Deobandi Books

اثمار الہدایہ شرح اردو ہدایہ جلد 1

609 - 627
(٤٠٥) وان استفتح ففتح علیہ فی صلاتہ)    ١   تفسد ومعناہ ان یفتح المصلی علیٰ غیر امامہ لانہ تعلیم وتعلم فکان من کلام الناس 

مصلی نے ، یا سننے والے مصلی نے صرف ٫الحمد للہ ، کہا تو مشائخ فرماتے ہیں کہ یہ جواب کے طور پر متعارف نہیںہے ]اسلئے نماز فاسد نہیں ہو گی [ 
تشریح :  یرحمک اللہ ، ک، خطاب کے ساتھ کہا تو یہ لوگوں کے ساتھ گفتگو ہے اسلئے یہ کلام الناس ہو گیا اسلئے نماز میںکہنے سے نماز فاسد ہو جائے گی ۔ اور اگر بغیر ٫ ک، خطاب کے کہا تو یہ لوگوں میں جواب کے طور پر متعارف نہیں ہے اسلئے یہ ذکر ہو گیا ، کلام الناس نہیں ہوا اسلئے نماز میں کہنے سے نماز فاسد نہیں ہو گی ۔ 
ترجمہ :(٤٠٥)   اگر اپنے امام کے علاوہ نے لقمہ مانگا اور اسکو اسکی نماز میںلقمہ دیا تو نماز فاسد ہو جائے گی ۔
تشریح: کوئی آدمی نماز میں قرأت بھول گیا اور بار بار دہرانے سے بھی آیت یاد نہیںآرہی ہے ، جس سے اندازہ ہو تا ہے کہ وہ چاہ رہا ہے کہ کوئی آدمی مجھے یہ آیت بتلائے، جسکو لقمہ مانگنا کہتے ہیں ، اب دوسرا آدمی جو اسکا مقتدی نہیںتھا اسکو لقمہ دے دیا ، تو جس نے لقمہ دیا اسکی بھی نماز فاسد ہو جائے گی ، اور جس نے لقمہ قبول کیا اسکی بھی نماز فاسد ہو جائے گی ۔ 
وجہ : (١) اسکی وجہ یہ ہے کہ لقمہ دینا تعلیم اور تعلم ہے، اور کلام کے درجے میںہے ، اور پہلے گزر چکا ہے کہ نماز میںکلام کر نے سے نماز فاسد ہو جاتی ہے اسلئے لقمہ دینے اور لقمہ لینے سے نماز فاسد ہو جائے گی۔ اپنے امام کو لقمہ دینے سے نماز اسلئے فاسد نہیں ہو گی کہ اگر لقمہ نہیں دیگا تو خود مقتدی کی نمازخراب ہو گی اب اپنی نماز کو خرابی سے بچانے کے لئے لقمہ دینے کی گنجائش دی گئی ہے وہ بھی مجبوری کے درجے میں(٢)۔عن علی  قال قال رسول اللہ ۖ : یا علی ! لا تفتح علی  الامام فی الصلوة ۔  ( ابو داود شریف ، باب النھی عن التلقین ، ص ١٣٩، نمبر ٩٠٨) اس حدیث سے معلوم ہوا کہ ضرورت نہ ہو تو لقمہ نہیں دینا چاہئے ۔(٣) أن علیا قال : لا تفتح علی الامام قوم و ھو یقرأ فانہ کلام ۔ ( مصنف عبد الرزاق ، باب تلقینة الامام ، ج ثانی ، ص ١٤١ ، نمبر ٢٨٢١) اس اثر سے معلوم ہوا کہ لقمہ دینا کلام کر نے کے درجے میں ہے اسلئے بلا ضرورت لقمہ نہیں دینا چاہئے ۔ اسی طرح اگر اپنا امام نہ ہو تب بھی لقمہ نہیں دینا چاہئے ، کیونکہ دوسرے امام سے بات کر نے سے نماز فاسد ہو جاتی ہے۔ 
ترجمہ :  ١  اس عبارت کا معنی یہ ہے کہ نمازی اپنے امام کے علاوہ کو لقمہ دے ]تو نماز فاسد ہو گی [ اسلئے کہ یہ تعلیم لینا اور تعلیم دینا ہے تو یہ لوگوںکا کلام  ہو گیا ]اسلئے نماز فاسد ہو گی [ 
تشریح :  چونکہ اگے کی عبارت میں آرہا ہے کہ اپنے امام کو لقمہ دینا جائز ہے ، اسلئے متن کی مطلق عبارت کو مقید کر دیا کہ اپنے امام کے علاوہ کو لقمہ دینے میں نماز فاسد ہو گی ۔اسلئے کہ وہ کلام کے درجے میں ہے اور تعلیم دینا اور آیت کا تعلیم لینا ہے ۔  
 
x
ﻧﻤﺒﺮﻣﻀﻤﻮﻥﺻﻔﺤﮧﻭاﻟﺪ
1 فہرست 5 0
2 کتاب الطھارات 52 1
3 سنن الطھارة 62 2
4 مستحبات وضو کا بیان 71 3
5 نواقض وضو کا بیان 79 11
6 فصل فی الغسل 102 2
7 غسل کے فرائض کا بیان 102 6
8 غسل واجب ہونے کے اسباب 107 6
9 سنت غسل کا بیان 112 6
11 فصل فی نواقض الوضوئ 79 3
12 باب الماء الذی یجوز بہ الوضوء و ما لا یجوز بہ 117 2
13 پانی کے احکام 117 12
14 بڑے تالاب کا حساب ایک نظر میں 130 13
15 گول چیز ناپنے کافارمولہ 132 13
17 فصل فی البیر 155 12
18 کنویں کے مسائل 155 17
19 فصل فی الآسار 171 12
20 فصل جوٹھے اور اسکے علاوہ کے بارے میں 171 19
21 باب التیمم 193 2
23 باب المسح علی الخفین 227 2
24 باب الحیض و الاستحاضة 251 2
25 حیض کا بیان 251 24
26 فصل فی المستحاضة 270 24
27 فصل فی النفاس 276 24
28 نفاس کا بیان 276 27
29 باب الانجاس وتطھیرھا 283 2
30 نجاست ، اور اسکے پاک کرنے کا با ب 283 29
31 ہر ایک کے ناپاک ہو نے کی دلیل 297 29
33 درھم کی قسمیں تین ہیں 300 29
34 درھم کا حساب 300 29
36 فصل فی الاستنجاء 320 2
37 استنجاء کا بیان 320 36
38 کتاب الصلوة 329 1
39 باب المواقیت 329 38
40 فصل اوقات مستحب 342 39
41 فصل فی الاوقات التی تکرہ فیھا الصلوة 351 39
42 باب الاذان 362 38
43 باب شروط الصَّلٰوة التی تتقدمہا 385 38
44 باب صفة الصلوة 413 38
45 فصل فی القراء ة 496 44
46 باب الامامة 523 38
47 جماعت کا بیان 523 46
49 باب الحدث فی الصلوة 569 38
50 باب مایفسد الصلوٰة وما یکرہ فیہا 601 38
Flag Counter