Deobandi Books

اثمار الہدایہ شرح اردو ہدایہ جلد 1

605 - 627
١    لان فیہ اظہار الجزع والتاسف فکان من کلام الناس  
 
جائے گی ۔ 
وجہ :   (١)آیت میں ہے کہ مومن کے سامنے رحمن کی آیتں پڑھی جاتیں ہیںتو وہ سجدہ کر تے ہوئے رو پڑتے ہیں ، جس سے معلوم ہوا کہ سجدے میں خشوع سے رو پڑے تو نماز نہیں ٹوٹے گی ۔ آیت یہ ہے ۔ اذا تتلی علیھم آیات الرحمن خروا سجداً و بکیاً ۔( آیت نمبر٥٨، سورة مریم ١٩) (٢) حدیث میں ہے کہ حضور ۖ نماز  میں رویا کر تے تھے ۔حدیث یہ ہے ۔ عن مطرف عن ابیہ  قال رأیتُ رسول اللہ  ۖ یصلی و فی صدرہ  أزیر کأزیر الرحی من البکاء  ۖ ۔ ( ابو داود شریف ، باب البکاء فی الصلوة ، ص ١٣٨، نمبر ٩٠٤ ) اس حدیث میں ہے کہ حضور ۖ نماز میں رویا کر تے تھے اور یہ جنت یا جہنم کی یاد سے رونا ہوتا تھا اسلئے اس سے نماز نہیںٹوٹتی تھی۔ (٣) حضرت ابو بکر  کے بارے میںحضرت عائشہ  نے فرمایا کہ وہ نماز میں اتنا روئیںگے کے لوگ اسکی قرأت بھی نہ سن سکیں گے ۔ حدیث کا ٹکڑا یہ ہے ۔عن عائشة ام الموئمنین ....قالت عائشة : قلتُ ان ابا بکر اذا قام فی مقامک لم یسمع الناس من البکاء فمر عمر فلیصل ۔ ( بخاری شریف ، ما یکرہ من التعمق و التنازع فی العلم و الغلو فی الدین و البدع ، ص ١٢٥٥، نمبر ٧٣٠٢) اس حدیث میں ہے کہ حضرت ابو بکر اتنے روئیں گے کے لوگ انکی قرأت بھی نہ سن پائیں گے ، اور یہ خشوع کی وجہ سے تھا اسلئے نماز نہیں ٹوٹے گی (٥) اس حدیث میں ہے کہ نماز کسوف میں خوف خدا سے أف أف نکل گیا پھر بھی نماز نہیں ٹوٹی ۔ حدیث یہ ہے ۔عن عبد اللہ بن عمر قال : انکسفت الشمس علی عھد رسول اللہ  ۖ فقام رسول اللہ  ۖ لم یکد یرکع ....ثم نفخ فی آخرسجودہ فقال (( أف أف))( ابو داود شریف ، باب من قال یرکع رکعتین ]فی صلوة الکسوف [ ص ١٧٨، نمبر ١١٩٤) اس حدیث میںہے کہ أف أف  ، کہا لیکن چونکہ یہ آواز خوف خدا کی وجہ سے تھی اسلئے اس سے نماز نہیں ٹوٹی ۔  
اور درد یا مصیبت کی وجہ سے رویا اور آواز نکل گئی اور حروف بھی نکل گئے تو یہ بات اور کلام کے درجے میں ہے اس لئے اس سے نماز ٹوٹ  جائے گی ، کیونکہ پہلے گزر چکا ہے کہ نماز میں بات کر نے سے نماز ٹوٹ جاتی ہے ۔ 
ترجمہ :  ١  اسلئے کہ اس میں گھبراہٹ اور افسوس کا اظہار کر نا ہے تو یہ کلام الناس میں سے ہو گیا ۔] اسلئے اس سے نماز ٹوٹ جائے گی [
تشریح :  یعنی اگر درد یا مصیبت کی وجہ سے رویا اور آواز نکل گئی اور اس میںحروف بھی نکل گئے تو اس سے نماز ٹوٹ جائے گی اب دوبارہ شروع سے نماز پڑھے۔ اس لئے کہ یہ انسانی کلام ہو گیا ۔ اور پہلے گزر چکا ہے کہ انسانی کلام سے نماز ٹوٹ جاتی ہے۔
 
x
ﻧﻤﺒﺮﻣﻀﻤﻮﻥﺻﻔﺤﮧﻭاﻟﺪ
1 فہرست 5 0
2 کتاب الطھارات 52 1
3 سنن الطھارة 62 2
4 مستحبات وضو کا بیان 71 3
5 نواقض وضو کا بیان 79 11
6 فصل فی الغسل 102 2
7 غسل کے فرائض کا بیان 102 6
8 غسل واجب ہونے کے اسباب 107 6
9 سنت غسل کا بیان 112 6
11 فصل فی نواقض الوضوئ 79 3
12 باب الماء الذی یجوز بہ الوضوء و ما لا یجوز بہ 117 2
13 پانی کے احکام 117 12
14 بڑے تالاب کا حساب ایک نظر میں 130 13
15 گول چیز ناپنے کافارمولہ 132 13
17 فصل فی البیر 155 12
18 کنویں کے مسائل 155 17
19 فصل فی الآسار 171 12
20 فصل جوٹھے اور اسکے علاوہ کے بارے میں 171 19
21 باب التیمم 193 2
23 باب المسح علی الخفین 227 2
24 باب الحیض و الاستحاضة 251 2
25 حیض کا بیان 251 24
26 فصل فی المستحاضة 270 24
27 فصل فی النفاس 276 24
28 نفاس کا بیان 276 27
29 باب الانجاس وتطھیرھا 283 2
30 نجاست ، اور اسکے پاک کرنے کا با ب 283 29
31 ہر ایک کے ناپاک ہو نے کی دلیل 297 29
33 درھم کی قسمیں تین ہیں 300 29
34 درھم کا حساب 300 29
36 فصل فی الاستنجاء 320 2
37 استنجاء کا بیان 320 36
38 کتاب الصلوة 329 1
39 باب المواقیت 329 38
40 فصل اوقات مستحب 342 39
41 فصل فی الاوقات التی تکرہ فیھا الصلوة 351 39
42 باب الاذان 362 38
43 باب شروط الصَّلٰوة التی تتقدمہا 385 38
44 باب صفة الصلوة 413 38
45 فصل فی القراء ة 496 44
46 باب الامامة 523 38
47 جماعت کا بیان 523 46
49 باب الحدث فی الصلوة 569 38
50 باب مایفسد الصلوٰة وما یکرہ فیہا 601 38
Flag Counter