٢ ولنا قولہ علیہ السلام ان صلاتنا ہٰذہ لایصلح فیہا شیٔ من کلام الناس وانما ہی التسبیح والتہلیل وقراء ة القراٰن ٣ وما رواہ محمول علیٰ رفع الاثم ٤ بخلاف السلام ساہیا لانہ من الاذکار فیعتبر ذکرا فی حالة النسیان وکلامًا فی حالة التعمد لما فیہ ٫کاف، الخطاب
ہو۔اشارے سے سلام کا جواب دینے کی ممانعت اس حدیث میں ہے۔ عن جابر بن سمرة قال کنا اذا صلینا مع رسول اللہ ۖ قلنا السلام علیکم ورحمة اللہ ،السلام علیکم ورحمة اللہ واشار بیدہ الی الجانبین فقال رسول اللہ ۖ علام تؤمون بایدیکم کانھا اذناب خیل شمس انما یکفی احدکم ای یضع یدہ علی فخذہ ثم یسلم علی اخیہ من علی یمینہ و شمالہ ۔ (مسلم شریف ، باب الامر بالسکون فی الصلوة والنہی عن الاشارة بیدہ الخ ص ١٨١ نمبر ٤٣١ ٩٧٠ ابو داؤد شریف ، باب رد السلام فی الصلوة ص ١٤٠ نمبر ٩٢٣) اس حدیث سے معلوم ہوا کہ ہاتھ کے اشارے سے بھی سلام کا جواب نہیں دینا چاہئے ۔
ترجمہ: ٢ اور ہماری دلیل حضور علیہ السلام کا قول : کہ ہماری یہ نماز انسان کے کلام کی صلاحیت نہیں رکھتی ، نماز صرف تسبیح ، تھلیل ، اور قرأت قرآن کا نام ہے ۔ ۔ یہ حدیث اوپر گزر گئی ۔ عن معاویة بن حکم السلمی قال بینا انا اصلی مع رسول اللہ ۖ ... ثم قال ان ھذہ الصلوة لا یصلح فیھا شیء من کلام الناس انما ھو التسبیح والتکبیر وقراء ة القرآن َ (مسلم شریف ، باب تحریم الکلام فی الصلوة و نسخ ماکان من اباحتہ ص ٢٠٣ نمبر ٥٣٧ ١١٩٩) اس حدیث سے معلوم ہوا کہ نماز لوگوں کے کلام کی کچھ بھی صلاحیت نہیں رکھتی۔
ترجمہ: ٣ اور جو امام شافعی نے حدیث پیش کی اسکا مطلب یہ ہے کہ وہ گناہ کے نہ ہو نے پر محمول ہے ۔
تشریح : حضرت امام شافعی نے حدیث پیش کی تھی جس میں تھا کہ میری امت سے خطاء اور نسیان اٹھا لی گئی ہے ۔ اسکا جواب دے رہے ہیں کہ اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ آخرت میں خطاء اور نسیان کی سزا نہیں ہو گی اور اسکا گناہ نہیں ہو گا، لیکن دنیا میں اسکا اثر ہو گا ، اور غلطی سے کسی نے نماز میں بات کی یا بھول کرکسی نے بات کی تو نماز ٹوٹ جائے گی ، کیونکہ حدیث میں یہی ہے ۔
ترجمہ: ٤ بخلاف بھول کر سلام کے اسلئے کہ وہ ذکر میںسے ہے ، اسلئے بھول کی حالت میں سلام کو ذکر سمجھا جائے گا اور جان کر سلام کر نے کی حالت میں اسکو کلام سمجھا جائے گا ، اسلئے کہ ٫ اسلام علیکم ، میں ٫کم ، خطاب کا صیغہ ہے ۔
تشریح : یہ ایک مسئلے کی وضاحت ہے ۔ مسئلہ نمبر ٣٩٣ میںگزرا کہ سلام سے نماز فاسد نہیںہو گی ۔ مسئلہ یہ ہے کہ نماز کے درمیان السلام علیکم ، جان کر کہے تو نماز فاسد ہو گی اور اگر بھول کر٫ السلام علیکم ، کہے تو نماز فاسد نہیں ہو گی ۔ پس اگر یہ کلام ہے تو جان کر اور بھول کر دونوںصورتوں میںنماز فاسد ہو نی چاہئے ، اور اگر ذکر ہے تو جان کر بولنے سے بھی نماز فاسد نہیں ہو نی چاہئے ۔ اسلئے اسکی