٢ وینبغی للمقتدی ان لایعجّل بالفتح ٣ وللامام ان لایلجئہم الیہ بل یرکع اذا جاء اوانہ اوینتقل الی اٰیة اخری (٤٠٩) فلواجاب فی الصلوٰة رجلا بلا الٰہ الااﷲ فہٰذا کلام مفسد عند ابی حنفیة ومحمد وقال ابویسف لایکون مفسدا)
اس سے نماز فاسد ہو جائے گی ۔اور دوسری آیت کی طرف منتقل ہو نے سے امام کو بھی لقمہ لینے کی ضرورت نہیں رہی اسلئے اب لقمہ لینے سے اسکی نماز فاسدہو جائے گی ۔ (٢)اثر میں ہے ۔ عن ابن مسعود قال : اذا تعای الامام فلا تردد علیہ فانہ کلام ۔ ( مصنف عبد الرزاق ، باب تلقینة الامام ، ج ثانی ، ص ١٤٢، نمبر ٢٨٢٣) اس اثر میں ہے کہ امام آیت پڑھنے سے رک جائے تو اسکو گھما پھرا کر لقمہ دینے کی کو شش مت کرو اسلئے کہ وہ کلام کے درجے میں ہے اور کلام سے نماز فاسد ہو تی ہے ا سلئے اس سے بھی نماز فاسد ہو جائے گی ۔
نوٹ : دوسری روایت یہ ہے کہ دوسری آیت کی طرف چلا گیا ہو پھر بھی اپنے امام کو لقمہ دینے سے نماز فاسد نہیںہو گی ۔ البتہ اب لقمہ دینا مکروہ ہے ۔ اثر یہ ہے ۔ عن ابراھیم قال : کانوا یکرہون أن یفتحوا علی الامام قال و قال مغیرة عن ابراھیم : اذا ترددت فی الآیة فجاوزھا الی غیرھا ۔ ( مصنف عبد الرزاق ، باب تلقینة الامام ، ج ثانی ، ص ١٤٢، نمبر٢٨٢٤) اس آیت میں ہے کہ دوسری آیت کی طرف چلا گیا ہو تو اب لقمہ دینا مکروہ سمجھتے تھے ۔
ترجمہ : ٢ مقتدی کے لئے مناسب ہے کہ لقمہ دینے میں جلدی نہ کرے ۔
تشریح : امام بھول جائے تو لقمہ دینے میں جلدی نہ کرے بلکہ ضرورت پڑنے پر لقمہ مانگے تب لقمہ دے ۔ اوپر گزر چکا ہے کہ لقمہ مانگے تب لقمہ دے ۔ عن ابی عبد الرحمن السلمی قال : اذا استطعمکم فأطعموہ ، یقول اذا تعایا فردوا علیہ۔ ( مصنف عبد الرزاق ، باب تلقینة الامام ، ج ثانی ، ص ١٤١ ، نمبر ٢٨٢١ سنن بیھقی ، باب اذا حصر الامام لقن ، ج ثالث ، ص ٣٠٠، نمبر ٥٧٩٢مصنف ابن ابی شیبة ، نمبر ٤٧٩٤) اس اثر میں ہے کہ لقمہ مانگے تب لقمہ دو ، اسلئے لقمہ دینے میں جلدی نہ کرو ۔
ترجمہ : ٣ اور امام کے لئے مناسب یہ ہے کہ لوگوں کو لقمہ دینے پر مجبور نہ کرے بلکہ اگر وقت ہو گیا ہو ]یعنی فرض قرأت کی مقدار پڑھ لیا ہو تو [ رکوع کر لے ، یا دوسری آیت کی طرف منتقل ہو جائے ۔
تشریح : اگر فرض قرأت یعنی تین چھوٹی آیتیں ،یا ایک بڑی آیت پڑھ چکا ہو تو اب رکوع کا وقت آگیا ہے اسلئے رکوع میں چلا جائے اور مقتدی کو لقمہ دینے پر مجبور نہ کرے، یا دوسری آیت شروع کر دے تاکہ لقمہ دینے کی ضرورت ہی نہ پڑے ۔
ترجمہ :(٤٠٩) کسی آدمی نے نماز میں٫ لا الہ الا اللہ ، کے ذریعہ جواب دیا تو امام ابو حنیفہ اور امام محمد کے نزدیک یہ نماز کو توڑنے والا کلام ہے ۔ اور امام ابو یوسف نے فرمایا کہ یہ جملہ نماز کو فاسد کر نے والا نہیں ہے ۔