Deobandi Books

اثمار الہدایہ شرح اردو ہدایہ جلد 1

607 - 627
(٤٠٣) وان تنحنح بغیر عذر)بان لم  یکن مدفوعًا الیہ وحصل بہ الحروف ینبغی ان یفسد عندہما وان کان بعذر فہو عفوکالعطاس والجشائ)اذا حصل بہ حروف 

تشریح : حضرت امام ابو یوسف  نے جو قاعدہ بیان فرمایا  اسکے بارے میں فرماتے ہیںکہ یہ قاعدہ مضبوط نہیں ہے ۔ اسکی وجہ یہ ہے کہ کلام الناس دو باتوں سے بنتا ہے ]١[ ایک تو یہ کہ ھجے والے حروف ہوں یعنی الف ، ب، ت ، وغیرہ حروف ہوں اور ]٢[ دوسری بات یہ ہے کہ اس سے کوئی مفہو م سمجھ میں آتا ہوتب اسکو کلام الناس کہیں گے چاہے تمام حروف حروف زوائد ہوں یا زوائد نہ ہوں ،چنانچہ کسی نے نماز میں    الیوم تنساہ ، کہا ، اب اس میںتمام حروف زوائد ہیں لیکن اس میں مبتداء اور خبر ہے اور پورا جملہ ہے اور اسکا معنی بھی سمجھ میں آتا ہے اسلئے یہ کلام الناس ہو جائیگا اور نماز بھی فاسد ہو جائے گی ۔ 
صاحب نہایہ نے فرمایا کہ حضرت امام ابو یوسف  نے یہ فرمایا ہے کہ جملہ دو حروف سے زائد کاہو تو تمام حروف زوائد ہوں تب بھی جملہ پو را ہو جاتا ہے اور اس سے نماز فاسد ہو جائے گی ، اور الیوم تنساہ ، میں تو تین حروف سے زائد ہیںاسلئے اس سے بدرجہ اولی جملہ پورا ہو جائے گا اسلئے صاحب ھدایہ کا اعتراض صحیح نہیں ہے ۔
لغت :  انّ : انین سے مشتق ہے ، رونا ۔ تاوّہ : او ہ، اوہ ، کر نا ۔ وجع : درد ۔ الیوم تنساہ : آج تم اسکو بھول چکے ہو ۔ حروف الھجاء : ا، ب، ت ، ث ،  وغیرہ تمام حروف کو حروف ھجاء کہتے ہیں ، جن سے جملے بنتے ہیں ۔   
ترجمہ: (٤٠٣)اگر بغیر عذر کے کھنکھارا ۔ حالانکہ اسکو کھنکھارنے کی مجبوری نہیں تھی ، اور اس سے حروف پیداہو گئے تو مناسب یہ ہے کہ امام محمد اور امام ابوحنیفہ کے نزدیک نماز فاسد ہو جائے ۔اور اگر عذر کی وجہ سے ہو تو وہ معاف ہے ۔ جیسے چھینکنے اور ڈکار سے حروف پیدا ہو جائے تو معاف ہے ۔
تشریح :  عذر کی وجہ سے کھنکھارا تو تینوں اماموں کے نزدیک اس سے نماز فاسد نہیں ہو گی ، وہ معاف ہے ، جس طرح چھینک آجائے اور اس سے حروف پیدا ہو جائے تو اس سے نماز نہیں ٹوٹے گی ، یا ڈکار آجائے اور اس سے آوازپیدا ہو جائے تو اس سے نماز نہیں ٹوٹے گی ۔ اور اگر کھنکھارنے کی مجبوری نہیںتھی ، اور نہ اسکی ضرورت تھی پھر بھی کھنکھار لیا اور آواز پیدا ہوگئی تو امام ابوحنیفہ  اور امام محمد  کے نزدیک مناسب یہ معلوم ہو تا ہے کہ نماز فاسد ہو جائے ۔ 
وجہ : (١)مجبوری کی وجہ سے نماز فاسد نہیںہو گی اسکی دلیل یہ حدیث ہے۔ عن عبد اللہ بن عمر قال : انکسفت الشمس علی عھد رسول اللہ  ۖ فقام رسول اللہ  ۖ لم یکد یرکع ....ثم نفخ فی آخرسجودہ فقال (( أف أف))( ابو داود شریف ، باب من قال یرکع رکعتین ]فی صلوة الکسوف [ ص ١٧٨، نمبر ١١٩٤) اس حدیث میںہے کہ حضور ۖ  نے نماز میں پھونک ماری  لیکن یہ مجبوری کی وجہ سے تھی اسلئے نماز فاسد نہیں ہو ئی اسی پر قیاس کرتے ہوئے مجبوری کے درجے 

x
ﻧﻤﺒﺮﻣﻀﻤﻮﻥﺻﻔﺤﮧﻭاﻟﺪ
1 فہرست 5 0
2 کتاب الطھارات 52 1
3 سنن الطھارة 62 2
4 مستحبات وضو کا بیان 71 3
5 نواقض وضو کا بیان 79 11
6 فصل فی الغسل 102 2
7 غسل کے فرائض کا بیان 102 6
8 غسل واجب ہونے کے اسباب 107 6
9 سنت غسل کا بیان 112 6
11 فصل فی نواقض الوضوئ 79 3
12 باب الماء الذی یجوز بہ الوضوء و ما لا یجوز بہ 117 2
13 پانی کے احکام 117 12
14 بڑے تالاب کا حساب ایک نظر میں 130 13
15 گول چیز ناپنے کافارمولہ 132 13
17 فصل فی البیر 155 12
18 کنویں کے مسائل 155 17
19 فصل فی الآسار 171 12
20 فصل جوٹھے اور اسکے علاوہ کے بارے میں 171 19
21 باب التیمم 193 2
23 باب المسح علی الخفین 227 2
24 باب الحیض و الاستحاضة 251 2
25 حیض کا بیان 251 24
26 فصل فی المستحاضة 270 24
27 فصل فی النفاس 276 24
28 نفاس کا بیان 276 27
29 باب الانجاس وتطھیرھا 283 2
30 نجاست ، اور اسکے پاک کرنے کا با ب 283 29
31 ہر ایک کے ناپاک ہو نے کی دلیل 297 29
33 درھم کی قسمیں تین ہیں 300 29
34 درھم کا حساب 300 29
36 فصل فی الاستنجاء 320 2
37 استنجاء کا بیان 320 36
38 کتاب الصلوة 329 1
39 باب المواقیت 329 38
40 فصل اوقات مستحب 342 39
41 فصل فی الاوقات التی تکرہ فیھا الصلوة 351 39
42 باب الاذان 362 38
43 باب شروط الصَّلٰوة التی تتقدمہا 385 38
44 باب صفة الصلوة 413 38
45 فصل فی القراء ة 496 44
46 باب الامامة 523 38
47 جماعت کا بیان 523 46
49 باب الحدث فی الصلوة 569 38
50 باب مایفسد الصلوٰة وما یکرہ فیہا 601 38
Flag Counter