Deobandi Books

اثمار الہدایہ شرح اردو ہدایہ جلد 1

606 - 627
٢   وعن ابی یوسف ان قولہ اٰہ لم یفسد فی الحالین واوہ یفسد وقیل الاصل عندہ ان الکلمة اذا اشتملت علیٰ حرفین وہما زائدتان اواحدٰہما لاتفسدوان کانتا اصلیتین تفسد  ٣  وحروف الزوائد جمعوہا فی قولہم٫ الیوم تنساہ، ٤   وہذا لایقوی لان کلام الناس فی متفاہم  العرف یتبع وجود حروف الہجاء وافہام المعنی ویتحقق ذٰلک فی حروف کلہا زوائد

ترجمہ: ٢  حضرت امام ابو یوسف  سے منقول ہے کہ آدمی کا قول ٫اٰہ، سے دونوںحالتوں ]یعنی خشوع کی حالت اور مصیبت کی حالت [میںنماز نہیں ٹوٹے گی ۔اور ٫اوہ، سے نماز فاسد ہو جائے گی ۔۔کہا گیا ہے کہ  حضرت امام ابو یوسف  کے یہاں اصل قاعدہ یہ ہے کہ جملہ اگر دو حروف کا ہو اور دونوں حروف زوائد ہوں ، یا دونوں میںسے ایک حرف زائد ہو اور ایک حرف صحیح ہو تو نماز فاسد نہیں ہو گی ۔ اور اگر جملہ کا دونوں حروف اصلی ہوںتو نماز فاسد ہو جائے گی ۔
تشریح :  حضرت امام ابو یوسف کے یہاں یہ قاعدہ بیان کیا جاتا ہے کہ ]١[ اگر جملہ دو حروف کا ہو اور دونوں حروف زائد ہوں ]٢[ یا ایک حرف زائد ہو اور ایک حرف اصلی ہو تو نماز میں اس جملے کے نکلنے سے نماز فاسد نہیںہو گی ]٣[ اور جملے کے دونوں حروف اصلی ہوںتو نماز فاسد ہو جائے گی ]٤[ اور اگر جملہ تین حروف کا ہو چاہے وہ اصلی ہو یا زائد ہو تو اس کے نکلنے سے نماز فاسد ہو جائے گی ۔اسکی دلیل یہ بتاتے ہیں کہ۔ کلام عرب میںتین حروف سے جملہ بنتا ہے ، اسلئے تین حروف زائد ہوں یا اصلی اس سے جملہ بن جائے گا اور نماز میں اسکے نکلنے سے نماز ٹوٹ جائے گی ۔اور دو حروف اصلی ہوں تو بھی تین حروف کے درجے میں ہیں اسلئے انکے نکلنے سے بھی نماز ٹوٹ جائے گی ۔ اور دونوں حروف زائد ہوںیا ایک حرف زائد اور ایک حرف اصلی ہو تو چونکہ زائد کا اعتبار نہیںہے اسلئے جملہ نہیں بنا اسلئے اسکے نکلنے  سے نماز فاسد نہیںہو گی ۔ اس قاعدے کے اعتبار سے ٫اٰہ ، میں دو حروف ہیں اور دونوںحروف زائد ہیں اسلئے جملہ نہیں بنا اسلئے اسکے نکلنے سے نماز فاسد نہیں ہو گی ،اور ٫اوہ ، میں تین حروف ہیں اگر چہ وہ تینوں حروف زائد ہیں مگر ان سے جملہ بن گیا اسلئے اسکے نکلنے سے نماز فاسد ہو جائے گی۔
ترجمہ : ٣  حروف زوائد کو جمع کیا لوگوں کا قول ٫الیوم تنساہ ، میں۔ 
تشریح :جن حروف سے کلام عرب کے جملے بنتے ہیںان حروف میں سے دس حرفوں کو زوائد کہتے ہیں ، اور باقی حروف اصلی ہیں، ان دس حرفوں کو اوپر کا جملہ ٫ الیوم تنساہ ، میں جمع کر دیا گیا ہے وہ حروف یہ ہیں٫أ،ل،ی،و،م،ت،ن،س،ا،ہ،۔ان دس حرفوں کو حروف زوائد کہتے ہیں ۔
ترجمہ: ٤  لیکن یہ قاعدہ کوئی مضبوط نہیں ہے ، اسلئے کہ لوگوں کا کلام عرف میں تابع ہے حروف ھجاء کے پائے جانے میں اور معنی کے سمجھنے میں ، اور یہ تمام حروف زوائد ہوںتب بھی متحقق ہو جائے گا ۔ 

x
ﻧﻤﺒﺮﻣﻀﻤﻮﻥﺻﻔﺤﮧﻭاﻟﺪ
1 فہرست 5 0
2 کتاب الطھارات 52 1
3 سنن الطھارة 62 2
4 مستحبات وضو کا بیان 71 3
5 نواقض وضو کا بیان 79 11
6 فصل فی الغسل 102 2
7 غسل کے فرائض کا بیان 102 6
8 غسل واجب ہونے کے اسباب 107 6
9 سنت غسل کا بیان 112 6
11 فصل فی نواقض الوضوئ 79 3
12 باب الماء الذی یجوز بہ الوضوء و ما لا یجوز بہ 117 2
13 پانی کے احکام 117 12
14 بڑے تالاب کا حساب ایک نظر میں 130 13
15 گول چیز ناپنے کافارمولہ 132 13
17 فصل فی البیر 155 12
18 کنویں کے مسائل 155 17
19 فصل فی الآسار 171 12
20 فصل جوٹھے اور اسکے علاوہ کے بارے میں 171 19
21 باب التیمم 193 2
23 باب المسح علی الخفین 227 2
24 باب الحیض و الاستحاضة 251 2
25 حیض کا بیان 251 24
26 فصل فی المستحاضة 270 24
27 فصل فی النفاس 276 24
28 نفاس کا بیان 276 27
29 باب الانجاس وتطھیرھا 283 2
30 نجاست ، اور اسکے پاک کرنے کا با ب 283 29
31 ہر ایک کے ناپاک ہو نے کی دلیل 297 29
33 درھم کی قسمیں تین ہیں 300 29
34 درھم کا حساب 300 29
36 فصل فی الاستنجاء 320 2
37 استنجاء کا بیان 320 36
38 کتاب الصلوة 329 1
39 باب المواقیت 329 38
40 فصل اوقات مستحب 342 39
41 فصل فی الاوقات التی تکرہ فیھا الصلوة 351 39
42 باب الاذان 362 38
43 باب شروط الصَّلٰوة التی تتقدمہا 385 38
44 باب صفة الصلوة 413 38
45 فصل فی القراء ة 496 44
46 باب الامامة 523 38
47 جماعت کا بیان 523 46
49 باب الحدث فی الصلوة 569 38
50 باب مایفسد الصلوٰة وما یکرہ فیہا 601 38
Flag Counter