Deobandi Books

اثمار الہدایہ شرح اردو ہدایہ جلد 1

612 - 627
  ٢   وینبغی للمقتدی ان لایعجّل بالفتح ٣   وللامام ان لایلجئہم الیہ بل یرکع اذا جاء اوانہ اوینتقل الی اٰیة اخری (٤٠٩) فلواجاب فی الصلوٰة رجلا بلا الٰہ الااﷲ فہٰذا کلام مفسد عند ابی حنفیة ومحمد وقال ابویسف لایکون مفسدا) 
 
اس سے نماز فاسد ہو جائے گی ۔اور دوسری آیت کی طرف منتقل ہو نے سے امام کو بھی لقمہ لینے کی ضرورت نہیں رہی اسلئے اب لقمہ لینے سے اسکی نماز فاسدہو جائے گی ۔ (٢)اثر میں ہے ۔ عن ابن مسعود قال : اذا تعای الامام فلا تردد علیہ فانہ کلام ۔ ( مصنف عبد الرزاق ، باب تلقینة الامام ، ج ثانی ، ص ١٤٢، نمبر ٢٨٢٣) اس اثر میں ہے کہ امام آیت  پڑھنے سے رک جائے تو اسکو گھما پھرا کر لقمہ دینے کی کو شش مت کرو اسلئے کہ وہ کلام کے درجے میں ہے اور کلام سے نماز فاسد ہو تی ہے ا سلئے اس سے بھی نماز فاسد ہو جائے گی ۔ 
نوٹ :  دوسری روایت یہ ہے کہ دوسری آیت کی طرف چلا گیا ہو پھر بھی اپنے امام کو لقمہ دینے سے نماز فاسد نہیںہو گی ۔ البتہ اب لقمہ دینا مکروہ ہے ۔ اثر یہ ہے ۔ عن ابراھیم قال : کانوا یکرہون أن یفتحوا علی الامام قال و قال مغیرة عن ابراھیم : اذا ترددت فی الآیة فجاوزھا الی غیرھا ۔  ( مصنف عبد الرزاق ، باب تلقینة الامام ، ج ثانی ، ص ١٤٢، نمبر٢٨٢٤)   اس آیت میں ہے کہ دوسری آیت کی طرف چلا گیا ہو تو اب لقمہ دینا مکروہ سمجھتے تھے ۔ 
ترجمہ : ٢  مقتدی کے لئے مناسب ہے کہ لقمہ دینے میں جلدی نہ کرے ۔ 
تشریح :  امام بھول جائے تو لقمہ دینے میں جلدی نہ کرے بلکہ ضرورت پڑنے پر لقمہ مانگے تب لقمہ دے ۔ اوپر گزر چکا ہے کہ لقمہ مانگے تب لقمہ دے  ۔ عن ابی عبد الرحمن السلمی قال : اذا استطعمکم فأطعموہ ، یقول اذا تعایا فردوا علیہ۔ ( مصنف عبد الرزاق ، باب تلقینة الامام ، ج ثانی ، ص ١٤١ ، نمبر ٢٨٢١ سنن بیھقی ، باب اذا حصر الامام لقن ، ج ثالث ، ص ٣٠٠، نمبر ٥٧٩٢مصنف ابن ابی شیبة ، نمبر ٤٧٩٤) اس اثر میں ہے کہ لقمہ مانگے تب لقمہ دو ، اسلئے لقمہ دینے میں جلدی نہ کرو ۔ 
 ترجمہ : ٣   اور امام کے لئے مناسب یہ ہے کہ لوگوں کو لقمہ دینے پر مجبور نہ کرے بلکہ اگر وقت ہو گیا ہو ]یعنی فرض قرأت کی مقدار پڑھ لیا ہو تو [ رکوع کر لے ، یا دوسری آیت کی طرف منتقل ہو جائے ۔ 
تشریح : اگر فرض قرأت یعنی تین چھوٹی آیتیں ،یا ایک بڑی آیت پڑھ چکا ہو تو اب رکوع کا وقت آگیا ہے اسلئے رکوع میں چلا جائے اور مقتدی کو لقمہ دینے پر مجبور نہ کرے، یا دوسری آیت شروع کر دے تاکہ لقمہ دینے کی ضرورت ہی نہ پڑے ۔  
ترجمہ :(٤٠٩) کسی آدمی نے نماز میں٫ لا الہ الا اللہ ، کے ذریعہ جواب دیا  تو امام ابو حنیفہ  اور امام محمد  کے نزدیک یہ نماز کو توڑنے والا کلام ہے ۔ اور امام ابو یوسف  نے فرمایا کہ یہ جملہ نماز کو فاسد کر نے والا نہیں ہے ۔

x
ﻧﻤﺒﺮﻣﻀﻤﻮﻥﺻﻔﺤﮧﻭاﻟﺪ
1 فہرست 5 0
2 کتاب الطھارات 52 1
3 سنن الطھارة 62 2
4 مستحبات وضو کا بیان 71 3
5 نواقض وضو کا بیان 79 11
6 فصل فی الغسل 102 2
7 غسل کے فرائض کا بیان 102 6
8 غسل واجب ہونے کے اسباب 107 6
9 سنت غسل کا بیان 112 6
11 فصل فی نواقض الوضوئ 79 3
12 باب الماء الذی یجوز بہ الوضوء و ما لا یجوز بہ 117 2
13 پانی کے احکام 117 12
14 بڑے تالاب کا حساب ایک نظر میں 130 13
15 گول چیز ناپنے کافارمولہ 132 13
17 فصل فی البیر 155 12
18 کنویں کے مسائل 155 17
19 فصل فی الآسار 171 12
20 فصل جوٹھے اور اسکے علاوہ کے بارے میں 171 19
21 باب التیمم 193 2
23 باب المسح علی الخفین 227 2
24 باب الحیض و الاستحاضة 251 2
25 حیض کا بیان 251 24
26 فصل فی المستحاضة 270 24
27 فصل فی النفاس 276 24
28 نفاس کا بیان 276 27
29 باب الانجاس وتطھیرھا 283 2
30 نجاست ، اور اسکے پاک کرنے کا با ب 283 29
31 ہر ایک کے ناپاک ہو نے کی دلیل 297 29
33 درھم کی قسمیں تین ہیں 300 29
34 درھم کا حساب 300 29
36 فصل فی الاستنجاء 320 2
37 استنجاء کا بیان 320 36
38 کتاب الصلوة 329 1
39 باب المواقیت 329 38
40 فصل اوقات مستحب 342 39
41 فصل فی الاوقات التی تکرہ فیھا الصلوة 351 39
42 باب الاذان 362 38
43 باب شروط الصَّلٰوة التی تتقدمہا 385 38
44 باب صفة الصلوة 413 38
45 فصل فی القراء ة 496 44
46 باب الامامة 523 38
47 جماعت کا بیان 523 46
49 باب الحدث فی الصلوة 569 38
50 باب مایفسد الصلوٰة وما یکرہ فیہا 601 38
Flag Counter