(٤٠٥) وان استفتح ففتح علیہ فی صلاتہ) ١ تفسد ومعناہ ان یفتح المصلی علیٰ غیر امامہ لانہ تعلیم وتعلم فکان من کلام الناس
مصلی نے ، یا سننے والے مصلی نے صرف ٫الحمد للہ ، کہا تو مشائخ فرماتے ہیں کہ یہ جواب کے طور پر متعارف نہیںہے ]اسلئے نماز فاسد نہیں ہو گی [
تشریح : یرحمک اللہ ، ک، خطاب کے ساتھ کہا تو یہ لوگوں کے ساتھ گفتگو ہے اسلئے یہ کلام الناس ہو گیا اسلئے نماز میںکہنے سے نماز فاسد ہو جائے گی ۔ اور اگر بغیر ٫ ک، خطاب کے کہا تو یہ لوگوں میں جواب کے طور پر متعارف نہیں ہے اسلئے یہ ذکر ہو گیا ، کلام الناس نہیں ہوا اسلئے نماز میں کہنے سے نماز فاسد نہیں ہو گی ۔
ترجمہ :(٤٠٥) اگر اپنے امام کے علاوہ نے لقمہ مانگا اور اسکو اسکی نماز میںلقمہ دیا تو نماز فاسد ہو جائے گی ۔
تشریح: کوئی آدمی نماز میں قرأت بھول گیا اور بار بار دہرانے سے بھی آیت یاد نہیںآرہی ہے ، جس سے اندازہ ہو تا ہے کہ وہ چاہ رہا ہے کہ کوئی آدمی مجھے یہ آیت بتلائے، جسکو لقمہ مانگنا کہتے ہیں ، اب دوسرا آدمی جو اسکا مقتدی نہیںتھا اسکو لقمہ دے دیا ، تو جس نے لقمہ دیا اسکی بھی نماز فاسد ہو جائے گی ، اور جس نے لقمہ قبول کیا اسکی بھی نماز فاسد ہو جائے گی ۔
وجہ : (١) اسکی وجہ یہ ہے کہ لقمہ دینا تعلیم اور تعلم ہے، اور کلام کے درجے میںہے ، اور پہلے گزر چکا ہے کہ نماز میںکلام کر نے سے نماز فاسد ہو جاتی ہے اسلئے لقمہ دینے اور لقمہ لینے سے نماز فاسد ہو جائے گی۔ اپنے امام کو لقمہ دینے سے نماز اسلئے فاسد نہیں ہو گی کہ اگر لقمہ نہیں دیگا تو خود مقتدی کی نمازخراب ہو گی اب اپنی نماز کو خرابی سے بچانے کے لئے لقمہ دینے کی گنجائش دی گئی ہے وہ بھی مجبوری کے درجے میں(٢)۔عن علی قال قال رسول اللہ ۖ : یا علی ! لا تفتح علی الامام فی الصلوة ۔ ( ابو داود شریف ، باب النھی عن التلقین ، ص ١٣٩، نمبر ٩٠٨) اس حدیث سے معلوم ہوا کہ ضرورت نہ ہو تو لقمہ نہیں دینا چاہئے ۔(٣) أن علیا قال : لا تفتح علی الامام قوم و ھو یقرأ فانہ کلام ۔ ( مصنف عبد الرزاق ، باب تلقینة الامام ، ج ثانی ، ص ١٤١ ، نمبر ٢٨٢١) اس اثر سے معلوم ہوا کہ لقمہ دینا کلام کر نے کے درجے میں ہے اسلئے بلا ضرورت لقمہ نہیں دینا چاہئے ۔ اسی طرح اگر اپنا امام نہ ہو تب بھی لقمہ نہیں دینا چاہئے ، کیونکہ دوسرے امام سے بات کر نے سے نماز فاسد ہو جاتی ہے۔
ترجمہ : ١ اس عبارت کا معنی یہ ہے کہ نمازی اپنے امام کے علاوہ کو لقمہ دے ]تو نماز فاسد ہو گی [ اسلئے کہ یہ تعلیم لینا اور تعلیم دینا ہے تو یہ لوگوںکا کلام ہو گیا ]اسلئے نماز فاسد ہو گی [
تشریح : چونکہ اگے کی عبارت میں آرہا ہے کہ اپنے امام کو لقمہ دینا جائز ہے ، اسلئے متن کی مطلق عبارت کو مقید کر دیا کہ اپنے امام کے علاوہ کو لقمہ دینے میں نماز فاسد ہو گی ۔اسلئے کہ وہ کلام کے درجے میں ہے اور تعلیم دینا اور آیت کا تعلیم لینا ہے ۔