Deobandi Books

اثمار الہدایہ شرح اردو ہدایہ جلد 1

603 - 627
٢  ولنا قولہ علیہ السلام ان صلاتنا ہٰذہ لایصلح فیہا شیٔ من کلام الناس وانما ہی التسبیح والتہلیل وقراء ة القراٰن ٣   وما رواہ محمول علیٰ رفع الاثم ٤   بخلاف السلام ساہیا لانہ من الاذکار فیعتبر ذکرا فی حالة النسیان وکلامًا فی حالة التعمد لما فیہ  ٫کاف، الخطاب

ہو۔اشارے سے سلام کا جواب دینے کی ممانعت اس حدیث میں ہے۔ عن جابر بن سمرة قال کنا اذا صلینا مع رسول اللہ ۖ قلنا السلام علیکم ورحمة اللہ ،السلام علیکم ورحمة اللہ واشار بیدہ الی الجانبین فقال رسول اللہ ۖ علام تؤمون بایدیکم کانھا اذناب خیل شمس انما یکفی احدکم ای یضع یدہ علی فخذہ ثم یسلم علی اخیہ من علی یمینہ و شمالہ ۔ (مسلم شریف ، باب الامر بالسکون فی الصلوة والنہی عن الاشارة بیدہ الخ ص ١٨١ نمبر ٤٣١ ٩٧٠ ابو داؤد شریف ، باب رد السلام فی الصلوة ص ١٤٠ نمبر ٩٢٣) اس حدیث سے معلوم ہوا کہ ہاتھ کے اشارے سے بھی سلام کا جواب نہیں دینا چاہئے  ۔
 ترجمہ: ٢  اور ہماری دلیل حضور علیہ السلام کا قول : کہ ہماری یہ نماز انسان کے کلام کی صلاحیت نہیں رکھتی ، نماز صرف تسبیح ، تھلیل ، اور قرأت قرآن کا نام ہے ۔ ۔ یہ حدیث اوپر گزر گئی  ۔ عن معاویة بن حکم السلمی قال بینا انا اصلی مع رسول اللہ ۖ ... ثم قال ان ھذہ الصلوة لا یصلح فیھا شیء من کلام الناس انما ھو التسبیح والتکبیر وقراء ة القرآن َ (مسلم شریف ، باب تحریم الکلام فی الصلوة و نسخ ماکان من اباحتہ ص ٢٠٣ نمبر ٥٣٧ ١١٩٩) اس حدیث سے معلوم ہوا کہ نماز لوگوں کے کلام کی کچھ بھی صلاحیت نہیں رکھتی۔
ترجمہ:  ٣  اور جو امام شافعی  نے حدیث پیش کی اسکا مطلب یہ ہے کہ وہ گناہ کے نہ ہو نے پر محمول ہے ۔ 
تشریح :  حضرت امام شافعی نے حدیث پیش کی تھی جس میں تھا کہ میری امت سے خطاء اور نسیان اٹھا لی گئی ہے ۔ اسکا جواب دے رہے ہیں کہ اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ آخرت میں خطاء اور نسیان کی سزا نہیں ہو گی اور اسکا گناہ نہیں ہو گا، لیکن دنیا میں اسکا اثر ہو گا ، اور غلطی سے کسی نے نماز میں بات کی یا بھول کرکسی نے بات کی تو نماز ٹوٹ جائے گی ، کیونکہ حدیث میں یہی ہے ۔
ترجمہ: ٤  بخلاف بھول کر سلام کے اسلئے کہ وہ ذکر میںسے ہے ، اسلئے بھول کی حالت میں سلام کو ذکر سمجھا جائے گا اور جان کر سلام کر نے کی حالت میں اسکو کلام سمجھا جائے گا ، اسلئے کہ ٫ اسلام علیکم ، میں ٫کم ، خطاب کا صیغہ ہے ۔  
تشریح : یہ ایک مسئلے کی وضاحت ہے ۔ مسئلہ نمبر ٣٩٣ میںگزرا کہ سلام سے نماز فاسد نہیںہو گی ۔ مسئلہ یہ ہے کہ نماز کے درمیان السلام علیکم ، جان کر کہے تو نماز فاسد ہو گی اور اگر بھول کر٫ السلام علیکم ، کہے تو نماز فاسد نہیں ہو گی ۔ پس اگر یہ کلام ہے تو جان کر اور بھول کر دونوںصورتوں میںنماز فاسد ہو نی چاہئے ، اور اگر ذکر ہے تو جان کر بولنے سے بھی نماز فاسد نہیں ہو نی چاہئے ۔ اسلئے اسکی 

x
ﻧﻤﺒﺮﻣﻀﻤﻮﻥﺻﻔﺤﮧﻭاﻟﺪ
1 فہرست 5 0
2 کتاب الطھارات 52 1
3 سنن الطھارة 62 2
4 مستحبات وضو کا بیان 71 3
5 نواقض وضو کا بیان 79 11
6 فصل فی الغسل 102 2
7 غسل کے فرائض کا بیان 102 6
8 غسل واجب ہونے کے اسباب 107 6
9 سنت غسل کا بیان 112 6
11 فصل فی نواقض الوضوئ 79 3
12 باب الماء الذی یجوز بہ الوضوء و ما لا یجوز بہ 117 2
13 پانی کے احکام 117 12
14 بڑے تالاب کا حساب ایک نظر میں 130 13
15 گول چیز ناپنے کافارمولہ 132 13
17 فصل فی البیر 155 12
18 کنویں کے مسائل 155 17
19 فصل فی الآسار 171 12
20 فصل جوٹھے اور اسکے علاوہ کے بارے میں 171 19
21 باب التیمم 193 2
23 باب المسح علی الخفین 227 2
24 باب الحیض و الاستحاضة 251 2
25 حیض کا بیان 251 24
26 فصل فی المستحاضة 270 24
27 فصل فی النفاس 276 24
28 نفاس کا بیان 276 27
29 باب الانجاس وتطھیرھا 283 2
30 نجاست ، اور اسکے پاک کرنے کا با ب 283 29
31 ہر ایک کے ناپاک ہو نے کی دلیل 297 29
33 درھم کی قسمیں تین ہیں 300 29
34 درھم کا حساب 300 29
36 فصل فی الاستنجاء 320 2
37 استنجاء کا بیان 320 36
38 کتاب الصلوة 329 1
39 باب المواقیت 329 38
40 فصل اوقات مستحب 342 39
41 فصل فی الاوقات التی تکرہ فیھا الصلوة 351 39
42 باب الاذان 362 38
43 باب شروط الصَّلٰوة التی تتقدمہا 385 38
44 باب صفة الصلوة 413 38
45 فصل فی القراء ة 496 44
46 باب الامامة 523 38
47 جماعت کا بیان 523 46
49 باب الحدث فی الصلوة 569 38
50 باب مایفسد الصلوٰة وما یکرہ فیہا 601 38
Flag Counter