١ لان فیہ اظہار الجزع والتاسف فکان من کلام الناس
جائے گی ۔
وجہ : (١)آیت میں ہے کہ مومن کے سامنے رحمن کی آیتں پڑھی جاتیں ہیںتو وہ سجدہ کر تے ہوئے رو پڑتے ہیں ، جس سے معلوم ہوا کہ سجدے میں خشوع سے رو پڑے تو نماز نہیں ٹوٹے گی ۔ آیت یہ ہے ۔ اذا تتلی علیھم آیات الرحمن خروا سجداً و بکیاً ۔( آیت نمبر٥٨، سورة مریم ١٩) (٢) حدیث میں ہے کہ حضور ۖ نماز میں رویا کر تے تھے ۔حدیث یہ ہے ۔ عن مطرف عن ابیہ قال رأیتُ رسول اللہ ۖ یصلی و فی صدرہ أزیر کأزیر الرحی من البکاء ۖ ۔ ( ابو داود شریف ، باب البکاء فی الصلوة ، ص ١٣٨، نمبر ٩٠٤ ) اس حدیث میں ہے کہ حضور ۖ نماز میں رویا کر تے تھے اور یہ جنت یا جہنم کی یاد سے رونا ہوتا تھا اسلئے اس سے نماز نہیںٹوٹتی تھی۔ (٣) حضرت ابو بکر کے بارے میںحضرت عائشہ نے فرمایا کہ وہ نماز میں اتنا روئیںگے کے لوگ اسکی قرأت بھی نہ سن سکیں گے ۔ حدیث کا ٹکڑا یہ ہے ۔عن عائشة ام الموئمنین ....قالت عائشة : قلتُ ان ابا بکر اذا قام فی مقامک لم یسمع الناس من البکاء فمر عمر فلیصل ۔ ( بخاری شریف ، ما یکرہ من التعمق و التنازع فی العلم و الغلو فی الدین و البدع ، ص ١٢٥٥، نمبر ٧٣٠٢) اس حدیث میں ہے کہ حضرت ابو بکر اتنے روئیں گے کے لوگ انکی قرأت بھی نہ سن پائیں گے ، اور یہ خشوع کی وجہ سے تھا اسلئے نماز نہیں ٹوٹے گی (٥) اس حدیث میں ہے کہ نماز کسوف میں خوف خدا سے أف أف نکل گیا پھر بھی نماز نہیں ٹوٹی ۔ حدیث یہ ہے ۔عن عبد اللہ بن عمر قال : انکسفت الشمس علی عھد رسول اللہ ۖ فقام رسول اللہ ۖ لم یکد یرکع ....ثم نفخ فی آخرسجودہ فقال (( أف أف))( ابو داود شریف ، باب من قال یرکع رکعتین ]فی صلوة الکسوف [ ص ١٧٨، نمبر ١١٩٤) اس حدیث میںہے کہ أف أف ، کہا لیکن چونکہ یہ آواز خوف خدا کی وجہ سے تھی اسلئے اس سے نماز نہیں ٹوٹی ۔
اور درد یا مصیبت کی وجہ سے رویا اور آواز نکل گئی اور حروف بھی نکل گئے تو یہ بات اور کلام کے درجے میں ہے اس لئے اس سے نماز ٹوٹ جائے گی ، کیونکہ پہلے گزر چکا ہے کہ نماز میں بات کر نے سے نماز ٹوٹ جاتی ہے ۔
ترجمہ : ١ اسلئے کہ اس میں گھبراہٹ اور افسوس کا اظہار کر نا ہے تو یہ کلام الناس میں سے ہو گیا ۔] اسلئے اس سے نماز ٹوٹ جائے گی [
تشریح : یعنی اگر درد یا مصیبت کی وجہ سے رویا اور آواز نکل گئی اور اس میںحروف بھی نکل گئے تو اس سے نماز ٹوٹ جائے گی اب دوبارہ شروع سے نماز پڑھے۔ اس لئے کہ یہ انسانی کلام ہو گیا ۔ اور پہلے گزر چکا ہے کہ انسانی کلام سے نماز ٹوٹ جاتی ہے۔