(٤٠٣) وان تنحنح بغیر عذر)بان لم یکن مدفوعًا الیہ وحصل بہ الحروف ینبغی ان یفسد عندہما وان کان بعذر فہو عفوکالعطاس والجشائ)اذا حصل بہ حروف
تشریح : حضرت امام ابو یوسف نے جو قاعدہ بیان فرمایا اسکے بارے میں فرماتے ہیںکہ یہ قاعدہ مضبوط نہیں ہے ۔ اسکی وجہ یہ ہے کہ کلام الناس دو باتوں سے بنتا ہے ]١[ ایک تو یہ کہ ھجے والے حروف ہوں یعنی الف ، ب، ت ، وغیرہ حروف ہوں اور ]٢[ دوسری بات یہ ہے کہ اس سے کوئی مفہو م سمجھ میں آتا ہوتب اسکو کلام الناس کہیں گے چاہے تمام حروف حروف زوائد ہوں یا زوائد نہ ہوں ،چنانچہ کسی نے نماز میں الیوم تنساہ ، کہا ، اب اس میںتمام حروف زوائد ہیں لیکن اس میں مبتداء اور خبر ہے اور پورا جملہ ہے اور اسکا معنی بھی سمجھ میں آتا ہے اسلئے یہ کلام الناس ہو جائیگا اور نماز بھی فاسد ہو جائے گی ۔
صاحب نہایہ نے فرمایا کہ حضرت امام ابو یوسف نے یہ فرمایا ہے کہ جملہ دو حروف سے زائد کاہو تو تمام حروف زوائد ہوں تب بھی جملہ پو را ہو جاتا ہے اور اس سے نماز فاسد ہو جائے گی ، اور الیوم تنساہ ، میں تو تین حروف سے زائد ہیںاسلئے اس سے بدرجہ اولی جملہ پورا ہو جائے گا اسلئے صاحب ھدایہ کا اعتراض صحیح نہیں ہے ۔
لغت : انّ : انین سے مشتق ہے ، رونا ۔ تاوّہ : او ہ، اوہ ، کر نا ۔ وجع : درد ۔ الیوم تنساہ : آج تم اسکو بھول چکے ہو ۔ حروف الھجاء : ا، ب، ت ، ث ، وغیرہ تمام حروف کو حروف ھجاء کہتے ہیں ، جن سے جملے بنتے ہیں ۔
ترجمہ: (٤٠٣)اگر بغیر عذر کے کھنکھارا ۔ حالانکہ اسکو کھنکھارنے کی مجبوری نہیں تھی ، اور اس سے حروف پیداہو گئے تو مناسب یہ ہے کہ امام محمد اور امام ابوحنیفہ کے نزدیک نماز فاسد ہو جائے ۔اور اگر عذر کی وجہ سے ہو تو وہ معاف ہے ۔ جیسے چھینکنے اور ڈکار سے حروف پیدا ہو جائے تو معاف ہے ۔
تشریح : عذر کی وجہ سے کھنکھارا تو تینوں اماموں کے نزدیک اس سے نماز فاسد نہیں ہو گی ، وہ معاف ہے ، جس طرح چھینک آجائے اور اس سے حروف پیدا ہو جائے تو اس سے نماز نہیں ٹوٹے گی ، یا ڈکار آجائے اور اس سے آوازپیدا ہو جائے تو اس سے نماز نہیں ٹوٹے گی ۔ اور اگر کھنکھارنے کی مجبوری نہیںتھی ، اور نہ اسکی ضرورت تھی پھر بھی کھنکھار لیا اور آواز پیدا ہوگئی تو امام ابوحنیفہ اور امام محمد کے نزدیک مناسب یہ معلوم ہو تا ہے کہ نماز فاسد ہو جائے ۔
وجہ : (١)مجبوری کی وجہ سے نماز فاسد نہیںہو گی اسکی دلیل یہ حدیث ہے۔ عن عبد اللہ بن عمر قال : انکسفت الشمس علی عھد رسول اللہ ۖ فقام رسول اللہ ۖ لم یکد یرکع ....ثم نفخ فی آخرسجودہ فقال (( أف أف))( ابو داود شریف ، باب من قال یرکع رکعتین ]فی صلوة الکسوف [ ص ١٧٨، نمبر ١١٩٤) اس حدیث میںہے کہ حضور ۖ نے نماز میں پھونک ماری لیکن یہ مجبوری کی وجہ سے تھی اسلئے نماز فاسد نہیں ہو ئی اسی پر قیاس کرتے ہوئے مجبوری کے درجے