٢   لہ انہ ثناء بصیغتہ فلا یتغیر بعزیمتہ  ٣   ولہما انہ اخرج الکلام مخرج الجواب وہو یحتملہ فیجعل جوابًا کالتشمیت والاسترجاع علی الخلاف فی الصحیح

ترجمہ  :  ١  یہ اختلاف اس صورت میں ہے کہ اس جملے سے جواب کی نیت ہو ۔ 
تشریح : یہ مسئلہ اس اصول پر ہے کہ اللہ کا ذکر جواب کے طور پر کہا تو ذکر ہی شما رکیا جائے گا اور نماز فاسد نہیںہو گی ، یا جواب اور کلام الناس شمار کیا جائے گا اور نماز فاسد ہو جائے گی ۔ اب ،لا الہ الا اللہ ،ذکر کے طور پر ہو تو کسی کے یہاں بھی اس کے کہنے سے نماز فاسد نہیں ہو گی ،  لیکن کسی نے پوچھا کہ کیا اللہ کے علاوہ کوئی معبود ہے ؟ تو اسکے جواب میں ٫ لا الہ الا اللہ ، کہاتو یہ سوال کے جواب کے طور پر ہے  تو اس بارے میں اختلاف ہے ، امام ابو حنیفہ  اور امام محمد  فرماتے ہیں کہ یہ جملہ اگر چہ ذکر ہے لیکن جواب کا بھی احتمال ہے ، اور جواب ہی کی نیت سے بولا ہے اسلئے جواب پر محمول کیا جائے گا ، اسلئے یہ کلام الناس ہو گیا اسلئے اس سے نماز فاسد ہو جائے گی  ۔
وجہ :  (١) جس طرح آیت قرآنی لقمہ دینے کے لئے نہ پڑھے بلکہ جب لقمہ کی ضرورت نہ ہو تب پڑھے تو کلام الناس کی وجہ سے اور تعلیم اور تعلم کی وجہ سے نماز فاسد ہو جاتی ہے اسی طرح ذکر جواب کے طور پر کرے تو کلام الناس ہو نے کی وجہ سے نماز فاسد ہو جائے گی ۔ 
ترجمہ: ٢  امام ابو یوسف  کی دلیل یہ ہے کہ یہ جملہ صیغے کے اعتبار سے اللہ کی تعریف ہے اسلئے مصلی کے ارادے کی وجہ سے اسکی حقیقت نہیں بدلے گی۔  
تشریح :  حضرت امام ابو یوسف  فرماتے ہیں کہ ٫ لا الہ الا اللہ ، صیغے کے اعتبار سے اللہ کی تعریف ہے اسلئے صرف نیت کی وجہ سے اسکی حقیقت نہیں بدلے گی ، وہ ذکر ہی رہے گا اسلئے اس سے نماز فاسد نہیں ہو گی ۔
ترجمہ:٣  امام ابو حنیفہ  اور امام محمد کی دلیل یہ ہے کہ ٫ لا الہ الا اللہ ، کلام ہے اسلئے کہ وہ جواب کی جگہ پر دیا ہے ، اور جواب کا احتمال بھی رکھتا ہے اسلئے جواب ہی کر دیا جائے گا ]اور نماز فاسد ہو جائے گی [ جیسے کہ چھینک کے جواب دینے سے اور اناللہ و انا الیہ راجعون ، کے کہنے سے نماز فاسد ہو جاتی ہے ۔ اس بارے میں بھی صحیح بات یہ ہے کہ اختلاف ہے ۔ 
تشریح :  طرفین کی دلیل یہ ہے کہ ٫ لا الہ الا اللہ ، یہاں جواب کے طور پر واقع ہوا ہے اور جواب بننے کی صلاحیت بھی ہے اسلئے اسکو جواب ہی شمار کیا جائے گا اور نماز فاسد ہو جائے گی ۔ جس طرح چھینک کے جواب میں ٫یرحمک اللہ، کہہ دے تو نماز فاسد ہو جاتی ہے ۔ اور کسی نے کہا کہ فلاں مر گیا تو اسکے جواب میں نماز ہی میں کہا ٫انا للہ و انا الیہ راجعون ، تو اس سے نماز فاسد ہو جاتی ہے کیوں کہ یہ بھی جواب کے طور پر ہے۔۔ صحیح بات یہ ہے کہ اس بارے میں بھی اختلاف ہے اور امام ابو یوسف  کے نزدیک ان 

x
ﻧﻤﺒﺮﻣﻀﻤﻮﻥﺻﻔﺤﮧﻭاﻟﺪ
1 فہرست 5 0
2 کتاب الطھارات 52 1
3 سنن الطھارة 62 2
4 مستحبات وضو کا بیان 71 3
5 نواقض وضو کا بیان 79 11
6 فصل فی الغسل 102 2
7 غسل کے فرائض کا بیان 102 6
8 غسل واجب ہونے کے اسباب 107 6
9 سنت غسل کا بیان 112 6
11 فصل فی نواقض الوضوئ 79 3
12 باب الماء الذی یجوز بہ الوضوء و ما لا یجوز بہ 117 2
13 پانی کے احکام 117 12
14 بڑے تالاب کا حساب ایک نظر میں 130 13
15 گول چیز ناپنے کافارمولہ 132 13
17 فصل فی البیر 155 12
18 کنویں کے مسائل 155 17
19 فصل فی الآسار 171 12
20 فصل جوٹھے اور اسکے علاوہ کے بارے میں 171 19
21 باب التیمم 193 2
23 باب المسح علی الخفین 227 2
24 باب الحیض و الاستحاضة 251 2
25 حیض کا بیان 251 24
26 فصل فی المستحاضة 270 24
27 فصل فی النفاس 276 24
28 نفاس کا بیان 276 27
29 باب الانجاس وتطھیرھا 283 2
30 نجاست ، اور اسکے پاک کرنے کا با ب 283 29
31 ہر ایک کے ناپاک ہو نے کی دلیل 297 29
33 درھم کی قسمیں تین ہیں 300 29
34 درھم کا حساب 300 29
36 فصل فی الاستنجاء 320 2
37 استنجاء کا بیان 320 36
38 کتاب الصلوة 329 1
39 باب المواقیت 329 38
40 فصل اوقات مستحب 342 39
41 فصل فی الاوقات التی تکرہ فیھا الصلوة 351 39
42 باب الاذان 362 38
43 باب شروط الصَّلٰوة التی تتقدمہا 385 38
44 باب صفة الصلوة 413 38
45 فصل فی القراء ة 496 44
46 باب الامامة 523 38
47 جماعت کا بیان 523 46
49 باب الحدث فی الصلوة 569 38
50 باب مایفسد الصلوٰة وما یکرہ فیہا 601 38
Flag Counter