(٤٠٧) وینوی الفتح علیٰ امامہ دون القراء ة) ١ ہو الصحیح لانہ مرخص فیہ وقراء تہ ممنوع عنہا (٤٠٨) ولوکان الامام انتقل الیٰ اٰیة اخریٰ تفسد صلوٰة الفاتح وتفسد صلوٰة الامام لواخذ)
١ بقولہ لوجود التلقین والتلقُنِ من غیر ضرورة
با وجود نماز نہیں ٹوٹے گی ۔ (٢) حدیث میں اسکا ثبوت ہے ۔ عن المسور بن یزید المالکی أن رسول اللہ ۖ قال یحی و ربما قال: شھدت ُ رسول اللہ ۖ یقرأ فی الصلوة فترک شیئاً لم یقرأہ ، فقال لہ رجل : یا رسول اللہ! ترکت َ آیة کذا و کذا فقال رسول اللہ ۖ :ھلا ذکرتنیھا ۔ ( ابو داود شریف ، باب الفتح علی الامام فی الصلوة ، ص ١٣٩، نمبر ٩٠٧) اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اپناامام بھول جائے تو اسکو لقمہ دیا جا سکتا ہے ۔ (٣) اثر میںہے کہ لقمہ مانگے تو لقمہ دے ۔ عن ابی عبد الرحمن السلمی قال : اذا استطعمکم فأطعموہ ، یقول اذا تعایا فردوا علیہ۔ ( مصنف عبد الرزاق ، باب تلقینة الامام ، ج ثانی ، ص ١٤١ ، نمبر ٢٨٢١ سنن بیھقی ، باب اذا حصر الامام لقن ، ج ثالث ، ص ٣٠٠، نمبر ٥٧٩٢) اس اثر سے معلوم ہوا کہ لقمہ مانگے تو لقمہ دے ورنہ نہیں کیونکہ وہ کلام کے درجے میںہے اسلئے بلا ضرورت اسکا ارتکاب نہ کرے۔یہ اپنی نماز کی اصلاح کے لئے اتنی بھی گنجائش دے دی گئی ہے ۔
ترجمہ: (٤٠٧)اور اپنے امام کو لقمہ دینے کی نیت کرے قرأت کی نیت نہ کرے ۔
ترجمہ : ١ یہی صحیح ہے ، اسلئے کہ لقمہ دینے کی رخصت ہے اور قرأت تو ممنوع ہے ۔
تشریح : لقمہ دینے والا لقمہ دینے کی نیت کرے اسلئے کہ حدیث میں لقمہ دینے کی اجازت ہے ، قرأت کر نے کی نیت نہ کرے کیونکہ مقتدی کو امام کے پیچھے قرأت کر نے کی اجازت نہیں ہے ۔ تفصیل قرأت خلف الامام کی بحث میںگزر گئی۔
ترجمہ: (٤٠٨) اور اگر امام دوسری آیت کی طرف منتقل ہو گیا تو لقمہ دینے والے کی نماز فاسد ہو جائے گی ، اور اگر امام نے لقمہ دینے والے کی آیت کو لی تو امام کی نمازبھی فاسد ہو جائے گی۔
ترجمہ : ١ بغیر ضرورت کے مقتدی کے تلقین کر نے اور امام کے تلقین لینے کی وجہ سے ۔
تشریح : امام آیت پڑھنے میں اٹک گیا لیکن لقمہ دینے سے پہلے دوسری آیت شروع کر دی ، یا رکوع میں جانے لگا ، اسکے بعد کسی نے لقمہ دیا تو اب لقمہ دینے والے کی نماز فاسد ہو جائے گی ۔ اور اگر اب امام نے لقمہ والی آیت کو لے لیا تو امام کی بھی نماز فاسد ہو جائے گی ۔
وجہ : (١) اسکی وجہ یہ ہے کہ لقمہ دینا حقیقت میں بات کر نا ہے لیکن اپنی نماز کی اصلاح کے لئے ضرورت کے موقع پر اسکی اجازت دی گئی تھی ، لیکن جب دوسری آیت شروع کر دی تو اب لقمہ کی ضرورت نہیں، اسلئے اب لقمہ دینا کلام ہو گا اور تعلیم اور تعلم ہو گا اسلئے اب