(٤٠٢) فان اَنَّ فیہا اوتاوَّہ اوبکی فارتفع بکاؤہ فان کان من ذکر الجنة اوالنار لم یقطعہا) لانہ یدل علیٰ زیادة الخشوع وان کان من وجع اومصیبة قطعہا)
وضاحت فرماتے ہیں کہ السلام علیک ایھا النبی ، التحیات میں ہے اسلئے یہ ذکر ہے، اسلئے بھول کر نماز میں بولے گاتو نماز فاسد نہیں ہو گی ۔ اور اس میں ٫کم ، کا صیغہ بھی ہے جو انسان سے خطاب ہے اسلئے جانکر بولے گا تو نماز فاسد ہو جائے گی ، اس وقت یہ انسانی کلام کے مشابہ ہو جائے گا ۔
وجہ : حدیث میں یہ بھی ہے کہ نماز میں سلام کرنے سے منع فرمایا ، حدیث یہ ہے ۔عن ابی ھریرة عن النبی ۖ قال : لا غرار فی الصلوة و لا تسلیم ۔( ابوداود شریف ، باب رد السلام فی الصلوة ، ص ١٤١، نمبر ٩٢٨) اس حدیث میں ہے کہ نماز میں سلام نہیں ہے ، اس حدیث کی وجہ سے ہم کہتے ہیں کہ اگر جان کر سلام کیا تو نماز ٹوٹ جائے گی۔اور حدیث میں یہ بھی ہے کہ آپ ۖ نماز ہی میںسلام کا جوا ب دیا کر تے تھے ۔حدیث یہ ہے ۔ عن صہیب انہ قال : مررت برسول اللہ ۖ و ھو یصلی فسلمتُ علیہ ، فرد اشارة ، قال : و لا أعلمہ الا قال اشارة باصبعہ ، و ھذا لفظ حدیث قتیبة ۔ ( ابوداود شریف ، باب رد السلام فی الصلوة ، ص ١٤١، نمبر ٩٢٨) اس حدیث میں ہے کہ آپ ۖ ااشارے سے سلام کا جواب دیتے تھے ، اس حدیث سے استدلا ل کر تے ہیں کہ بھول کر سلام کر دیا تو نماز نہیں ٹوٹے گی ۔سلام کے بارے میں حنفیہ نے دونوں حدیثوں پر عمل فرمایا ۔
لغت: تکلم : کلام سے مشتق ہے ، جس آواز میںحرف ہو اور اس سے کوئی مراد سمجھ میں آتی ہو تو اسکو کلام کہتے ہیں ۔ بعض مرتبہ ایک حرف کا بھی کلام ہو جاتا ہے جیسے ٫ق، بچو ، اس سے بچنے کا مفہوم سمجھ میں آتاہے اسلئے یہ بھی کلام ہے ۔ عامداً : جان کر ۔ ساھیاً : سہو سے مشتق ہے ، بھول کر کلام کر نا خطاء : غلطی سے ، نسیان : بھول کر ۔ مفزعہ : فزع سے مشتق ہے ، پناہ لینے کی جگہ ، یہاں مراد ہے استدلال کر نے کی چیز ۔ اثم : گناہ ۔
ترجمہ: (٤٠٢) اگر نماز میںکوئی کراہا ، یا آہ کیا ، یا رو دیا اور اسکا رونا بلند ہوا ، پس اگر یہ جنت یا جہنم کے ذکر سے ہوا تو نماز نہیں ٹوٹے گی ۔ اسلئے کہ یہ خشوع کی زیادتی پر دلالت کر تی ہے ۔اور اگر کسی درد یا مصیبت کی وجہ سے ہوا تو نماز ٹوٹ جائے گی ۔
تشریح : نماز میں کراہنا ، یا آہ ،آہ کر نا ، یا رونا اگر آہستہ سے ہے جس میں آواز نہ نکلے اور حروف پیدا نہ ہو تو اس سے نماز نہیں ٹوٹے گی۔ کیونکہ بات کر نے سے اور حروف پیدا ہو نے سے نماز ٹوٹتی ہے اس سے پہلے نہیں۔ اسکی دلیل مسئلہ نمبر ٤٠١ میں گزر چکی ہے ۔ اور اگر ایسی آواز نکلی جس میں حروف بھی پیدا ہو گئے ۔ پس اگر رونے کی وجہ سے یہ آواز جنت یا جہنم کی یاد کی وجہ سے ہو ئی ہے تب بھی نماز نہیں ٹوٹے گی ، کیونکہ اس سے تو پتہ چلتا ہے کہ نماز میں خشوع اور خضوع بہت زیادہ ہو ا جسکی وجہ سے آدمی رو پڑا ، اور نماز میںخشوع خضوع مطلوب ہے اسلئے نماز نہیں ٹوٹے گی ۔اور اگر درد اور مصیبت کی وجہ سے رویا اور آواز اور حروف نکل گئے تو نماز ٹوٹ