Deobandi Books

اثمار الہدایہ شرح اردو ہدایہ جلد 1

611 - 627
(٤٠٧) وینوی الفتح علیٰ امامہ دون القراء ة)   ١   ہو الصحیح لانہ مرخص فیہ وقراء تہ ممنوع عنہا (٤٠٨)  ولوکان الامام انتقل الیٰ اٰیة اخریٰ تفسد صلوٰة الفاتح وتفسد صلوٰة الامام لواخذ)  
  ١   بقولہ لوجود التلقین والتلقُنِ من غیر ضرورة 

با وجود نماز نہیں ٹوٹے گی ۔ (٢) حدیث میں اسکا ثبوت ہے ۔ عن المسور بن یزید المالکی أن رسول اللہ  ۖ قال یحی   و ربما قال: شھدت ُ رسول اللہ  ۖ یقرأ فی الصلوة فترک شیئاً لم یقرأہ ، فقال لہ رجل : یا رسول اللہ!  ترکت َ آیة کذا و کذا فقال رسول اللہ  ۖ :ھلا ذکرتنیھا ۔ ( ابو داود شریف ، باب الفتح علی الامام فی الصلوة ، ص ١٣٩، نمبر ٩٠٧) اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اپناامام بھول جائے تو اسکو لقمہ دیا جا سکتا ہے ۔ (٣) اثر میںہے کہ لقمہ مانگے تو لقمہ دے ۔  عن ابی عبد الرحمن السلمی قال : اذا استطعمکم فأطعموہ ، یقول اذا تعایا فردوا علیہ۔ ( مصنف عبد الرزاق ، باب تلقینة الامام ، ج ثانی ، ص ١٤١ ، نمبر ٢٨٢١ سنن بیھقی ، باب اذا حصر الامام لقن ، ج ثالث ، ص ٣٠٠، نمبر ٥٧٩٢)  اس اثر سے معلوم ہوا کہ لقمہ مانگے تو لقمہ دے ورنہ نہیں کیونکہ وہ کلام کے درجے میںہے اسلئے بلا ضرورت اسکا ارتکاب نہ کرے۔یہ اپنی نماز کی اصلاح کے لئے اتنی بھی گنجائش دے دی گئی ہے ۔
ترجمہ: (٤٠٧)اور اپنے امام کو لقمہ دینے کی نیت کرے قرأت کی نیت نہ کرے ۔
 ترجمہ :   ١  یہی صحیح ہے ، اسلئے کہ لقمہ دینے کی رخصت ہے اور قرأت تو ممنوع ہے ۔
 تشریح : لقمہ دینے والا لقمہ دینے کی نیت کرے اسلئے کہ حدیث میں لقمہ دینے کی اجازت ہے ، قرأت کر نے کی نیت نہ کرے کیونکہ مقتدی کو امام کے پیچھے قرأت کر نے کی اجازت نہیں ہے ۔ تفصیل قرأت خلف الامام کی بحث میںگزر گئی۔
ترجمہ: (٤٠٨) اور اگر امام دوسری آیت کی طرف منتقل ہو گیا تو لقمہ دینے والے کی نماز فاسد ہو جائے گی ، اور اگر امام نے لقمہ دینے والے کی آیت کو لی تو امام کی نمازبھی فاسد ہو جائے گی۔
  ترجمہ :   ١  بغیر ضرورت کے مقتدی کے تلقین کر نے اور امام کے تلقین لینے کی وجہ سے ۔ 
تشریح : امام آیت پڑھنے میں اٹک گیا لیکن لقمہ دینے سے پہلے دوسری آیت شروع کر دی ، یا رکوع میں جانے لگا ، اسکے بعد کسی نے لقمہ دیا تو اب لقمہ دینے والے کی نماز فاسد ہو جائے گی ۔ اور اگر اب امام نے لقمہ والی آیت کو لے لیا تو امام کی بھی نماز فاسد ہو جائے گی ۔ 
وجہ :  (١) اسکی وجہ یہ ہے کہ لقمہ دینا حقیقت میں  بات کر نا ہے لیکن اپنی نماز کی اصلاح کے لئے ضرورت کے موقع پر اسکی اجازت دی گئی تھی ، لیکن جب دوسری آیت شروع کر دی تو اب لقمہ کی ضرورت نہیں، اسلئے اب لقمہ دینا کلام ہو گا اور تعلیم اور تعلم ہو گا اسلئے اب 

x
ﻧﻤﺒﺮﻣﻀﻤﻮﻥﺻﻔﺤﮧﻭاﻟﺪ
1 فہرست 5 0
2 کتاب الطھارات 52 1
3 سنن الطھارة 62 2
4 مستحبات وضو کا بیان 71 3
5 نواقض وضو کا بیان 79 11
6 فصل فی الغسل 102 2
7 غسل کے فرائض کا بیان 102 6
8 غسل واجب ہونے کے اسباب 107 6
9 سنت غسل کا بیان 112 6
11 فصل فی نواقض الوضوئ 79 3
12 باب الماء الذی یجوز بہ الوضوء و ما لا یجوز بہ 117 2
13 پانی کے احکام 117 12
14 بڑے تالاب کا حساب ایک نظر میں 130 13
15 گول چیز ناپنے کافارمولہ 132 13
17 فصل فی البیر 155 12
18 کنویں کے مسائل 155 17
19 فصل فی الآسار 171 12
20 فصل جوٹھے اور اسکے علاوہ کے بارے میں 171 19
21 باب التیمم 193 2
23 باب المسح علی الخفین 227 2
24 باب الحیض و الاستحاضة 251 2
25 حیض کا بیان 251 24
26 فصل فی المستحاضة 270 24
27 فصل فی النفاس 276 24
28 نفاس کا بیان 276 27
29 باب الانجاس وتطھیرھا 283 2
30 نجاست ، اور اسکے پاک کرنے کا با ب 283 29
31 ہر ایک کے ناپاک ہو نے کی دلیل 297 29
33 درھم کی قسمیں تین ہیں 300 29
34 درھم کا حساب 300 29
36 فصل فی الاستنجاء 320 2
37 استنجاء کا بیان 320 36
38 کتاب الصلوة 329 1
39 باب المواقیت 329 38
40 فصل اوقات مستحب 342 39
41 فصل فی الاوقات التی تکرہ فیھا الصلوة 351 39
42 باب الاذان 362 38
43 باب شروط الصَّلٰوة التی تتقدمہا 385 38
44 باب صفة الصلوة 413 38
45 فصل فی القراء ة 496 44
46 باب الامامة 523 38
47 جماعت کا بیان 523 46
49 باب الحدث فی الصلوة 569 38
50 باب مایفسد الصلوٰة وما یکرہ فیہا 601 38
Flag Counter