(٤٠٤) ومن عطس فقال لہ اٰخریرحمک اللّٰہ وہو فی الصلوٰة فسدت صلاتہ) ١ لانہ یجری فی مخاطبات الناس فکان من کلامہم بخلاف ما اذا قال العاطس اوالسامع الحمدﷲ علی ماقالوا لانہ لم یتعارف جوابًا
میںکھنکھارا تو نماز فاسد نہیں ہو گی ۔
اور بغیر مجبوری کے ہو تو یہ بات اور کلام کے درجے میں ہے اسلئے اس سے نماز فاسد ہوجائے گی ۔ اثر یہ ہے۔ سمع ابن عباس یقول : من نفخ فی الصلوة فقد تکلم ۔ ( مصنف عبد الرزاق ، باب النفخ فی الصلوة ، ج ثانی ، ص ١٨٩، نمبر ٣٠١٧ سنن بیھقی ، باب ما جاء فی النفخ فی موضع السجود ، ج ثانی ،ص ٣٥٨، نمبر ٣٣٦٤) اس اثر میں ہے کہ نماز میں پھونک مارنا کلام کر نے کی طرح ہے یعنی جس طرح کلام کر نے سے نماز فاسد ہو جاتی ہے اسی طرح پھونک مارنے سے بھی نماز فاسد ہو جائے گی ، اور کھنکھارنا بھی پھونک مارنے کی طرح ہے اسلئے اگر بغیرمجبوری کے کھنکھارنے سے بھی حروف اور آواز نکل جائے جس سے کوئی بات سمجھ میں آتی ہو تو نماز فاسد ہو جائے گی ، کیونکہ بات کر نے سے نماز فاسد ہوجاتی ہے ۔
لغت : ۔ تنحنح : کھنکھارنا ۔ عطاس : عطس سے مشتق ہے ، چھینکنا ، یا چھینکنے کا جواب دینا ۔جشاء : ڈکار مارنا ۔
ترجمہ: (٤٠٤) کسی کو چھینک آئی تو دوسرے نے اسکو یرحمک اللہ ، کہا ، اور وہ نماز میں تھا تو اسکی نماز فاسد ہو جائے گی ۔
تشریح : ۔ کسی کوچھینک آئی تو دوسرے نے مخاطب کے صیغے کے ساتھ ٫ یرحمک اللہ ، کہا تو چونکہ اس میں خطاب کا صیغہ ہے اسلئے یہ جواب ہو گیا یہ ذکر نہیںرہا بلکہ کلام الناس ہو گیا اسلئے اس سے نماز فاسدہو جائے گی ۔ اور اگر ٫ ک ، خطاب کا صیغہ نہیںہو تا بلکہ صرف الحمد للہ ہو تا تو چونکہ وہ خطاب کا صیغہ نہیں ہے اور کلام الناس نہیں ہے اسلئے اس سے نماز فاسد نہیںہو گی ۔
وجہ : (١)عن معاویة بن حکم السلمی قال بینا انا اصلی مع رسول اللہ ۖاذ عطش رجل من القوم ، فقلت : یرحمک اللہ ! فرمانی القوم بأبصارھم ... قال ان ھذہ الصلوة لا یصلح فیھا شیء من کلام الناس انما ھو التسبیح والتکبیر وقراء ة القرآن َ (مسلم شریف ، باب تحریم الکلام فی الصلوة و نسخ ماکان من اباحتہ ص ٢٠٣ نمبر ٥٣٧ ١١٩٩ابو داود شریف ، باب تشمیت العاطش فی الصلوة ِ س ١٤٢، نمبر ٩٣٠) اس حدیث میں یرحمک اللہ ، ک ، خطاب کے ذریعہ سے چھینک کا جواب دیا تو صحابہ نے اسکا انکار کیا اور گھور کر دیکھنے لگے ، اور حضور ۖ نے اسکو کلام شمار کر تے ہوئے فرمایا کہ نماز کلام کی صلاحیت نہیں رکھتی بلکہ ذکر کی چیز ہے ، اس سے معلوم ہوا کہ خطاب کے ساتھ چھینک کا جواب دیا تو نماز فاسد ہو گی ، اور ٫ک ، خطاب کے ساتھ جواب نہیں دیا تو اس جملے کو ذکر پر محمول کر کے نماز فاسد نہیں ہو گی ۔
ترجمہ : ١ اسلئے کہ خطاب کا جملہ ہو تو وہ لوگوںکے مخاطبات میں جاری ہو تا ہے ۔ بخلاف جبکہ چھینک کے جواب دینے والے