٢ وھوحجة علی الشافعی فی التقدیربثلث شعرات۔ ٣ و علی مالک فی اشتراط الاستیعاب۔
میں چوتھائی سر منڈوا دے تو دم لازم ہوتا ہے۔ جس طرح پورے سر منڈوانے سے دم لازم ہوتا ہے۔ تو ان مقامات پر چوتھائی کل کے قائم مقام ہے اسی طرح سر کے مسح میں بھی چوتھائی پورے سر کے قائم مقام ہوگا(٤) قاعدہ یہ ہے کہ ب حرف جر آلہ پر داخل ہوتو اس کا بعض مراد ہوگا اور محل کا کل، اور محل پر داخل ہوتو محل کا بعض مراد ہوگا ۔یہاں ب سر ، محل پر داخل ہے اس لئے سر کا بعض حصہ مراد ہوگا کہ بعض سر کا مسح کرنا کافی ہوگا۔کتاب یعنی آیت مجمل ہے اور حدیث اسکا بیان ۔اسلئے حدیث کی بناء پر چو تھائی سر سے کم پر مسح جائز نہیں ہونا چاہئے ۔
ترجمہ : ٢ اور یہ حدیث امام شافعی پر حجت ہے تین بالوں کے متعین کر نے میں ۔
تشریح : امام شافعی کے نزدیک چندبا ل پر مسح کرنے سے فرض کی ادائیگی ہو جائے گی۔ امام شافعی کی ''کتاب الام ''میں عبارت اس طرح ہے : قال الشافعی اذا مسح الرجل بأی رأسہ شائان کان لا شعر علیھا ،و بأشعر رأسہ شاء ،باصبع واحدة ،او بعض اصبع ،(کتاب الام ،باب مسح الرأس ، ج اول ، ص ١١١ نمبر ٣٩٠ ) کہ کوئی بال بھی چھو لے تو مسح ہو جائے گا ۔
وجہ :وہ فرماتے ہیں کہ'' مسلم شریف '' کی حدیث تھی کہ پیشانی کے بال پراور عمامے پر مسح فرمایا تو ظاہر ہے کہ کچھ بال ہی تھے جن پر مسح فرمایا چوتھائی سر تو نہیں ہو سکتا ہے اسلئے سر کے کچھ حصے پر مسح کر لینے سے فرض کی ادائیگی ہو جائے گی اور پورے سر پر مسح کرنا سنت ہو گا َ۔حدیث کی عبارت یہ تھی و مسح بناصیتہ و علی العمامة ۔(مسلم نمبر ٦٣٣ ابوداود نمبر ١٥٠ ) ہمارے جواب کا حاصل یہ ہے کہ پیشانی پر مسح اور سر کے اگلے حصے پر مسح والی دونوں حدیثوں کو ملانے سے یہی اندازہ ہوتا ہے کہ ایک دو بال کو مسح نہیں کہا جائے گا بلکہ مسح یعنی پونچھنے کا مطلب یہی ہوگا کہ سر کا کچھ اہم حصہ ہونا چاہئے جو چوتھائی کے قریب ہے۔
ترجمہ : ٣ اور امام مالک پر حجت ہے پورے سر کو گھیرنے کی شرط لگانے میں ۔
تشریح : امام مالک فرماتے ہیں کہ پورے سر کا مسح کرنا فرض ہے ۔ وہ ان احادیث سے استدلال کرتے ہیں جن میں پورے سر پر مسح کرنا ثابت ہے ۔ وہ یہ ہیں۔ عن عبد اللہ بن زید...ثم مسح رأسہ بیدیہ فاقبل بھما وادبر بدأ بمقدم رأسہ حتی ذھب بہما الی قفاہ ثم ردھما الی المکان الذی بدا منہ۔ (بخا ری شریف ،باب مسح الرأس کلہ ،ص ٣١ نمبر ١٨٥ ابوداود شریف ،باب صفة وضوء النبی ۖ ،ص ١٦ نمبر ١١٨) اس حدیث سے معلوم ہوا کہ پورے سر پر مسح کرنا ضروری ہے تب ہی تو آپ ۖ نے پورے سر پر مسح فرمایا ۔
ہم اس کا جواب دیتے ہیں کہ یہ احادیث سنیت پر محمول ہیں۔ اور ہم بھی ایک مرتبہ پورے سرپر مسح کرنا سنت قرار دیتے ہیں ۔اگر