٢ وعن ابی یوسف ان قولہ اٰہ لم یفسد فی الحالین واوہ یفسد وقیل الاصل عندہ ان الکلمة اذا اشتملت علیٰ حرفین وہما زائدتان اواحدٰہما لاتفسدوان کانتا اصلیتین تفسد ٣ وحروف الزوائد جمعوہا فی قولہم٫ الیوم تنساہ، ٤ وہذا لایقوی لان کلام الناس فی متفاہم العرف یتبع وجود حروف الہجاء وافہام المعنی ویتحقق ذٰلک فی حروف کلہا زوائد
ترجمہ: ٢ حضرت امام ابو یوسف سے منقول ہے کہ آدمی کا قول ٫اٰہ، سے دونوںحالتوں ]یعنی خشوع کی حالت اور مصیبت کی حالت [میںنماز نہیں ٹوٹے گی ۔اور ٫اوہ، سے نماز فاسد ہو جائے گی ۔۔کہا گیا ہے کہ حضرت امام ابو یوسف کے یہاں اصل قاعدہ یہ ہے کہ جملہ اگر دو حروف کا ہو اور دونوں حروف زوائد ہوں ، یا دونوں میںسے ایک حرف زائد ہو اور ایک حرف صحیح ہو تو نماز فاسد نہیں ہو گی ۔ اور اگر جملہ کا دونوں حروف اصلی ہوںتو نماز فاسد ہو جائے گی ۔
تشریح : حضرت امام ابو یوسف کے یہاں یہ قاعدہ بیان کیا جاتا ہے کہ ]١[ اگر جملہ دو حروف کا ہو اور دونوں حروف زائد ہوں ]٢[ یا ایک حرف زائد ہو اور ایک حرف اصلی ہو تو نماز میں اس جملے کے نکلنے سے نماز فاسد نہیںہو گی ]٣[ اور جملے کے دونوں حروف اصلی ہوںتو نماز فاسد ہو جائے گی ]٤[ اور اگر جملہ تین حروف کا ہو چاہے وہ اصلی ہو یا زائد ہو تو اس کے نکلنے سے نماز فاسد ہو جائے گی ۔اسکی دلیل یہ بتاتے ہیں کہ۔ کلام عرب میںتین حروف سے جملہ بنتا ہے ، اسلئے تین حروف زائد ہوں یا اصلی اس سے جملہ بن جائے گا اور نماز میں اسکے نکلنے سے نماز ٹوٹ جائے گی ۔اور دو حروف اصلی ہوں تو بھی تین حروف کے درجے میں ہیں اسلئے انکے نکلنے سے بھی نماز ٹوٹ جائے گی ۔ اور دونوں حروف زائد ہوںیا ایک حرف زائد اور ایک حرف اصلی ہو تو چونکہ زائد کا اعتبار نہیںہے اسلئے جملہ نہیں بنا اسلئے اسکے نکلنے سے نماز فاسد نہیںہو گی ۔ اس قاعدے کے اعتبار سے ٫اٰہ ، میں دو حروف ہیں اور دونوںحروف زائد ہیں اسلئے جملہ نہیں بنا اسلئے اسکے نکلنے سے نماز فاسد نہیں ہو گی ،اور ٫اوہ ، میں تین حروف ہیں اگر چہ وہ تینوں حروف زائد ہیں مگر ان سے جملہ بن گیا اسلئے اسکے نکلنے سے نماز فاسد ہو جائے گی۔
ترجمہ : ٣ حروف زوائد کو جمع کیا لوگوں کا قول ٫الیوم تنساہ ، میں۔
تشریح :جن حروف سے کلام عرب کے جملے بنتے ہیںان حروف میں سے دس حرفوں کو زوائد کہتے ہیں ، اور باقی حروف اصلی ہیں، ان دس حرفوں کو اوپر کا جملہ ٫ الیوم تنساہ ، میں جمع کر دیا گیا ہے وہ حروف یہ ہیں٫أ،ل،ی،و،م،ت،ن،س،ا،ہ،۔ان دس حرفوں کو حروف زوائد کہتے ہیں ۔
ترجمہ: ٤ لیکن یہ قاعدہ کوئی مضبوط نہیں ہے ، اسلئے کہ لوگوں کا کلام عرف میں تابع ہے حروف ھجاء کے پائے جانے میں اور معنی کے سمجھنے میں ، اور یہ تمام حروف زوائد ہوںتب بھی متحقق ہو جائے گا ۔