Deobandi Books

اثمار الہدایہ شرح اردو ہدایہ جلد 1

608 - 627
(٤٠٤)  ومن عطس فقال لہ اٰخریرحمک اللّٰہ وہو فی الصلوٰة فسدت صلاتہ)   ١   لانہ یجری فی مخاطبات الناس فکان من کلامہم بخلاف ما اذا قال العاطس اوالسامع الحمدﷲ علی ماقالوا لانہ لم یتعارف جوابًا

میںکھنکھارا تو نماز فاسد نہیں ہو گی ۔ 
اور بغیر مجبوری کے ہو تو یہ بات اور کلام کے درجے میں ہے اسلئے اس سے نماز فاسد ہوجائے گی ۔ اثر یہ ہے۔ سمع ابن عباس یقول : من نفخ فی الصلوة فقد تکلم ۔ ( مصنف عبد الرزاق ، باب النفخ فی الصلوة ، ج ثانی ، ص ١٨٩، نمبر ٣٠١٧ سنن بیھقی ، باب ما جاء فی النفخ فی موضع السجود ، ج ثانی ،ص ٣٥٨، نمبر ٣٣٦٤) اس اثر میں ہے کہ نماز میں پھونک مارنا کلام کر نے کی طرح ہے یعنی جس طرح کلام کر نے سے نماز فاسد ہو جاتی ہے اسی طرح پھونک مارنے سے بھی نماز فاسد ہو جائے گی ، اور کھنکھارنا بھی پھونک مارنے کی طرح ہے اسلئے اگر بغیرمجبوری کے کھنکھارنے سے بھی حروف اور آواز نکل جائے جس سے کوئی بات سمجھ میں آتی ہو تو نماز فاسد ہو جائے گی ، کیونکہ بات کر نے سے نماز فاسد ہوجاتی ہے ۔ 
لغت : ۔ تنحنح : کھنکھارنا ۔ عطاس : عطس سے مشتق ہے ، چھینکنا ، یا  چھینکنے کا جواب دینا ۔جشاء : ڈکار مارنا ۔ 
ترجمہ: (٤٠٤) کسی کو چھینک آئی تو دوسرے نے اسکو یرحمک اللہ ، کہا ، اور وہ نماز میں تھا تو اسکی نماز فاسد ہو جائے گی ۔
تشریح : ۔ کسی کوچھینک آئی تو دوسرے نے مخاطب کے صیغے کے ساتھ ٫ یرحمک اللہ ، کہا تو چونکہ اس میں خطاب کا  صیغہ ہے اسلئے  یہ جواب ہو گیا یہ ذکر نہیںرہا بلکہ کلام الناس ہو گیا اسلئے اس سے نماز فاسدہو جائے گی ۔ اور اگر ٫ ک ، خطاب کا صیغہ نہیںہو تا بلکہ صرف الحمد للہ ہو تا تو چونکہ وہ خطاب کا صیغہ نہیں ہے اور کلام الناس نہیں ہے اسلئے اس سے نماز فاسد نہیںہو گی ۔ 
  وجہ :  (١)عن معاویة بن حکم السلمی قال بینا انا اصلی مع رسول اللہ ۖاذ عطش رجل من القوم ، فقلت : یرحمک اللہ ! فرمانی القوم بأبصارھم ...  قال ان ھذہ الصلوة لا یصلح فیھا شیء من کلام الناس انما ھو التسبیح والتکبیر وقراء ة القرآن َ (مسلم شریف ، باب تحریم الکلام فی الصلوة و نسخ ماکان من اباحتہ ص ٢٠٣ نمبر ٥٣٧ ١١٩٩ابو داود شریف ، باب تشمیت العاطش فی الصلوة ِ س ١٤٢، نمبر ٩٣٠)  اس حدیث میں یرحمک اللہ ، ک ، خطاب کے ذریعہ سے چھینک کا جواب دیا تو صحابہ نے اسکا انکار کیا اور گھور کر دیکھنے لگے ، اور حضور ۖ نے اسکو کلام شمار کر تے ہوئے فرمایا کہ نماز کلام کی صلاحیت نہیں رکھتی بلکہ ذکر کی چیز ہے ، اس سے معلوم ہوا کہ خطاب کے ساتھ چھینک کا جواب دیا تو نماز فاسد ہو گی ، اور ٫ک ، خطاب کے ساتھ جواب نہیں دیا تو اس جملے کو ذکر پر محمول کر کے نماز فاسد نہیں ہو گی ۔ 
ترجمہ :  ١  اسلئے کہ خطاب کا جملہ ہو تو وہ لوگوںکے مخاطبات میں جاری ہو تا ہے ۔ بخلاف جبکہ چھینک کے جواب دینے والے 

x
ﻧﻤﺒﺮﻣﻀﻤﻮﻥﺻﻔﺤﮧﻭاﻟﺪ
1 فہرست 5 0
2 کتاب الطھارات 52 1
3 سنن الطھارة 62 2
4 مستحبات وضو کا بیان 71 3
5 نواقض وضو کا بیان 79 11
6 فصل فی الغسل 102 2
7 غسل کے فرائض کا بیان 102 6
8 غسل واجب ہونے کے اسباب 107 6
9 سنت غسل کا بیان 112 6
11 فصل فی نواقض الوضوئ 79 3
12 باب الماء الذی یجوز بہ الوضوء و ما لا یجوز بہ 117 2
13 پانی کے احکام 117 12
14 بڑے تالاب کا حساب ایک نظر میں 130 13
15 گول چیز ناپنے کافارمولہ 132 13
17 فصل فی البیر 155 12
18 کنویں کے مسائل 155 17
19 فصل فی الآسار 171 12
20 فصل جوٹھے اور اسکے علاوہ کے بارے میں 171 19
21 باب التیمم 193 2
23 باب المسح علی الخفین 227 2
24 باب الحیض و الاستحاضة 251 2
25 حیض کا بیان 251 24
26 فصل فی المستحاضة 270 24
27 فصل فی النفاس 276 24
28 نفاس کا بیان 276 27
29 باب الانجاس وتطھیرھا 283 2
30 نجاست ، اور اسکے پاک کرنے کا با ب 283 29
31 ہر ایک کے ناپاک ہو نے کی دلیل 297 29
33 درھم کی قسمیں تین ہیں 300 29
34 درھم کا حساب 300 29
36 فصل فی الاستنجاء 320 2
37 استنجاء کا بیان 320 36
38 کتاب الصلوة 329 1
39 باب المواقیت 329 38
40 فصل اوقات مستحب 342 39
41 فصل فی الاوقات التی تکرہ فیھا الصلوة 351 39
42 باب الاذان 362 38
43 باب شروط الصَّلٰوة التی تتقدمہا 385 38
44 باب صفة الصلوة 413 38
45 فصل فی القراء ة 496 44
46 باب الامامة 523 38
47 جماعت کا بیان 523 46
49 باب الحدث فی الصلوة 569 38
50 باب مایفسد الصلوٰة وما یکرہ فیہا 601 38
Flag Counter