Deobandi Books

اثمار الہدایہ شرح اردو ہدایہ جلد 1

604 - 627
 (٤٠٢) فان اَنَّ فیہا اوتاوَّہ اوبکی فارتفع بکاؤہ فان کان من ذکر الجنة اوالنار لم یقطعہا) لانہ یدل علیٰ زیادة الخشوع وان کان من وجع اومصیبة قطعہا)

وضاحت فرماتے ہیں کہ السلام  علیک ایھا النبی  ، التحیات میں ہے اسلئے یہ ذکر ہے، اسلئے بھول کر نماز میں بولے گاتو نماز فاسد نہیں ہو گی ۔ اور اس میں ٫کم ، کا صیغہ بھی ہے جو انسان سے خطاب ہے اسلئے جانکر بولے گا تو نماز فاسد ہو جائے گی ، اس وقت یہ انسانی کلام کے مشابہ ہو جائے گا ۔ 
وجہ :  حدیث میں یہ بھی ہے کہ  نماز میں سلام کرنے سے منع فرمایا ، حدیث یہ ہے ۔عن ابی ھریرة عن النبی  ۖ قال : لا غرار فی الصلوة و لا تسلیم ۔( ابوداود شریف ، باب رد السلام فی الصلوة ، ص ١٤١، نمبر ٩٢٨) اس حدیث میں ہے کہ نماز میں سلام نہیں ہے ، اس حدیث کی وجہ سے ہم کہتے ہیں کہ اگر جان کر سلام کیا تو نماز ٹوٹ جائے گی۔اور حدیث میں یہ بھی ہے کہ آپ ۖ نماز ہی میںسلام کا جوا ب دیا کر تے تھے ۔حدیث یہ ہے ۔ عن صہیب انہ قال : مررت برسول اللہ  ۖ و ھو یصلی فسلمتُ علیہ ، فرد اشارة ، قال : و لا أعلمہ الا قال اشارة باصبعہ ، و ھذا لفظ حدیث قتیبة ۔ ( ابوداود شریف ، باب رد السلام فی الصلوة ، ص ١٤١، نمبر ٩٢٨) اس حدیث میں ہے کہ آپ ۖ ااشارے سے سلام کا جواب دیتے تھے ، اس حدیث سے استدلا ل کر تے  ہیں کہ بھول کر سلام کر دیا تو نماز نہیں ٹوٹے گی ۔سلام کے بارے میں حنفیہ نے دونوں حدیثوں پر عمل فرمایا ۔ 
لغت: تکلم : کلام سے مشتق ہے ، جس آواز میںحرف ہو اور اس سے کوئی مراد سمجھ میں آتی ہو تو اسکو کلام کہتے ہیں ۔ بعض مرتبہ ایک حرف کا بھی کلام ہو جاتا ہے جیسے ٫ق، بچو ، اس سے بچنے کا مفہوم سمجھ میں آتاہے اسلئے یہ بھی کلام ہے ۔ عامداً : جان کر ۔ ساھیاً : سہو سے مشتق ہے ، بھول کر کلام کر نا خطاء : غلطی سے ، نسیان : بھول کر ۔ مفزعہ : فزع سے مشتق ہے  ، پناہ لینے کی جگہ ، یہاں مراد ہے استدلال کر نے کی چیز ۔ اثم : گناہ ۔  
ترجمہ: (٤٠٢)  اگر نماز میںکوئی کراہا ، یا آہ کیا ، یا رو دیا اور اسکا رونا بلند ہوا ، پس اگر یہ جنت یا جہنم کے ذکر سے  ہوا تو نماز نہیں ٹوٹے گی ۔   اسلئے کہ یہ خشوع کی زیادتی پر دلالت کر تی ہے ۔اور اگر کسی درد یا مصیبت کی وجہ سے ہوا تو  نماز ٹوٹ جائے گی ۔ 
تشریح :  نماز میں کراہنا ، یا آہ ،آہ کر نا ، یا رونا اگر آہستہ سے ہے جس میں آواز نہ نکلے اور حروف پیدا نہ ہو تو اس سے نماز نہیں ٹوٹے گی۔ کیونکہ بات کر نے سے اور حروف پیدا ہو نے سے نماز ٹوٹتی ہے اس سے پہلے نہیں۔ اسکی دلیل مسئلہ نمبر ٤٠١ میں گزر چکی ہے ۔ اور اگر ایسی آواز نکلی جس میں حروف بھی پیدا ہو گئے ۔ پس اگر رونے کی وجہ سے یہ آواز جنت یا جہنم کی یاد کی وجہ سے ہو ئی ہے تب بھی نماز نہیں ٹوٹے گی ، کیونکہ اس سے تو پتہ چلتا ہے کہ نماز میں خشوع اور خضوع بہت زیادہ ہو ا جسکی وجہ سے آدمی رو پڑا ، اور نماز میںخشوع خضوع مطلوب ہے اسلئے نماز نہیں ٹوٹے گی ۔اور اگر درد اور مصیبت کی وجہ سے رویا اور آواز اور حروف نکل گئے تو نماز ٹوٹ 

x
ﻧﻤﺒﺮﻣﻀﻤﻮﻥﺻﻔﺤﮧﻭاﻟﺪ
1 فہرست 5 0
2 کتاب الطھارات 52 1
3 سنن الطھارة 62 2
4 مستحبات وضو کا بیان 71 3
5 نواقض وضو کا بیان 79 11
6 فصل فی الغسل 102 2
7 غسل کے فرائض کا بیان 102 6
8 غسل واجب ہونے کے اسباب 107 6
9 سنت غسل کا بیان 112 6
11 فصل فی نواقض الوضوئ 79 3
12 باب الماء الذی یجوز بہ الوضوء و ما لا یجوز بہ 117 2
13 پانی کے احکام 117 12
14 بڑے تالاب کا حساب ایک نظر میں 130 13
15 گول چیز ناپنے کافارمولہ 132 13
17 فصل فی البیر 155 12
18 کنویں کے مسائل 155 17
19 فصل فی الآسار 171 12
20 فصل جوٹھے اور اسکے علاوہ کے بارے میں 171 19
21 باب التیمم 193 2
23 باب المسح علی الخفین 227 2
24 باب الحیض و الاستحاضة 251 2
25 حیض کا بیان 251 24
26 فصل فی المستحاضة 270 24
27 فصل فی النفاس 276 24
28 نفاس کا بیان 276 27
29 باب الانجاس وتطھیرھا 283 2
30 نجاست ، اور اسکے پاک کرنے کا با ب 283 29
31 ہر ایک کے ناپاک ہو نے کی دلیل 297 29
33 درھم کی قسمیں تین ہیں 300 29
34 درھم کا حساب 300 29
36 فصل فی الاستنجاء 320 2
37 استنجاء کا بیان 320 36
38 کتاب الصلوة 329 1
39 باب المواقیت 329 38
40 فصل اوقات مستحب 342 39
41 فصل فی الاوقات التی تکرہ فیھا الصلوة 351 39
42 باب الاذان 362 38
43 باب شروط الصَّلٰوة التی تتقدمہا 385 38
44 باب صفة الصلوة 413 38
45 فصل فی القراء ة 496 44
46 باب الامامة 523 38
47 جماعت کا بیان 523 46
49 باب الحدث فی الصلوة 569 38
50 باب مایفسد الصلوٰة وما یکرہ فیہا 601 38
Flag Counter