Deobandi Books

اثمار الہدایہ شرح اردو ہدایہ جلد 1

610 - 627
٢    ثم شرط التکرار فی الاصل لانہ لیس من اعمال الصلوٰة فیعفی القلیل منہ ولم یشترط فی الجامع الصغیرلان الکلام بنفسہ قاطع وان قلَّ    (٤٠٦)  وان فتح علیٰ امامہ لم یکن کلامًا استحسانا)        
 ١   لانہ مضطرالیٰ اصلاح صلوٰتہ فکان ہٰذا من اعمال صلاتہ معنی 

ترجمہ: ٢  پھر مبسوط میں تکرار کی شرط ہے ، اسلئے کہ نماز کے اعمال میں سے ہے اسلئے تھوڑا  معاف ہو گا ۔ اور جامع صغیر میں تکرار کی شرط نہیںہے ، اسلئے کہ کلام خود نماز کو توڑنے والا ہے چاہے کم ہی کیوں نہ ہو  ۔ 
تشریح :  یہاں سے امام  محمد  کی کتاب مبسوط اور جامع صغیر کی عبارت میں فرق بیان کر رہے ہیں ۔ فرماتے ہیں کہ مبسوط  میں فرمایا کہ لقمہ دینے والا ایک بار لقمہ دے گا تو اسکی نماز فاسد نہیں ہو گی ، بلکہ کئی بار دے گا تب نماز فاسد ہو گی ، اسکی وجہ یہ ہے کہ لقمہ دینا ایک عمل ہے جو عمل 
صلوة میں سے نہیں ہے ، اور فعل اور عمل کا قاعدہ یہ ہے کہ اسکا تکرا ر ہو گا تب جاکر عمل کثیر ہو گا اور عمل کثیر سے نماز فاسد ہو گی، اور ایک مرتبہ لقمہ دینے سے عمل کثیر نہیں ہوا اسلئے اس سے نماز فاسد نہیں ہو گی ۔تھوڑے عمل کو معاف قرار دیا گیاہے ۔
اور جامع صغیر میں تکرار کی شرط نہیں ہے ۔ اسکی عبارت سے معلوم ہو تا ہے کہ ایک مرتبہ بھی اپنے امام کے علاوہ کولقمہ دے گا تو نماز فاسد ہو جائے گی ۔ جامع صغیر کی عبارت یہ ہے ۔ أو استفتح ففتح علیہ فی صلوتہ أو اجاب رجلا فی الصلاة بلا الہ الا اللہ فھذا کلام ۔ ( جامع صغیر ، باب ما یفسد الصلوة ، و ما لا یفسد ہ،ص ٩٣ ) اس عبارت میں ہے کہ ایک مرتبہ بھی لقمہ دیا تو وہ کلام کے درجے میںہے اور تھوڑے کلام سے نماز فاسد ہو جاتی ہے اسلئے ایک مرتبہ بھی اپنے امام کے علاوہ کو لقمہ دیا تو نماز فاسد ہو جائے گی ، اور اگر اس نے اس لقمہ کو قبول کیا تو اسکی بھی نماز فاسد ہو جائے گی ۔ ۔ حاصل یہ ہے کہ لقمہ دینا مبسوط میں عمل کے درجے میںہے اور جامع صغیر میں کلام کے درجے میں ہے ۔
لغت :  استفتح : لقمہ مانگا ۔ فتح : ۔ لقمہ دیا ، آیت یاد دلایا ۔  
ترجمہ :( ٤٠٦)  اور اگر اپنے امام کو لقمہ دیا تو استحسان کے طور پر یہ کلام نہیں ہو گا ۔
 ترجمہ :   ١  اسلئے کہ اپنی نماز کی اصلاح کر نے میں مجبور ہے ، اسلئے یہ معنوی طور پر اپنی ہی نماز کا عمل ہے ۔ 
تشریح :  اگر اپنے امام کو لقمہ دیا تو اس سے نماز فاسد نہیں ہو گی۔ قیاس کا تقاضہ تو یہ ہے کہ نماز فاسد ہو جائے کیونکہ لقمہ دینا کلام کے درجے میں ہے ، لیکن استحسان کے طور پر نماز فاسد نہیں ہو گی ۔
وجہ :  (١) اسکی وجہ یہ ہے کہ امام کو لقمہ دے کر نماز درست کرائے گا تو خود مقتدی کی بھی نماز درست ہو جائے گی ورنہ تو اسکی نماز بھی خراب ہو گی اسلئے لقمہ دینا گویا کہ اپنی نماز کو ٹھیک رکھنا ہے اسلئے اپنی ہی نماز کی اصلاح ہوئی جسکے لئے یہ مجبور ہے اسلئے کلام ہو نے کے 

x
ﻧﻤﺒﺮﻣﻀﻤﻮﻥﺻﻔﺤﮧﻭاﻟﺪ
1 فہرست 5 0
2 کتاب الطھارات 52 1
3 سنن الطھارة 62 2
4 مستحبات وضو کا بیان 71 3
5 نواقض وضو کا بیان 79 11
6 فصل فی الغسل 102 2
7 غسل کے فرائض کا بیان 102 6
8 غسل واجب ہونے کے اسباب 107 6
9 سنت غسل کا بیان 112 6
11 فصل فی نواقض الوضوئ 79 3
12 باب الماء الذی یجوز بہ الوضوء و ما لا یجوز بہ 117 2
13 پانی کے احکام 117 12
14 بڑے تالاب کا حساب ایک نظر میں 130 13
15 گول چیز ناپنے کافارمولہ 132 13
17 فصل فی البیر 155 12
18 کنویں کے مسائل 155 17
19 فصل فی الآسار 171 12
20 فصل جوٹھے اور اسکے علاوہ کے بارے میں 171 19
21 باب التیمم 193 2
23 باب المسح علی الخفین 227 2
24 باب الحیض و الاستحاضة 251 2
25 حیض کا بیان 251 24
26 فصل فی المستحاضة 270 24
27 فصل فی النفاس 276 24
28 نفاس کا بیان 276 27
29 باب الانجاس وتطھیرھا 283 2
30 نجاست ، اور اسکے پاک کرنے کا با ب 283 29
31 ہر ایک کے ناپاک ہو نے کی دلیل 297 29
33 درھم کی قسمیں تین ہیں 300 29
34 درھم کا حساب 300 29
36 فصل فی الاستنجاء 320 2
37 استنجاء کا بیان 320 36
38 کتاب الصلوة 329 1
39 باب المواقیت 329 38
40 فصل اوقات مستحب 342 39
41 فصل فی الاوقات التی تکرہ فیھا الصلوة 351 39
42 باب الاذان 362 38
43 باب شروط الصَّلٰوة التی تتقدمہا 385 38
44 باب صفة الصلوة 413 38
45 فصل فی القراء ة 496 44
46 باب الامامة 523 38
47 جماعت کا بیان 523 46
49 باب الحدث فی الصلوة 569 38
50 باب مایفسد الصلوٰة وما یکرہ فیہا 601 38
Flag Counter