Deobandi Books

اثمار الہدایہ شرح اردو ہدایہ جلد 1

60 - 627
٢ وھوحجة علی الشافعی فی التقدیربثلث شعرات۔ ٣  و علی مالک  فی اشتراط الاستیعاب۔ 
 
میں چوتھائی سر منڈوا دے تو دم لازم ہوتا ہے۔ جس طرح پورے سر منڈوانے سے دم لازم ہوتا ہے۔ تو ان مقامات پر چوتھائی کل کے قائم مقام ہے اسی طرح سر کے مسح میں بھی چوتھائی پورے سر کے قائم مقام ہوگا(٤) قاعدہ یہ ہے کہ ب حرف جر آلہ پر داخل ہوتو اس کا بعض مراد ہوگا اور محل کا کل، اور محل پر داخل ہوتو محل کا بعض مراد ہوگا ۔یہاں ب سر ، محل پر داخل ہے اس لئے سر کا بعض حصہ مراد ہوگا کہ بعض سر کا مسح کرنا کافی ہوگا۔کتاب یعنی آیت مجمل ہے اور حدیث اسکا بیان  ۔اسلئے حدیث کی بناء پر چو تھائی سر سے کم پر مسح جائز نہیں  ہونا چاہئے ۔
 ترجمہ :  ٢  اور یہ حدیث امام شافعی  پر حجت ہے تین بالوں کے متعین کر نے میں ۔
 تشریح  :  امام شافعی کے نزدیک چندبا ل پر مسح کرنے سے فرض کی ادائیگی ہو جائے گی۔  امام  شافعی  کی ''کتاب الام ''میں عبارت اس طرح ہے : قال الشافعی  اذا مسح الرجل بأی رأسہ شائان کان لا شعر علیھا ،و بأشعر رأسہ شاء ،باصبع واحدة ،او بعض اصبع ،(کتاب الام ،باب مسح الرأس ، ج اول ، ص  ١١١ نمبر ٣٩٠ ) کہ کوئی بال بھی چھو لے تو مسح ہو جائے گا ۔
وجہ :وہ فرماتے ہیں کہ'' مسلم شریف '' کی حدیث تھی کہ پیشانی کے بال پراور عمامے پر مسح فرمایا  تو ظاہر ہے کہ کچھ بال ہی تھے جن پر مسح فرمایا چوتھائی سر تو نہیں ہو سکتا ہے اسلئے سر کے کچھ حصے پر مسح کر لینے سے فرض کی ادائیگی ہو جائے گی اور پورے سر پر مسح کرنا سنت ہو گا َ۔حدیث کی عبارت یہ تھی و مسح بناصیتہ و علی العمامة ۔(مسلم نمبر ٦٣٣  ابوداود نمبر ١٥٠ ) ہمارے جواب کا حاصل یہ ہے کہ پیشانی پر مسح اور سر کے اگلے حصے پر مسح والی دونوں حدیثوں کو ملانے سے یہی اندازہ ہوتا ہے کہ ایک دو بال کو مسح نہیں کہا جائے گا بلکہ مسح یعنی پونچھنے کا مطلب یہی ہوگا کہ سر کا کچھ اہم حصہ ہونا چاہئے جو چوتھائی کے قریب ہے۔  
 ترجمہ :  ٣  اور امام مالک  پر حجت ہے پورے سر کو گھیرنے کی شرط لگانے میں ۔
  تشریح :  امام مالک فرماتے ہیں کہ پورے سر کا مسح کرنا فرض ہے ۔ وہ ان احادیث سے استدلال کرتے ہیں جن میں پورے سر پر مسح کرنا ثابت ہے ۔ وہ یہ ہیں۔ عن عبد اللہ بن زید...ثم مسح رأسہ بیدیہ فاقبل بھما وادبر بدأ بمقدم رأسہ حتی ذھب بہما الی قفاہ ثم ردھما الی المکان الذی بدا منہ۔  (بخا  ری  شریف ،باب مسح الرأس کلہ ،ص ٣١ نمبر ١٨٥ ابوداود شریف ،باب صفة وضوء النبی  ۖ ،ص ١٦ نمبر ١١٨)  اس حدیث سے معلوم ہوا کہ پورے سر پر مسح کرنا ضروری ہے تب ہی تو آپ ۖ نے پورے سر پر مسح فرمایا ۔
  ہم اس کا جواب دیتے ہیں کہ یہ احادیث سنیت پر محمول ہیں۔ اور ہم بھی ایک مرتبہ پورے سرپر مسح کرنا سنت قرار دیتے ہیں ۔اگر 

x
ﻧﻤﺒﺮﻣﻀﻤﻮﻥﺻﻔﺤﮧﻭاﻟﺪ
1 فہرست 5 0
2 کتاب الطھارات 52 1
3 سنن الطھارة 62 2
4 مستحبات وضو کا بیان 71 3
5 نواقض وضو کا بیان 79 11
6 فصل فی الغسل 102 2
7 غسل کے فرائض کا بیان 102 6
8 غسل واجب ہونے کے اسباب 107 6
9 سنت غسل کا بیان 112 6
11 فصل فی نواقض الوضوئ 79 3
12 باب الماء الذی یجوز بہ الوضوء و ما لا یجوز بہ 117 2
13 پانی کے احکام 117 12
14 بڑے تالاب کا حساب ایک نظر میں 130 13
15 گول چیز ناپنے کافارمولہ 132 13
17 فصل فی البیر 155 12
18 کنویں کے مسائل 155 17
19 فصل فی الآسار 171 12
20 فصل جوٹھے اور اسکے علاوہ کے بارے میں 171 19
21 باب التیمم 193 2
23 باب المسح علی الخفین 227 2
24 باب الحیض و الاستحاضة 251 2
25 حیض کا بیان 251 24
26 فصل فی المستحاضة 270 24
27 فصل فی النفاس 276 24
28 نفاس کا بیان 276 27
29 باب الانجاس وتطھیرھا 283 2
30 نجاست ، اور اسکے پاک کرنے کا با ب 283 29
31 ہر ایک کے ناپاک ہو نے کی دلیل 297 29
33 درھم کی قسمیں تین ہیں 300 29
34 درھم کا حساب 300 29
36 فصل فی الاستنجاء 320 2
37 استنجاء کا بیان 320 36
38 کتاب الصلوة 329 1
39 باب المواقیت 329 38
40 فصل اوقات مستحب 342 39
41 فصل فی الاوقات التی تکرہ فیھا الصلوة 351 39
42 باب الاذان 362 38
43 باب شروط الصَّلٰوة التی تتقدمہا 385 38
44 باب صفة الصلوة 413 38
45 فصل فی القراء ة 496 44
46 باب الامامة 523 38
47 جماعت کا بیان 523 46
49 باب الحدث فی الصلوة 569 38
50 باب مایفسد الصلوٰة وما یکرہ فیہا 601 38
Flag Counter