٢ ثم شرط التکرار فی الاصل لانہ لیس من اعمال الصلوٰة فیعفی القلیل منہ ولم یشترط فی الجامع الصغیرلان الکلام بنفسہ قاطع وان قلَّ (٤٠٦) وان فتح علیٰ امامہ لم یکن کلامًا استحسانا)
١ لانہ مضطرالیٰ اصلاح صلوٰتہ فکان ہٰذا من اعمال صلاتہ معنی
ترجمہ: ٢ پھر مبسوط میں تکرار کی شرط ہے ، اسلئے کہ نماز کے اعمال میں سے ہے اسلئے تھوڑا معاف ہو گا ۔ اور جامع صغیر میں تکرار کی شرط نہیںہے ، اسلئے کہ کلام خود نماز کو توڑنے والا ہے چاہے کم ہی کیوں نہ ہو ۔
تشریح : یہاں سے امام محمد کی کتاب مبسوط اور جامع صغیر کی عبارت میں فرق بیان کر رہے ہیں ۔ فرماتے ہیں کہ مبسوط میں فرمایا کہ لقمہ دینے والا ایک بار لقمہ دے گا تو اسکی نماز فاسد نہیں ہو گی ، بلکہ کئی بار دے گا تب نماز فاسد ہو گی ، اسکی وجہ یہ ہے کہ لقمہ دینا ایک عمل ہے جو عمل
صلوة میں سے نہیں ہے ، اور فعل اور عمل کا قاعدہ یہ ہے کہ اسکا تکرا ر ہو گا تب جاکر عمل کثیر ہو گا اور عمل کثیر سے نماز فاسد ہو گی، اور ایک مرتبہ لقمہ دینے سے عمل کثیر نہیں ہوا اسلئے اس سے نماز فاسد نہیں ہو گی ۔تھوڑے عمل کو معاف قرار دیا گیاہے ۔
اور جامع صغیر میں تکرار کی شرط نہیں ہے ۔ اسکی عبارت سے معلوم ہو تا ہے کہ ایک مرتبہ بھی اپنے امام کے علاوہ کولقمہ دے گا تو نماز فاسد ہو جائے گی ۔ جامع صغیر کی عبارت یہ ہے ۔ أو استفتح ففتح علیہ فی صلوتہ أو اجاب رجلا فی الصلاة بلا الہ الا اللہ فھذا کلام ۔ ( جامع صغیر ، باب ما یفسد الصلوة ، و ما لا یفسد ہ،ص ٩٣ ) اس عبارت میں ہے کہ ایک مرتبہ بھی لقمہ دیا تو وہ کلام کے درجے میںہے اور تھوڑے کلام سے نماز فاسد ہو جاتی ہے اسلئے ایک مرتبہ بھی اپنے امام کے علاوہ کو لقمہ دیا تو نماز فاسد ہو جائے گی ، اور اگر اس نے اس لقمہ کو قبول کیا تو اسکی بھی نماز فاسد ہو جائے گی ۔ ۔ حاصل یہ ہے کہ لقمہ دینا مبسوط میں عمل کے درجے میںہے اور جامع صغیر میں کلام کے درجے میں ہے ۔
لغت : استفتح : لقمہ مانگا ۔ فتح : ۔ لقمہ دیا ، آیت یاد دلایا ۔
ترجمہ :( ٤٠٦) اور اگر اپنے امام کو لقمہ دیا تو استحسان کے طور پر یہ کلام نہیں ہو گا ۔
ترجمہ : ١ اسلئے کہ اپنی نماز کی اصلاح کر نے میں مجبور ہے ، اسلئے یہ معنوی طور پر اپنی ہی نماز کا عمل ہے ۔
تشریح : اگر اپنے امام کو لقمہ دیا تو اس سے نماز فاسد نہیں ہو گی۔ قیاس کا تقاضہ تو یہ ہے کہ نماز فاسد ہو جائے کیونکہ لقمہ دینا کلام کے درجے میں ہے ، لیکن استحسان کے طور پر نماز فاسد نہیں ہو گی ۔
وجہ : (١) اسکی وجہ یہ ہے کہ امام کو لقمہ دے کر نماز درست کرائے گا تو خود مقتدی کی بھی نماز درست ہو جائے گی ورنہ تو اسکی نماز بھی خراب ہو گی اسلئے لقمہ دینا گویا کہ اپنی نماز کو ٹھیک رکھنا ہے اسلئے اپنی ہی نماز کی اصلاح ہوئی جسکے لئے یہ مجبور ہے اسلئے کلام ہو نے کے